قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی،وفاقی بجٹ میں تاخیر کا خدشہ
شیئر کریں
حکومت نے آئی ایم ایف مذاکرات اور گلگت الیکشن کے باعث 10 یا 12 جون کی تاریخوں پر غور شروع کردیا، نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان آج شام تک کر دیا جائے گا
اسمبلی سیکریٹریٹ اور ایوانِ صدر کے درمیان صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی، بجٹ اجلاس کی طلبی کا کوئی سرکاری سمن یا آرڈر موصول نہیں ہوا، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی پہلے سے طے شدہ تاریخ میں تبدیلی اور تاخیر کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ اب جمعہ 5 جون کو پیش کیے جانے کے بجائے 10 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے بجٹ سے قبل ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس بھی ملتوی کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن سے پہلے قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جو پہلے 3 جون کو ہونا تھا، اب اسے 8 جون کو بلائے جانے کا امکان ہے، بجٹ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے مزید کچھ دور کرنا چاہتی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کی نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان آج شام تک کر دیا جائے گا جب کہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے اسمبلی سیکریٹریٹ اور ایوانِ صدر کے درمیان صورتحال تاحال واضح نہیں ہو سکی، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک بجٹ اجلاس کی طلبی کا کوئی سرکاری سمن یا آرڈر موصول نہیں ہوا، جب تک باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، تب تک ارکانِ اسمبلی کو آگاہ نہیں کیا جا سکتا، ایوانِ صدر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شام تک نوٹیفکیشن کے حوالے سے صورتحال واضح کر دی جائے گی۔


