خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
ناول فریکنسٹائن( Frankenstein)کبھی بھی صرف ایک خوفناک عفریت کی کہانی نہیں تھی۔ یہ دراصل جدید انسان کے روحانی
المیے کی داستان تھی۔میری شیلے ( Mary Shelley)نے دو سو سال پہلے وہ زخم دیکھ لیا تھا جسے آج کی دنیا اب جا کر سمجھ رہی ہے۔ اس
نے سمجھ لیا تھا کہ انسان صرف جسمانی موت سے نہیں مرتا، وہ تب بھی مرنے لگتا ہے جب اسے مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محبت، تعلق
اور قبولیت کے قابل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ” فریکنسٹائن” آج مصنوعی ذہانت، سرمایہ دارانہ نظام، طبقاتی تقسیم، سوشل میڈیا کی تنہائی اور جدید
معاشروں کی سرد مہری کے دور میں پہلے سے زیادہ سچا محسوس ہوتا ہے۔ یہ ناول کسی قبرستان کی دہشت نہیں بلکہ انسانی رد، سماجی تنہائی اور
جذباتی یتیمی کی دہشت کے بارے میں تھا۔ وکٹر فرینکنسٹائن صرف ایک سائنس دان نہیں تھا؛ وہ جدید انسان کا استعارہ تھا۔ وہ انسان جو
طاقت چاہتا ہے، کنٹرول چاہتا ہے، فطرت کو شکست دینا چاہتا ہے، موت پر قابو پانا چاہتا ہے، مگر اپنی تخلیق کی ذمہ داری لینے سے بھاگتا
ہے۔ اس کے اندر وہی تکبر تھا جو ہر دور کے طاقتور انسان، ریاست، سرمایہ دار، سامراج اور جدید ٹیکنالوجی کے جنون میں مبتلا ذہن کے اندر
ہوتا ہے۔ وہ تخلیق تو کرنا چاہتا ہے مگر محبت نہیں دینا چاہتا۔ وہ اختیار تو چاہتا ہے مگر تعلق سے خوفزدہ رہتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان
اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی تخلیق کرتا ہے۔
فرینکنسٹائن کی مخلوق ابتدا میں درندہ نہیں تھی۔ وہ حساس تھی، معصوم تھی، سیکھنا چاہتی تھی، محبت چاہتی تھی، انسانوں کے قریب آنا چاہتی
تھی۔ وہ چھپ کر لوگوں کو دیکھتی تھی، ان کی زبان سیکھتی تھی، ان کے دکھ سکھ کو سمجھنے کی کوشش کرتی تھی۔ لیکن ہر بار جب وہ انسانوں کے قریب
گئی تو اسے خوف، نفرت، چیخوں اور مسترد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے اس کی روح نہیں دیکھی، صرف اس کا چہرہ دیکھا۔ انہوں
نے اس کے اندر کی تنہائی نہیں دیکھی، صرف اس کی بدصورتی دیکھی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ”میری شیلے”انسانی نفسیات کی ایک
خوفناک سچائی کو بے نقاب کرتی ہے: انسان ہمیشہ نفرت سے نہیں ٹوٹتا، کبھی کبھی وہ مکمل نظرانداز کیے جانے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ رد انسان کی
روح کے اندر آہستہ آہستہ زہر کی طرح پھیلتا ہے۔ پہلے انسان خود پر شک کرتا ہے، پھر دنیا سے نفرت کرنے لگتا ہے، پھر وہ وہی بن جاتا ہے
جس سے لوگ شروع سے خوفزدہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے اکثر اپنے عفریت خود پیدا کرتے ہیں۔ غربت، محرومی، طبقاتی ذلت،
بیروزگاری، سماجی تحقیر اور جذباتی تنہائی انسان کے اندر خاموش غصہ پیدا کرتی ہے۔ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر درندہ نہیں ہوتا۔ مگر جب
کسی نوجوان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں، اس کے خواب فضول ہیں، اس کی زندگی بے معنی ہے، اس کا چہرہ، اس
کی غربت، اس کی زبان، اس کی شناخت قابلِ شرم ہے، تو اس کے اندر آہستہ آہستہ ایک زخمی مخلوق جنم لینے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں
”فریکنسٹائن ” صرف ادب نہیں رہتا بلکہ سماج کا آئینہ بن جاتا ہے۔ اس ناول کی سب سے ہولناک بات یہ نہیں کہ ایک مردہ جسم زندہ ہو
گیا تھا، بلکہ یہ ہے کہ ایک زندہ روح کو محبت نہ مل سکی۔ شاید اسی لیے یہ ناول آج بھی ہمیں بے چین کرتا ہے، کیونکہ اس کے اندر ہم صرف
ایک خیالی عفریت نہیں دیکھتے بلکہ اپنی ہی دنیا دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں لوگ ایک دوسرے کے زخموں کو سمجھنے کے بجائے ایک
دوسرے کے چہروں سے فیصلہ کرتے ہیں۔ جہاں حساس انسان سب سے زیادہ زخمی ہوتے ہیں۔ جہاں خاموش لوگ اندر ہی اندر مر جاتے
ہیں۔ جہاں انسان کو مارنے کے لیے گولی کی ضرورت نہیں رہتی، صرف مسلسل ردّ کافی ہوتا ہے۔ اور شایدمیری شیلے کا سب سے بڑا فلسفیانہ
سوال یہی تھا: اگر ایک انسان کو مسلسل محبت، تعلق اور قبولیت سے محروم رکھا جائے تو آخر اس کے اندر کیا باقی بچتا ہے؟ انسان یا پھر ایک عفریت؟
فریکنسٹائن کو اگر پاکستان کے سماجی، نفسیاتی اور تاریخی تناظر میں پڑھا جائے تو یہ محض ایک ناول نہیں رہتا بلکہ پورے پاکستانی
معاشرے کی ایک خوفناک تمثیل بن جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میری شیلے نے دو سو سال پہلے ہی ایک ایسے معاشرے کو دیکھ لیا تھا
جہاں انسان زندہ تو ہیں مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے، ردّ کیے ہوئے اور جذباتی طور پر یتیم ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید صرف
غربت، کرپشن، بیروزگاری یا سیاسی بحران نہیں؛ اس کا سب سے بڑا المیہ وہ خاموش نفسیاتی زخم ہے جو نسلوں کے اندر جمع ہوتا جا رہا ہے۔
یہاں لاکھوں لوگ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی بے گھر ہیں۔ وہ اپنے ہی سماج میں اجنبی ہیں۔ ان کے خوابوں کا مذاق اڑایا
جاتا ہے، ان کی خواہشوں کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غصہ غیرمعمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ سڑکوں پر، گھروں میں،
دفاتر میں، سوشل میڈیا پر، سیاست میں، مذہبی مباحث میں، ہر جگہ ایک عجیب قسم کی تلخی اور نفسیاتی تھکن محسوس ہوتی ہے۔ لوگ صرف
اختلاف نہیں کرتے، وہ ایک دوسرے کو کچل دینا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے اندر برسوں کا جمع شدہ ردّ اور ذلت موجود ہے۔ ایک ایسا انسان
جسے مسلسل یہ محسوس کروایا جائے کہ وہ ناکام ہے، کمتر ہے، غیرمحفوظ ہے، وہ آخرکار دوسروں کے لیے بھی خطرہ بننے لگتا ہے۔ یہی
”فریکنسٹائن” کی سب سے بڑی نفسیاتی سچائی تھی کہ معاشرے اپنے عفریت خود تخلیق کرتے ہیں۔ اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نئی نسل کے
اندر اتنا غصہ، اتنی بے یقینی اور اتنی ذہنی ٹوٹ پھوٹ کیوں پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستان کا نوجوان آج صرف روزگار سے محروم نہیں؛ وہ شناخت سے محروم ہے۔ وہ جانتا ہی نہیں کہ وہ آخر ہے کیا۔ اس کی تعلیم اسے حقیقت سے نہیں جوڑتی، اس کی سیاست اسے امید نہیں دیتی، اس کا سماج
اسے قبول نہیں کرتا، اور اس کی ریاست اسے صرف اعداد و شمار میں دیکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انسان آہستہ آہستہ اندر سے خالی ہو رہا
ہے۔ وہ زندہ ہے مگر محسوس نہیں کرتا۔ وہ بولتا ہے مگر اس کے الفاظ کے پیچھے کوئی یقین نہیں بچا۔ وہ ہنستا ہے مگر اس کی ہنسی میں شدید تھکن چھپی
ہوتی ہے۔ یہ وہ نفسیاتی قبرستان ہے جسے ہم ترقی، روایت، غیرت اور نظریے کے خوبصورت نعروں کے پیچھے چھپاتے رہتے ہیں۔ پاکستان
میں سب سے خطرناک چیز شاید غربت بھی نہیں بلکہ مستقل ذلت ہے۔ غربت انسان کو تھکاتی ہے مگر ذلت انسان کی روح توڑ دیتی ہے۔
جب ایک نوجوان بار بار نوکری کے لیے دھکے کھاتا ہے، جب ایک باپ اپنے بچوں کی چھوٹی خواہشیں پوری نہیں کر پاتا، جب ایک طالب
علم ڈگری لینے کے بعد بھی بے معنی محسوس کرتا ہے، جب ایک حساس انسان اپنے ہی سماج میں مذاق بن جاتا ہے، تو اس کے اندر آہستہ
آہستہ ایک خاموش عفریت پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ شاید جرم نہ کرے، شاید چیخے بھی نہ، مگر اندر سے وہ دنیا سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ پاکستان میں ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور خاموش نفرت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر ہم اب بھی اسے ”کمزور ایمان”،
”ناشکری”یا ”فضول سوچ” کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ ہم انسان کے زخم کو سمجھنے کے بجائے اس پر اخلاقیات کا کپڑا ڈال دیتے ہیں۔یہی وہ
سماجی بے حسی ہے جو پورے معاشرے کو آہستہ آہستہ جذباتی طور پر مردہ بنا رہی ہے۔
میری شیلے شاید یہ کہنا چاہتی تھی کہ انسان کو تباہ کرنے کے لیے ہمیشہ تشدد ضروری نہیں ہوتا، کبھی کبھی صرف محبت نہ دینا کافی ہوتا ہے۔ اور
پاکستان شاید اسی خاموش محبت کی کمی کا شکار معاشرہ ہے۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ سنتے کم اور فیصلے زیادہ سناتے ہیں۔ یہاں انسان
کو اس کی روح سے نہیں بلکہ اس کی حیثیت، ذات، زبان، طبقے، عقیدے اور کامیابی سے پرکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں حساس لوگ
سب سے زیادہ تنہا ہیں۔ وہ اپنے ہی معاشرے میں اجنبی ہیں۔ وہ چیخنا چاہتے ہیں مگر انہیں ڈر ہے کہ لوگ ان کے درد کا مذاق اڑائیں گے۔
اور پھر یہی خاموش لوگ ایک دن مکمل طور پر اندر سے مر جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان میں اتنی بے حسی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ایک زخمی
معاشرہ آہستہ آہستہ دوسروں کے زخم محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور یہی کسی بھی قوم کی سب سے خطرناک موت ہوتی ہے۔
٭٭٭


