میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہم اندھیرے کو روشنی سمجھنے لگے ہیں!

ہم اندھیرے کو روشنی سمجھنے لگے ہیں!

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۷ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

ولیم شیکسپیئر نے میکبتھ میں ”Fair is foul, and foul is fair” کے ذریعے محض فریب یا دھوکہ دہی کا منظرنامہ نہیں بنایا بلکہ ایک ایسا کائناتی اور ذہنی
بحران پیش کیا ہے جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان حد فاصل تحلیل ہو جاتی ہے، جہاں انسان نہ صرف دھوکہ کھاتا ہے بلکہ دھوکے کو ہی حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ یہ وہ
مقام ہے جہاں ادراک خود مشکوک ہو جاتا ہے، جہاں دیکھنا بھی یقین نہیں رہتا اور یقین بھی ایک فریب بن جاتا ہے۔ ظاہری اور باطنی میں فرق مٹ جاتا ہے مگر
اس سطر کی اصل شدت اس میں ہے کہ یہ فرق مٹنے کے بعد ایک نئی اخلاقیات جنم لیتی ہے ایسی اخلاقیات جو بگاڑ پر قائم ہوتی ہے، جہاں ”اچھا” وہی ہوتا ہے جو
طاقتور کہتا ہے اور ”برا” وہ بن جاتا ہے جسے کمزور محسوس کرتا ہے، یوں اخلاقیات کسی آفاقی اصول کی بجائے طاقت، مفاد اور خواہش کی تابع ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ
ہے جہاں انسان صرف غلط راستہ اختیار نہیں کرتا بلکہ غلط راستے کو ہی درست سمجھنے لگتا ہے، اور یہی سب سے بڑا زوال ہے۔ میکبتھ کا کردار اس عمل کی ایک جیتی
جاگتی مثال ہے، اس کا سفر اقتدار کے حصول سے زیادہ اپنے ضمیر کو خاموش کرنے اور اپنے جرائم کو جواز دینے کا سفر ہے، ابتدا میں وہ خوف، تذبذب اور اخلاقی
کشمکش کا شکار ہے مگر جلد ہی وہ اپنے ہی بنائے ہوئے بیانیے میں قید ہو جاتا ہے جہاں قتل اسے ایک ناگزیر قدم محسوس ہونے لگتا ہے اور ظلم ایک سیاسی حکمت عملی، وہ
اپنے آپ کو قائل کرتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ درست ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اندر کے اندھیرے سے
سمجھوتہ کر لیتا ہے۔
فریڈرک نٹشے نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب آپ دیر تک کھائی میں جھانکتے ہیں تو کھائی بھی آپ میں جھانکنے لگتی ہے، یعنی برائی
کوئی بیرونی شے نہیں رہتی بلکہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے، وہ اس کے اندر سرایت کر جاتی ہے اور پھر انسان اس کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرنے لگتا ہے۔
سگمنڈ فرائڈکے مطابق انسان کا لاشعور ایسی ہی دبی ہوئی خواہشات اور خوف کا مرکز ہوتا ہے جو موقع ملنے پر شعور پر حاوی ہو جاتے ہیں، چڑیلیں دراصل میکبتھ
کے اندر موجود انہی خواہشات کو آواز دیتی ہیں، وہ اسے کوئی نیا راستہ نہیں دکھاتیں بلکہ اس کے اندر موجود راستے کو روشن کر دیتی ہیں۔ ڈرامے میں فطرت کا بگڑ جانا
بھی محض ایک علامتی عنصر نہیں بلکہ ایک گہری معنویت رکھتا ہے، دن کا اندھیرے میں بدل جانا، جانوروں کا غیر فطری رویہ اختیار کرنا، موسم کا بے قابو ہو جانایہ سب
اس بات کی نشاندہی ہے کہ جب انسان اپنی اخلاقی حدود کو توڑتا ہے تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری کائناتی ترتیب متاثر ہوتی ہے،
گویا انسان اور کائنات کے درمیان ایک گہرا ربط موجود ہے، اور جب انسان بگڑتا ہے تو کائنات بھی اس بگاڑ کی بازگشت بن جاتی ہے۔ یہ خیال ہمیں قدیم یونانی
المیوں کی بھی یاد دلاتا ہے جہاں انسانی گناہ فطرت کے غضب کو دعوت دیتے ہیں، مگر ولیم شکسپیئر اس تصور کو مزید نفسیاتی اور داخلی سطح پر لے آتا ہے، وہ دکھاتا ہے کہ
اصل طوفان باہر نہیں بلکہ انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اس سطر کی معنویت اور بھی زیادہ گہری اور خطرناک ہو جاتی ہے کیونکہ آج کے دور میں فریب
صرف فرد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک منظم نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے، یہاں جھوٹ کو بار بار دہرا کر سچ بنا دیا جاتا ہے، یہاں طاقتور طبقات اپنے مفادات کو اصولوں
کا نام دیتے ہیں، یہاں ظلم کو استحکام اور ناانصافی کو قومی مفاد کہا جاتا ہے، اور یوں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جس میں عام انسان سچ اور جھوٹ میں فرق
کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، جارج آرویل نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جھوٹ کے دور میں سچ بولنا بغاوت ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے
جہاں معاشرہ اپنی فکری آزادی کھو دیتا ہے، جہاں سوال اٹھانا جرم بن جاتا ہے اور خاموشی وفاداری سمجھی جاتی ہے۔ اس سطر کی سب سے بڑی طاقت اس کی سادگی
میں پوشیدہ ہے، چند الفاظ پر مشتمل یہ جملہ ایک پوری تہذیبی، اخلاقی اور نفسیاتی کائنات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ نہ صرف ایک ڈرامے کا مرکزی خیال
ہے بلکہ انسانی تاریخ کا ایک مستقل المیہ بھی ہے، ہر وہ دور جہاں اقدار کو مسخ کیا گیا، جہاں طاقت کو حق سمجھا گیا، جہاں سچ کو دبایا گیاوہ سب اس ایک سطر کی عملی
شکلیں ہیں۔ آخرکار ”Fair is foul, and foul is fair” محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے، ایک آئینہ ہے جس میں ہر دور کا انسان اپنے
چہرے کو دیکھ سکتا ہے، یہ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ سچ کہیں چھپ گیا ہے بلکہ یہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم خود سچ کو پہچاننے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، اور جب یہ
صلاحیت ختم ہو جائے تو پھر نہ کوئی روشنی باقی رہتی ہے نہ کوئی راستہ، صرف ایک ایسا اندھیرا رہ جاتا ہے جس میں ہر چیز اپنی اصل کھو دیتی ہے اور انسان خود اپنے وجود
سے اجنبی ہو جاتا ہے۔ اگر اسی سطر ”Fair is foul, and foul is fair” کو میکبتھ کے دائرے سے نکال کر پاکستان، پاکستانی سماج اور پاکستانی انسان
کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے: یہاں مسئلہ صرف برائی کا وجود نہیں، بلکہ برائی کا جائز، قابلِ قبول، اور بعض
اوقات قابلِ فخر بن جانا ہے۔پاکستانی سماج میں ”منصفانہ” اور ”غلط” کے اس الٹ پھیر کی سب سے واضح شکل بیانیوں (narratives) کی جنگ میں نظر آتی
ہے، جہاں طاقتور طبقات اپنی سہولت کے مطابق حقیقت کی نئی تعریفیں گھڑتے ہیں۔ یہاں کرپشن صرف ایک جرم نہیں رہتی بلکہ ”مجبوری”، ”سسٹم کا حصہ” یا
”چالاکی” بن جاتی ہے؛ ناانصافی کو ”استحکام” کا نام دیا جاتا ہے؛ اور سوال اٹھانے والے کو ”مسئلہ پیدا کرنے والا” یا ”غدار” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ وہی لمحہ
ہے جہاں معاشرہ صرف گمراہ نہیں ہوتا بلکہ گمراہی کو ہی معیار بنا لیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کی طرف جارج آرویل نے اشارہ کیا تھا کہ جب جھوٹ کو مسلسل
دہرایا جائے تو وہ سچ کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور سچ بولنے والا اجنبی محسوس ہونے لگتا ہے۔پاکستانی انسان اس الٹ پھیر کا صرف شکار نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اس
کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ ابتدا میں وہ تضاد محسوس کرتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ اسی غلط کو قبول کرنے لگتا ہے، پھر اس کا دفاع
کرتا ہے، اور آخرکار اسی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی عمل ہے جہاں بقا (survival) اور مفاد (interest) اخلاقیات پر غالب آ جاتے ہیں۔ ایک
عام آدمی جانتا ہے کہ رشوت غلط ہے مگر وہ اسے ”کام نکلوانے کا طریقہ” کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتا ہے؛ وہ جانتا ہے کہ جھوٹ برا ہے مگر اسے ”مصلحت” کا نام
دے دیتا ہے؛ وہ جانتا ہے کہ ناانصافی ہو رہی ہے مگر خاموشی کو ”حکمت” سمجھ لیتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ایک ایسا انسان تشکیل پاتا ہے جو سچ اور جھوٹ کے درمیان
فرق تو جانتا ہے مگر اس فرق کو اہم نہیں سمجھتا۔ یہاں سچ بولنے والا اکثر تنہا رہ جاتا ہے، اور جھوٹ بولنے والا سماجی طور پر زیادہ کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ الٹی دنیا
ہے جہاں ایمانداری کمزوری اور بے ایمانی ذہانت سمجھی جاتی ہے۔اس پورے عمل میں سب سے خطرناک کردار خاموشی ادا کرتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ایک بڑی تعداد وہ ہے جو سب کچھ دیکھتی ہے، سمجھتی ہے، مگر بولتی نہیں۔ یہ خاموشی محض خوف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طرح کی عادت بن چکی
ہے، ایک ایسا طرزِ عمل جو وقت کے ساتھ نارمل ہو گیا ہے۔ جب خاموشی اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہے تو وہ خود ایک طاقت بن جاتی ہے—ایسی طاقت جو سچ کو
دبانے میں جھوٹ کی مددگار بنتی ہے۔ یوں معاشرہ ایک ایسے دائرے میں پھنس جاتا ہے جہاں ہر فرد دوسرے کی خاموشی کو جواز بنا کر اپنی خاموشی برقرار رکھتا ہے۔
اداروں کی سطح پر بھی یہی الٹ پھیر جاری رہتا ہے۔ انصاف کا نظام اکثر انصاف سے زیادہ طاقت کا تابع دکھائی دیتا ہے، تعلیم کا نظام علم سے زیادہ ڈگری پیدا
کرنے لگتا ہے، اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا کھیل بن جاتی ہے۔ یہاں اصول موجود ہوتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا، قوانین لکھے
جاتے ہیں مگر ان کی روح غائب ہوتی ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ”فاؤل” نے نہ صرف ”فیئر” کا بھیس اختیار کیا ہے بلکہ اس کی جگہ لے لی ہے۔
اگر سگمنڈ فرائڈ کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ پورا سماجی ڈھانچہ ایک اجتماعی لاشعور (collective unconscious) کی طرح کام کرتا ہے جہاں دبی
ہوئی خواہشات، خوف اور احساسِ محرومی ایک ایسے رویے کو جنم دیتے ہیں جو بظاہر غیر اخلاقی ہوتا ہے مگر اندرونی طور پر جائز محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ
جہاں انصاف کم اور ناانصافی زیادہ ہو، وہاں انسان اپنی بقا کے لیے وہ راستے اختیار کرتا ہے جو اخلاقی طور پر درست نہیں ہوتے، مگر اسے وہی راستے ”ضروری”
لگتے ہیں۔ یوں ایک اجتماعی نفسیات تشکیل پاتی ہے جہاں غلطی صرف ایک فرد کی نہیں رہتی بلکہ پورے نظام کی بن جاتی ہے۔یہ تصویر مکمل طور پر مایوس کن ضرور ہے
مگر غیر حقیقی نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا سب کچھ غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم غلط کو غلط سمجھنے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ جب یہ صلاحیت
ختم ہو جائے تو پھر کوئی اصلاح ممکن نہیں رہتی۔ ”Fair is foul, and foul is fair” کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ یہ انسان سے اس کی اخلاقی
بصیرت چھین لیتی ہے، اسے اس مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ نہ صرف اندھیرے میں جیتا ہے بلکہ اندھیرے کو ہی روشنی سمجھنے لگتا ہے۔آخرکار، پاکستان کا مسئلہ
صرف کرپشن، ناانصافی یا سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور اخلاقی بحران ہے، ایک ایسا بحران جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو چکے ہیں، جہاں سچ کمزور اور
جھوٹ مضبوط ہو چکا ہے، اور جہاں انسان اپنے ہی بنائے ہوئے فریب میں قید ہو گیا ہے۔
اگر اس صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ”منصفانہ غلط ہے، اور غلط منصفانہ ۔۔
اور اصل المیہ یہ نہیں کہ یہ سچ ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے سچ ماننے لگے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں