اسلام آباد سے ہر معاملہ چلانے والی جماعتوں کو مسترد کریں،بلاول بھٹو
شیئر کریں
پولنگ کے دن فارم 45 ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے،مجھے پوری امید ہے ہماری کوئی بھی سیٹ اس بار چوری نہیں ہوگی،پچھلے الیکشن میں مجھ سے ہماری 9 سیٹیں چھینی گئیں
تین نسلوں سے گلگت کے عوام پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آرہے ہیں، آپ کی بہادری کی وجہ سے ہی پہاڑوں میں کھڑا ہو کر میں یہ کہہ سکتا
ہوں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، خطاب
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیٔرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت کے عوام فارم 45 سنبھالیں، فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقہ شگر میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی مخالفین اور انتخابی نظام کو سخت ہدف بنایا اور گزشتہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا تذکرہ کرتے ہوئے کارکنوں کو فارم 45 کی حفاظت کی اہم ذمہ داری سونپ دی، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں آپ کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ تین نسلوں سے گلگت کے عوام پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آرہے ہیں، آپ کی بہادری کی وجہ سے ہی گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں کھڑا ہو کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، پچھلے الیکشن میں مجھ سے ہماری 9 سیٹیں چھینی گئیں، آج بھی ہمارا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں بالکل صاف و شفاف الیکشن کروائے جائیں۔ان کا کہنا ہے کہ آپ نے میرا ساتھ دینا ہے اور پولنگ کے دن فارم 45 ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے، یعنی فارم 45 کا بندوبست آپ نے کرنا ہے، فارم 47 کا بندوبست میں خود کر لوں گا، مجھے پوری امید ہے کہ ہماری کوئی بھی سیٹ اس بار چوری نہیں ہوگی۔بلاول بھٹو زرادری کہتے ہیں کہ بطور وزیر خارجہ دنیا میں مجھے عزت اس لیے نہیں ملی کہ میں پاکستانی تاریخ کا سب سے نوجوان وزیر خارجہ بنا تھا، میں جب دنیا میں جاتا تھا تو وہاں کے بادشاہ، صدر اور وزیراعظم میری عزت صرف اس لیے کرتے تھے کیونکہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ تھا، جب میں عالمی رہنماؤں سے ہاتھ ملاتا تو انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ میں اپنے غیور عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں۔اپنے خطاب کے آخر میں بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے لیے پی پی پی کی قیادت کی قربانیوں اور سٹریٹجک اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے عوام کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا، پاکستان کی دنیا بھر میں جو بھی عزت اور پہچان ہے، وہ شہید بینظیر بھٹو کی بدولت ہے، آج پاکستان اگر ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت ہے، تو یہ بھی ’جئے بھٹو‘ کے نعرے اور وژن کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔


