میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایک دن کا وزیراعظم

ایک دن کا وزیراعظم

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۴ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستارچوہدری

ذرا تصورکیجیے ۔
ایک صبح پاکستان میں سورج توہمیشہ کی طرح طلوع ہو،مگراس دن ایک غیرمعمولی خبرپورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے ۔ ”ملک میں آج صرف ایک دن کیلئے ضمیر وزیراعظم مقررکردیا گیا ہے ”۔نہ کوئی الیکشن ہوا، نہ کوئی حلف برداری، نہ پروٹوکول، نہ قافلے ۔بس اچانک ہرانسان کے اندربرسوں سے قید پڑا ” ضمیر ” جاگ اٹھا۔اورپھرعجیب مناظرسامنے آنے لگے ۔دفترجاتے ہوئے ایک سرکاری افسر نے پہلی باراپنی جیب میں رکھا ہوا ”چائے پانی ” واپس نکال کرمیز پررکھ دیا۔ تھانیدار نے مدعی سے کہا،آپ فکرنہ کریں، آج رپورٹ پیسوں کے بغیر بھی درج ہوجائے گی، یہ سن کرخود مدعی کو شک پڑ گیا کہ کہیں ملک پردشمن نے حملہ تو نہیں کردیا۔ ادھربازارمیں دکاندارنے گاہک کو آوازدی،بھائی !! آپ ہزار کا نوٹ دے گئے تھے ، میں غلطی سے پانچ سو واپس کرنا بھول گیا تھا، گاہک چند لمحے خاموش رہا، پھر گھبرا کربولا، سب خیریت توہے ناں؟ ٹی وی چینلزپراینکر چیخنے کے بجائے سچ بولنے لگے ۔اورسیاستدانوں کے چہروں پر پہلی بارتقریروں سے زیادہ شرمندگی نظرآنے لگی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا ملک نہیں، کسی قبرستان کے مردے اچانک زندہ ہوگئے ہوں، کیونکہ یہاں ضمیرکا زندہ ہونا، انسان کے زندہ ہونے سے کہیں زیادہ نایاب واقعہ ہے ۔
دوپہرہوتے ہوتے ملک میں ایک عجیب قسم کی بے چینی پھیلنا شروع ہوگئی،وہ لوگ جو برسوں سے دوسروں کا حق کھا کر سکون سے سوتے تھے ، آج اپنی ہی کرسیوں پر پہلو بدلنے لگے ۔ ایک بڑے افسر نے فائل کھولی، اندرغریبوں کی زمینوں پرلگے دستخط دیکھے ، چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ پھراچانک اس کی آنکھیں بھرآئیں، اس نے پہلی بارمحسوس کیا کہ سرکاری مہرصرف سیاہی نہیں ہوتی، بعض اوقات پوری زندگیاں کچل دیتی ہے ۔ ادھراسمبلی میں بھی خاموشی تھی، اتنی خاموشی کہ دیواروں کو بھی شک ہونے لگا کہ شاید آج اجلاس نہیں ہوا، کیونکہ آج تقریروں کیلئے جھوٹ میسرنہیں تھا۔ اورسچ اتنا تلخ تھا کہ کسی رکن کے حلق سے نکل ہی نہیں رہا تھا، ایک وزیر نے مائیک کے سامنے آکر بمشکل کہا۔!! میرے وعدے دراصل وعدے نہیں تھے ۔ عوام کو وقتی بے وقوف بنانے کے منصوبے تھے ، یہ سنتے ہی پورے ہال میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے اچانک سب کے ضمیر کے زخموں پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ادھر سوشل میڈیا پربھی قیامت تھی، لوگ پہلی باردوسروں کی کردار کشی چھوڑ کراپنے اعمال کا پوسٹ مارٹم کرنے لگے تھے ، جو شخص کل تک مذہب، حب الوطنی اوراخلاقیات کے لمبے لیکچر دیتا تھا، آج اسے یاد آرہا تھا کہ اس نے اپنے ہی باپ کی جائیداد میں بہن کا حصہ دبا رکھا ہے ۔ جوعورت محلے بھرکی عزتوں کا حساب رکھتی تھی، اسے پہلی باراحساس ہوا کہ اس کی زبان نے کتنے گھروں میں آگ لگائی ہے ۔ اورسب سے خوفناک منظریہ تھا کہ آج ہرانسان کو دوسروں کے گناہ کم، اپنے گناہ زیادہ نظرآنے لگے تھے ۔عدالتوں میں حیرت انگیز مناظر تھے ،کئی وکیل اپنے ہی دلائل پرشرمندہ بیٹھے تھے ، ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا۔ جناب والا! میرا موکل بے قصور نہیں۔ بس امیر ہے ، یہ جملہ سنتے ہی کمرہ عدالت میں ایسی خاموشی پھیل گئی جیسے برسوں سے انصاف خود کٹہرے میں کھڑا ہو۔ ادھراسپتالوں میں بھی عجیب ہلچل تھی، ایک ڈاکٹر نے مریض کے لواحقین سے کہا، آپریشن تو سرکاری خرچ پربھی ہوسکتا تھا۔ میں نے بس اپنی فیس بڑھانے کیلئے آپ کو ڈرایا تھا، یہ سن کرمریض کے رشتے دار رو پڑے ۔ اورڈاکٹر پہلی باراپنی ڈگری کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگا۔ مگرسب سے زیادہ خطرناک صورتحال اُن جگہوں پرتھی جہاں ضمیربرسوں سے دفن کیا جاچکا تھا، کئی کاروبار بند ہونے لگے ، کیونکہ وہاں منافع ایمانداری سے نہیں، دھوکے سے پیدا ہوتا تھا۔ جعلی دوائیں بنانے والے فیکٹری مالکان کو پہلی بار احساس ہوا کہ انہوں نے صرف گولیاں نہیں بیچیں، کئی گھروں کے جنازے فروخت کیے ہیں۔
شام تک پورا ملک ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اچانک ہر چہرے کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہو،وہ آئینہ۔ جس میں انسان اپنی شکل نہیں، اپنی حقیقت دیکھتا ہے ۔اورپھررات کے اندھیرے میں ایک عجیب خبر پھیلنے لگی، ملک کا نظام سست پڑرہا ہے ، کیونکہ اس ملک میں بہت سے پہیے تیل سے نہیں، بے ضمیر لوگوں سے چلتے ہیں۔
رات گہری ہونے لگی، مگراُس دن پہلی بارکئی لوگوں کی نیند اُڑ گئی تھی۔ وہ تاجرجوساری عمر ملاوٹ کو ” کاروباری مجبوری ” کہتے رہے ، آج اپنے گوداموں میں کھڑے سامان کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ہرڈبے پرکسی بچے کی بددعا لکھی ہو۔ ایک باپ رات گئے اپنے بیٹے کے کمرے میں گیا، دیر تک اسے سوتا ہوا دیکھتا رہا، پھرآہستہ سے بولا بیٹا! میں نے تمہیں حلال نہیں حرام رزق دیا ہے ، اسی لیے شاید تمہاری آنکھوں میں میرے لیے عزت کم ہوتی جارہی ہے ۔ ادھر کئی گھروں میں برسوں بعد معافیاں مانگی جارہی تھیں۔ کوئی اپنی ماں کے پاؤں پکڑکر رو رہا تھا، کوئی بہن سے جائیداد کا حصہ واپس کرنے کا وعدہ کررہا تھا، کوئی بیوی سے کہہ رہا تھا، میں نے تمہیں شریکِ حیات نہیں ،نوکرانی سمجھا۔ اورحیرت یہ تھی کہ آج معافی مانگنے والا چھوٹا نہیں لگ رہا تھا بلکہ پہلی بارانسان لگ رہا تھا۔ مگراسی دوران اقتدار کے ایوانوں میں خوف بڑھتا جارہا تھا، کیونکہ ضمیر جب جاگتا ہے تو سب سے پہلے سوال کرتا ہے ۔ اورسوال، ہرطاقتورآدمی کو سب سے زیادہ ڈراتا ہے ۔کئی بڑے لوگ اپنے ہی فیصلوں کی فائلیں بند کرکے بیٹھ گئے ، انہیں پہلی بار احساس ہورہا تھا کہ قومیں صرف قرضوں سے نہیں مرتیں، بے حسی سے بھی مرجاتی ہیں۔اور شاید اس ملک کا سب سے بڑا المیہ غربت، مہنگائی یا کرپشن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہاں ہرشخص اپنے جرم کیلئے کوئی نہ کوئی دلیل ڈھونڈ لیتا ہے ، کیونکہ جہاں ضمیرمرجائے ، وہاں انسان گناہ نہیں کرتا، بس ” جواز” پیدا کرتا ہے ۔
پھرآدھی رات کے قریب اچانک ایک اعلان ہوا۔ ” ضمیر کی ایک روزہ حکومت ختم ہونے والی ہے ”۔ یہ خبر سنتے ہی پورے ملک پرعجیب سی خاموشی طاری ہوگئی۔ کچھ لوگ سکھ کا سانس لے رہے تھے ، کیونکہ سچ زیادہ دیربرداشت کرنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں، اورکچھ لوگ خوفزدہ تھے ، کہ صبح دوبارہ وہی ” پرانا پاکستان ” لوٹ آئے گا، جہاں جھوٹ۔ قابلیت کہلاتا ہے ، بے حسی۔ سمجھداری، اورایمان داری۔ بیوقوفی۔چند لمحوں بعد” ضمیر ” اپنی کرسی چھوڑ کرچلا گیا۔اگلی صبح سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ دفترپھرچل پڑے ، فائلیں پھررکنے لگیں، وعدے پھر بکنے لگے ۔ اور سچ۔ پھرتنہا ہوگیا۔ مگراس ایک دن نے ایک خطرناک حقیقت کھول دی تھی، یہ ملک وسائل کی کمی سے نہیں ،ضمیرکی غیرحاضری سے ہارا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں