منتخب ارکان اسمبلی کی ایوان سے غیر حاضری
شیئر کریں
فافن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ہمارے منتخب ارکان اسمبلی ایوان میں حاضری کو غیر ضروری تصور کرنے لگے ہیں۔ رپورٹ
میں دئے گئے اعدادوشمارکے مطابق ایوان کے 27ویں اجلاس کی تمام 9 نشستوں یا اجلاسوں میں 333 میں سے صرف 66 ارکان نے شرکت کی۔ اگر کوئی تنخواہ دار ملازم اتنے دن کام سے غیر حاضر رہے تو غالباً چند ماہ کے اندر اسے ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ لیکن عوام کی نمائندگی کے لیے منتخب اور تنخواہ پانے والے قانون ساز بظاہر کہیں زیادہ نرم معیار کے تحت کام کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں حاضری سے متعلق فافن کی یہ تازہ رپورٹ ہمارے منتخب ارکان اسمبلی کی کارکردگی کی ایک افسوسناک تصویر پیش کرتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر حاضری کوئی استثنیٰ نہیں بلکہ ایک مستقل رجحان بن چکی ہے۔ اس حوالے سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ 33 ارکانِ قومی اسمبلی اجلاس کی 9 نشستوں یا اجلاسوں میں سے کسی ایک میں بھی ایک دفعہ بھی حاضر نہیں ہوئے۔ عام ملازمت میں ایسی غیر حاضری کو فرائض سے دستبرداری تصور کیا جاتا ہے، لیکن پارلیمان میں اسے محض ایک اعداد و شمار کے طور پر لیا جاتا ہے۔یہ کوئی معمولی انتظامی مسئلہ نہیں ہے۔
اجلاسوں میں شرکت کرنا وہ بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لیے قانون ساز منتخب کیے جاتے ہیں۔عوام انہیں ووٹ دے کر پارلیمان میں صرف طاقت کا مظاہرہ کرنے، سیاسی جلسوں میں شرکت کرنے، اثر و رسوخ بڑھانے یا اپنے حلقوں میں طاقت کے مراکز بننے کے لیے نہیں بھیجتے بلکہ انہیں قانون سازی میں حصہ لینے، قومی مسائل پر بحث کرنے، وزرا سے سوالات پوچھنے، کمیٹیوں میں کام کرنے اور اپنے ووٹروں کے خیالات کی نمائندگی کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ جب 80 فیصد ارکان کم از کم ایک اجلاس سے غیر حاضر رہیں، اور ان میں سے بہت سے باقاعدہ رخصت کی درخواست بھی جمع نہ کروائیں، تو مسئلہ واضح طور پر ادارہ جاتی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔20 فی صد یہ اُن قانون سازوں کا تناسب ہے جن کی اپنے پیشے سے وابستگی اُس وقت سے ظاہر ہوتی ہے جو وہ اس کے لیے مختص کرتے ہیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق، قومی اسمبلی کے 27ویں اجلاس کی تمام نو نشستوں میں 333 میں سے صرف 66 اراکینِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ تینتیس قانون ساز ایک بھی نشست میں حاضر نہیں ہوئے۔ وزیراعظم بھی مسلسل غیر حاضر رہنے والوں میں شامل تھے۔ اگر ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ پارلیمان عملی طور پر ناکارہ ہو چکی ہے، تو پھر کیا نتیجہ نکالا جائے؟
موجودہ حکومت کے دور میں ہمیں بارہا بتایا گیا ہے کہ ‘‘پارلیمان بالادست ہے’’؛ یہ جمہوری نظام کی قوت اور عظمت کی نمائندہ ہے اور تمام دیگر اداروں کو اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا چاہیے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اب اسے اس کے سب سے پُرجوش حامی ہی نظرانداز کر رہے ہیں۔ اب یہ سوال نہیں رہا کہ آیا یہ ادارہ مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے یا نہیں، بلکہ اس کے اپنے نگہبان بھی یہ تاثر دینے سے باز آ چکے ہیں کہ یہ درست طور پر کام کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پارلیمان کو زندہ اور فعال رکھنے کے ذمہ دار افراد ہی ایوان میں آنے کی زحمت نہیں کرتے، تو پھر ہم کس چیز کو بالادست قرار دیں؟حالیہ برسوں میں اس بات پر مستقل تنقید کی جاتی رہی ہے کہ قومی اسمبلی نے قانون سازی پر قانون سازی کی، مگر ان قوانین کے مندرجات پر مناسب بحث کی گئی اور نہ ہی ان کے نتائج و اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا۔ طویل عرصے تک اسے بیرونی دباؤ کا نتیجہ سمجھا جاتا رہا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے قانون ساز اس قدر بے فکری اور اطمینان کا شکار ہو چکے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں کسی قسم کی عملی شراکت کی ضرورت ہی نہیں۔
آخرکار، باقاعدہ حاضری یقینی بنانے کے لیے کوئی خاص ترغیب موجود نہیں۔ جب جمہوری عمل کو مختصر راستوں کے ذریعے عوامی خدمت کے بجائے نظام سے وفاداری کے صلے میں استعمال کیا جائے، تو انتخابی نقصان معمولی بلکہ نہ ہونے کے برابر محسوس ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ غیر حاضر قانون سازوں کی چھوڑ دی گئی جگہ اُن لوگوں نے تیزی سے بھر دی ہے جو نظام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے قانون سازوں نے ریکارڈ پر اور غیر رسمی طور پر شکایت کی ہے کہ قوانین اور آئینی ترامیم بغیر پیشگی اطلاع کے ان کی میزوں پر آ گرتی ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان پر کسی بحث و مباحثے کے بغیر منظوری دے دیں۔ یہ سوچ کر تشویش ہوتی ہے کہ یہی مقننہ جلد ہی آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ
پر ووٹ دینے والی ہے۔ شاید عوام کو اُن قانون سازوں سے اپنے حق میں بھرپور نمائندگی اور وکالت کی زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے جو اپنی ذمہ داریوں کو ایک فرض کے بجائے محض رسمی کارروائی سمجھتے ہیں۔ اہم عہدے داروں کی غیر موجودگی اس صورتحال کو مزید خراب کرتی ہے۔ اگر وزرا سوالات کے جواب دینے یا توجہ دلاؤ نوٹسز پر ردعمل دینے کے لیے موجود نہ ہوں تو پارلیمان کا نگرانی کا کردار کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور اگر منتخب نمائندے ہی ایوان سے غائب ہوں تو ان کے حلقوں کے عوام عملاً بے آواز ہو جاتے ہیں۔سب سے زیادہ ناقابلِ دفاع وہ ارکان ہیں جو ایک بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
بطور قانون ساز ان کی افادیت کیا ہے؟ ووٹرز، ٹیکس دہندگان اورخاص طور وہ سیاسی جماعتیں ایوان سے غیرحاضر رہنے یا ایوان کی کارروائیوں میں شرکت سے گریز کرنے والے اپنے نامزد ایسے نمائندوں کو آخر کیوں برداشت کرتے ہیں اور ان سے ان کے اس غیرذمہ دارانہ طرز عمل کی کوئی بازپرس کیوں نہیں کی جاتی جو نمائندگی کے سب سے بنیادی فریضے کو بھی ادا نہیں کرتے؟فافن کی تازہ رپورٹ میں کیاگیا انکشاف ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہونا چاہئے لیکن یہاں پھر سوال یہی ہے کہ جب خود قائد ایوان شہر میں موجود ہوتے ہوئے ایوان میں حاضری کو کسر شان تصور کرتے ہوں اور صرف ایسے مواقع پر ہی ایوان میں آتے ہوں جب ان کو اپنا اقتدار بچانے کیلئے ایسا کرنا ضروری محسوس ہو تو پھر وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو ایوان میں حاضری یقینی بنانے کی تلقین بھی کیونکر اور کس منہ سے کرسکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے بھاری
تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے کے باوجود ایوان میں حاضری سے گریز سراسر بے ایمانی اور بددیانتی ہے اس کی موثر روک تھام اور وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف سمیت تمام ارکان کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کے آئینی، پارلیمانی اور انتخابی قوانین پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ ارکان کی ایوان سے مسلسل غیر حاضری پر لازماً سزائیں ہونی چاہئیں۔ ان میں مراعات کی منسوخی،عوامی سطح پر غیر حاضری کا انکشاف، مالی کٹوتیاں اور انتہائی صورتوں میں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہلی شامل ہونی چاہیے۔ جمہوریت اس وقت تک مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی جب تک اس کے منتخب نگہبان پارلیمان کو ایک اختیاری ادارہ سمجھتے رہیں گے۔
٭٭٭


