میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کرپشن کا نیا دھماکا، چار بینکوں کی غیر قانونی تعمیرات بے نقاب

سندھ بلڈنگ، کرپشن کا نیا دھماکا، چار بینکوں کی غیر قانونی تعمیرات بے نقاب

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۷ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

منظور شدہ نقشے ، این او سی، فائر سیفٹی کلیئرنس اور پارکنگ قوانین کے بغیر تعمیرات جاری
بینک وینڈرز کو مبینہ جعلی دستاویزات فراہم کرنے کا انکشاف، بلڈنگ افسران کی سرپرستی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایک بار پھر مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی تعمیرات کے سنگین الزامات کی زد میں آ گئی ہے ۔ ضلع جنوبی کے صدر ٹاؤن زون ون میں چار مختلف بینکوں کی تعمیرات مبینہ طور پر قانونی منظوری، این او سی اور دیگر لازمی تقاضے پورے کیے بغیر جاری ہیں، جس پر شہری حلقوں اور قانونی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو کی مبینہ چشم پوشی اور ڈائریکٹر ضلع جنوبی نیاز لغاری کی مبینہ سرپرستی میں متعدد بینکوں کو قواعد و ضوابط کے برعکس زبانی اجازت دی گئی۔ شیٹ نمبر HV-2، کے پلاٹ نمبر 61,شیٹ نمبر BR-5،پلاٹ نمبر 41,شیٹ نمبر GK-4 پلاٹ نمبر 53 اور شیٹ نمبر RC-1پلاٹ نمبر 1پر قائم کیے جانے والے بینکوں کے نقشے ، کمرشل کنورژن، پارکنگ قوانین، فائر سیفٹی کلیئرنس اور دیگر قانونی تقاضے مکمل نہ ہونے کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔مزید برآں یہ سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بینک وینڈرز کو اسٹیٹ بینک میں جمع کرانے کے لیے ایس بی سی اے کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات فراہم کی گئی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979، سندھ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز اور فائر سیفٹی قوانین کے تحت کسی بھی کمرشل عمارت کے لیے منظور شدہ پلان، این او سی، پارکنگ اسپیس، فائر اینڈ سیفٹی کلیئرنس اور اسٹرکچرل اسٹیبلٹی سرٹیفکیٹ لازمی ہوتے ہیں، جبکہ ان شرائط کے بغیر تعمیرات نہ صرف غیر قانونی بلکہ عوامی جان و مال کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ بینکوں کی تعمیرات، متعلقہ افسران کے کردار اور مبینہ جعلی دستاویزات کے معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے اتھارٹی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں