میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، ضلع وسطی میں منہدم عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کا نیا دھندا

سندھ بلڈنگ، ضلع وسطی میں منہدم عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کا نیا دھندا

ویب ڈیسک
پیر, ۲۵ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

پلاٹ C4 رضویہ سوسائٹی میں انہدامی کارروائی کے باوجود تعمیرات دوبارہ شروع
ریحان الائچی کی کارکردگی مشکوک، ڈی جی مزمل حسین کے کردار پر شہریوں کے سوالات

وسطی میں غیرقانونی اور منہدم کی گئی عمارتوں کی ازسرنو تعمیر کا کھیل ایک بار پھر تیزی سے جاری ہے ۔ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شہر بھر میں جاری خلاف ضابطہ تعمیرات سے بری الزمہ ہیں موصوف کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق شہر میں جاری تمام تعمیرات بلڈنگ قوانین کے عین مطابق ہیں ۔زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر C4 ، رضویہ سوسائٹی کو گزشتہ انہدامی آپریشن کے دوران نقشے کے بر خلاف خطرناک قرار دے کر منہدم کر دیا گیا تھا،تاہم اب اسی مقام پر دوبارہ تعمیراتی کام زور و شور سے جاری ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ نئی تعمیر میں اضافی منزلیں شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے ، جس کے بعد علاقے کے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک عمارت کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر گرایا گیا تھا تو پھر اسی مقام پر دوبارہ تعمیر اور اضافی فلورز کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی؟اس صورتحال پر علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کی کارکردگی کو بھی مشکوک قرار دیا ہے ۔علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے شفاف تحقیقات اور تعمیراتی ریکارڈ منظرعام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں محض نمائشی نہ رہ جائیں ۔شہریوں نے ڈی جی مزمل حسین کی سربراہی میں جاری شہر کراچی میں ناجائز تعمیرات کے اس گھناؤنے کھیل میں مشکوک کردار پر سوالات اُٹھانے شروع کر دیے۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں