میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مہنگے پیٹرول کا چکر

مہنگے پیٹرول کا چکر

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۴ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

عطا محمد تبسم

پیٹرول کی ایک لیٹرقیمت 416روپے ادا کرنے پر میرے پاس صرف 80روپے بچے تھے ۔ 4روپے پیٹرول پمپ کے کیشیر کے پاس کھلے نہیں تھے ۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ پیٹرول پمپ سنسان تھا۔ لیکن شام کے وقت اسی پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی طویل قطار لگی تھی۔ میرے ایک ساتھی جو دفتر تین چار بس بدل کر آتے ہیں۔ اخراجات کا رونا رو رہے تھے کہ ہر مسافر بس اور کوچ نے کرائے میں 20 روپے کا اضافہ کردیا ہے ۔ اس ظالمانہ لوٹ مار پر عوام میں احتجاج کی بھی سکت نہیں رہی۔ سیاسی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔ لے دے کر ایک جماعت اسلامی ہے ، جو اپنے کارکنوں کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتی ہے ، لیکن عوام کی اکثریت اس موقع پر بھی تماشا دیکھتی ہے ۔ اور اس احتجاج کا حصہ نہیں بنتی۔ اپنے حق کے لیے آواز نہیں کرتی ۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی کہانی نہیں بلکہ یہ ملک کے کمزور معاشی ڈھانچے ، ناکام ٹیکس نظام، بڑھتے قرضوں اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ کی ایک طویل کہانی ہے ۔
گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے عالمی تیل منڈی میں بے یقینی ضرور پیدا کی، مگر پاکستان میں جس رفتار سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھیں، اس نے عوام کے ذہن میں ایک اہم سوال پیدا کر دیا کہ آخر عالمی سطح پر محدود اضافے کے باوجود پاکستان میں ایندھن اتنا مہنگا کیوں ہوا؟اس سوال کا سب سے اہم جواب حکومتی اداروں کی ناکامی ہے ، ٹیکس وصولی کا تباہ حال نظام ہے ، حکومت اب ٹیکس کی مد میں اس خسارے کو پٹرولیم لیوی سے پر کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت نے حالیہ دنوں میں پیٹرول پر لیوی بڑھا کر اسے 117روپے فی لیٹر سے بھی اوپر پہنچا دیا۔ یہی صورتحال ڈیزل کے ساتھ بھی دیکھی گئی۔ عالمی قیمتوں کے مطابق جہاں اضافہ محدود ہونا چاہیے تھا، وہاں حکومت نے اضافی بوجھ لیوی کی شکل میں عوام پر منتقل کر دیا۔ یوں واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومتی مالی پالیسی بھی طے کرتی ہے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ موجودہ مالی سال میں حکومت اپنے ٹیکس ہدف سے تقریباً 680ارب روپے پیچھے چل رہی ہے ۔ پاکستان کا ٹیکس نظام برسوں سے عدم توازن کا شکار ہے جہاں زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے اور بالواسطہ ٹیکسوں پر ڈالا جاتا ہے ، جبکہ بڑے تاجروں، ہول سیل مارکیٹوں، ریٹیل سیکٹر اور زرعی آمدن سے مؤثر ٹیکس وصولی نہیں ہو پاتی۔ حکومت جب مطلوبہ ریونیو حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ سب سے آسان راستہ اختیار کرتی ہے ، یعنی پیٹرولیم لیوی بڑھا دیتی ہے کیونکہ یہ ایسا جبری ٹیکس ہے ہر شہری خاموشی سے ادا کرنے پر مجبور ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے صرف دس ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں اپنے مقررہ ہدف سے سو ارب روپے زیادہ اکٹھے کر لیے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی روزمرہ نقل و حرکت، موٹر سائیکل کا خرچ، رکشہ ڈرائیور کی کمائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب حکومت کے لیے ایک مستقل ریونیو ماڈل بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال خطرناک اس لیے بھی ہے کیونکہ اس کا بوجھ براہ راست متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے ۔اس بحران کا دوسرا بڑا پہلو آئی ایم ایف کا دباؤ ہے ۔ پاکستان اس وقت شدید مالی مشکلات سے گزر رہا ہے اور ملکی معیشت بڑی حد تک عالمی مالیاتی اداروں کے سہارے کھڑی ہے ۔ آئی ایم ایف مسلسل حکومت پر زور دے رہا ہے کہ مالی خسارہ کم کیا جائے ، سبسڈیز ختم کی جائیں اور حکومتی آمدن بڑھائی جائے ۔ چونکہ حکومت طاقتور طبقات پر نئے ٹیکس لگانے یا ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں مشکلات محسوس کرتی ہے ، اس لیے وہ فوری حل کے طور پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرتی ہے تاکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔لیکن مسئلہ صرف ٹیکس وصولیوں تک محدود نہیں۔ پاکستان اس وقت قرضوں کے ایک بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے ۔ حکومت ہر سال اپنے بجٹ کا آدھے سے زیادہ صرف قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ کرتی ہے ۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے ۔ جب حکومتی اخراجات مسلسل بڑھیں اور آمدن کم رہے تو حکومت کے پاس تین ہی راستے بچتے ہیں: مزید قرضے لینا، نئے ٹیکس لگانا یا نوٹ چھاپنا۔ پاکستان اس وقت یہ تینوں کام بیک وقت کر رہا ہے ، اور اسی کا نتیجہ مسلسل مہنگائی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے ، جس کے نتیجے میں سبزی، آٹا، دودھ، چینی اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے ، کاروبار سست پڑتے ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید مزید کمزور ہو جاتی ہے ۔ یوں ایک لیٹر پیٹرول مہنگا ہونے کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔پاکستان کی توانائی پالیسی بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ ملک آج بھی اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 80فیصد درآمد کرتا ہے ۔ اگر گزشتہ دو دہائیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ، متبادل توانائی اور مقامی تیل و گیس کی تلاش پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جاتی تو آج پاکستان عالمی تیل بحرانوں سے اس قدر متاثر نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے ہر حکومت نے قلیل مدتی فیصلوں کو ترجیح دی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو نظرانداز کیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار قربانی صرف عوام ہی دیں گے ؟ کیا معاشی اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ موٹر سائیکل چلانے والے ، مزدور، رکشہ ڈرائیور اور متوسط طبقے پر ہی ڈالا جاتا رہے گا جبکہ طاقتور طبقات بدستور ٹیکس نظام سے باہر رہیں گے ؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک نازک معاشی دوراہے پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف قرضوں کا دباؤ، کمزور ٹیکس نظام اور آئی ایم ایف کی شرائط ہیں، جبکہ دوسری طرف عوام کی قوت خرید تیزی سے ختم ہو رہی ہے ۔ اگر حکومت نے صرف لیوی اور بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے معیشت چلانے کی کوشش جاری رکھی تو وقتی طور پر ریونیو ضرور بڑھ سکتا ہے ، مگر معیشت کی بنیاد مزید کمزور ہوتی جائے گی۔
پاکستان کو اب ایسے معاشی فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی ریلیف کے بجائے مستقل استحکام پیدا کریں۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر ضروری حکومتی اخراجات کم کرنا، برآمدات بڑھانا، توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کرنا اور قرضوں پر انحصار کم کرنا ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو اس بحران سے نکال سکتا ہے ۔ ورنہ ہر عالمی بحران کے بعد پاکستانی عوام کو مزید مہنگے پیٹرول، بڑھتی مہنگائی اور نئے ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں