معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کا مطالبہ
شیئر کریں
حمیداللہ بھٹی
ایران اورا مریکہ میں آٹھ اپریل سے عارضی جنگ بندی ہے مگرکیایہ مستقل ہوپائے گی ؟اِس حوالے سے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے
کیونکہ دونوں طرف بداعتمادی ہے جس کی وجہ سے بے یقینی کی فضا ہے، اِس کاکسی ایک ملک کو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجا سکتابلکہ دونوں کوذمہ دار
کہناانصاف ہوگا، جب بھی اتفاقِ رائے کے امکانات بڑھتے ہیں تو امن معاہدہ پر دستخط سے قبل ایسی شرائط اور مطالبات پیش کردیے
جاتے ہیں کہ اتفاق کاجاری عمل رُک جاتا ہے ایران کی طرف سے آبنائے ہُرمز پر حاکمیت تسلیم کرانے کی کوششوں نے ثالثی کے عمل کومشکل
کیااور پھر افزدہ یورنیم پربے لچک رویے نے حالات کو یکدم ہی غیر یقینی بنادیا حالانکہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف امام خمینی کاباقاعدہ فتویٰ
موجود ہے ۔
صدر ٹرمپ کی زبان وبیان اور اقدامات بھی امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی اور مشکل رکاوٹ ہیں موجودہ کشیدگی میں اُن کا نمایاں
کردار ہے جس سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں امن عمل میں سنجیدہ نہیں کیونکہ دونوں ہی خطے پرغلبہ چاہتے
ہیں جس سے امن عمل کی راہ غیر ہموار اور مشکل ہوئی ہے۔
پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک سے معاہدہ ابراہیمی پرصدرٹرمپ کی طرف سے دستخط کانیا مطالبہ بلا جواز اور امن عمل کو ختم کرنے کی
دانستہ کوشش ہے، ایسے کام دبائوسے نہیں بلکہ سفارتکاری سے ممکن ہیں ۔اگرامریکہ چاہتاہے کہ اسرائیل محفوظ ہو تو پہلے اسرائیل کو گریٹر
اسرائیل کے منصوبے سے دستبردار کرائے، ہمسایہ ممالک کوحملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرانا ہوگی اور مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی
قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو خطے سے کشیدگی کاخاتمہ مشکل ہے ۔متحدہ عرب امارات،بحرین ،مراکش اور
سوڈان پر دبائو ڈال کر دستخط کرانے کے باوجود حالات یہ ہیں کہ مذکورہ ممالک کے عوام میں اب بھی اسرائیل کے لیے تحفظات اور نفرت ہے
جو حکومتوں اور عوام میں خلیج بڑھانے کاباعث ہے۔ اسرائیل نے اِس وقت عراق،شام،لبنان اور فلسطین کے خلاف اعلانیہ جنگ شروع
کررکھی ہے۔ فلسطین ،شام اُردن اور لبنان کے علاقوں پر قابض ہے اِن حالات میں امن کی بحالی آسان نہیں بلکہ شکوک وشبہات میں
اضافہ ہو تا ہے اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتا ہے تو اُسے اسرائیل کو جارحانہ کاروائیوں سے باز رکھنا ہو گا جس کا امکان کم ہے کیونکہ
اسرائیل کے اُکسانے پر اگر وہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو وہ اسرائیل سے کیسے امن کی توقع رکھ سکتاہے؟
عرب ممالک اور اسرائیل کی فوجی طاقت میں نمایاں فرق ہے، اِس حوالے سے اسرائیل کی برتری واضح ہے مگر رواں دہائی میں عرب
ممالک نے کچھ ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے نہ صرف خطے کے بدلتے منظرنامے کا تاثر گہراہواہے بلکہ امریکی رسوخ میں بھی کمی کاتاثر ہے۔
اِس حوالے سے سعودی عرب اور چین میں تیل کی تجارت کے لیے یوان کرنسی کے استعمال کاmemorandum of understanding(ایم اویو)پر دستخط کرنا نابڑی پیش رفت ہے ۔قطر میں حماس کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بناکر اسرائیل نے مزید
عرب ممالک کے خدشات میںاضافہ کیا جو خطے میںدفاعی تبدیلی کی بنیادثابت ہوئی اور نہ صرف پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ طے پایا بلکہ دیگر
مسلم ممالک کی شمولیت بھی خارج ازامکان نہیں۔ اِس کے باوجود صدر ٹرمپ کی طرف سے معاہدۂ ابراہیمی میں شمولیت پراصرارخوش فہمی
کہی جا سکتی ہے کیونکہ عین ممکن ہے ایسے مطالبات سے خطے میں امریکی کردار مزید کم ہو۔جب تک اصل مسائل حل نہیں ہوتے تب تک
مکمل امن بحال نہیں ہوسکتا جبکہ دبائو ڈال کر امن لانے کی کوششوں کے نتائج مُضر آسکتے ہیں۔ سعودی عرب نے دوریاستی حل کے بغیر ایسے
کسی معاہدے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ قطر کا بھی کچھ ایساہی موقف ہے جب دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ تب تک اسرائیل
سے تعلقات معمول پر نہیں لاسکتے جب تک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت یروشلم ہو ،معرضِ وجودمیں نہ لائی جائے۔ یہ مشروط
پیشکش اسرائیل کے سرپرست امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے ۔اسی لیے خدشہ ہے کہ خطے سے اپنے رسوخ میں کمی کو برداشت کرنے کی
بجائے امریکہ ایسے حالات پیداکردے جس سے عرب ممالک اور اسرائیل میں کشیدگی فروغ پائے۔
ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے عربوں کو اسرائیل تسلیم کرنے پر مجبورکرنا بے وقت کی ایسی راگنی ہے جس کے مثبت نتائج نہیں
آسکتے کیونکہ خطے میں جارحانہ کاروائیوں اور مسلم نسل کشی کی وجہ سے اسرائیل عالمی نفرت کا شکار ہے پہلی بار مغربی ممالک میں بھی اسرائیل
کے بارے میں ایسی ہی فضا ہے۔ اسلامی ممالک میں تو غزہ پر فضائی حملوں اور کارپٹ بمباری کی وجہ سے نفرت عروج پر ہے۔ اِن حالات
میں جو بھی کسی مسلم ملک کا حکمران امریکی مطالبے پر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرے گا وہ عوامی غیض وغضب کا شکار
ہوگا، اب جبکہ روس اور چین کی شکل میں متبادل موجود ہیں جن سے دفاعی ہتھیاروں کی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں تو بھلا کیونکہ کوئی حکمران
عوامی نفرت مول لینے کی کوشش کر ے گا؟
شام میں کٹھ پتلی لاکر امریکہ نے اسرائیل سے امن معاہدہ توکرالیاہے لیکن دیگر ممالک کو ایسی مجبوریاں نہیں اسی بناپرکہاجاسکتا ہے کہ غزہ
امن بورڈ کی طرح معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کا مطالبہ بھی شاید ہی پورا ہو۔امریکی طاقت اپنی جگہ،مگر یہ طاقت معاہدہ ہونے کے باوجود قطرکو
تحفظ نہیں دے سکی لہٰذا معاہدے میں شامل نہ ہونے کوقطرکو غلط نیت کی علامت کہنے کا جواز نہیں رہتا،ایران سے کشیدگی کم کرانے میں
پاکستان اور قطر پیش پیش ہیں قالیباف،عباس عراقچی اور ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ اب بھی دوحہ میں ہیں اِن حالات میں ایسے
مطالبات پیش کرنا جن کا ایران اور امریکہ جھگڑے سے دورکابھی واسطہ نہیں ۔امریکی ذہنیت کواجاگر کرتے ہیں کہ امن عمل سے دلچسپی کی
بجائے اُس کے عزائم کچھ اور ہیں ۔
امریکہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے عرب ممالک کمزور اور اسرائیل مضبوط ،مستحکم اور خوشحال ہو جو
اُسے عربوں میں ناقابلِ اعتباربنانے کاباعث ہے ،جس کا نتیجہ ہے کہ عرب ممالک کا انحصار امریکہ پر بتدریج کم ہوتاجارہا ہے۔ صدرٹرمپ
کے دورے کے دوران سرمایہ کاری کے وعدوں پر سعودیہ میں نظرثانی کی سوچ جنم لے چکی جبکہ اسرئیل سے متحدہ عرب امارات تعلقات بڑھا
کر بھی اِس حد تک غیر محفوظ ہے کہ نہ صرف امریکہ سے مالی تعاون کامقصد پورا نہیں ہو سکا بلکہ ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہے۔ اِس لیے
کہہ سکتے ہیںکہ اگر صدرٹرمپ نے مقاصد حاصل کرنے ہیں تو شام میں ماضی کے دوران القائدہ سے وابستہ رہنے والے احمد الشرع جیسی
مسلم ممالک میں کٹھ پتلیاں لاکرہی ممکن ہے اِس کے علاوہ بظاہر اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا جس پر چل کر صدرٹرمپ اپنے مقاصد حاصل
کرنے میں کامیاب ہوں ۔
٭٭٭


