میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ٹرمپ کا دورہ چین!

ٹرمپ کا دورہ چین!

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۴ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے ایک اہم دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں، لیکن اس بار ان کے اہداف ایک سال پہلے کے مقابلے میں کافی بدل چکے ہیں۔ گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھاری تجارتی ٹیکسوں (ٹیرف) کے ذریعے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرزکے مطابق، سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری غیرمقبول جنگ اور امریکی عدالتوں کے فیصلوں نے ٹرمپ کی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے، جس کے بعدخیال اغلب ہے کہ وہ اب چین کے ساتھ چند معاشی سودوں اور ایران کے معاملے پر بیجنگ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر الیجینڈرو ریئس کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹرمپ کو چین کی ضرورت زیادہ ہے، جبکہ چین کو ان کی ضرورت اتنی نہیں۔ ٹرمپ کو اس وقت خارجہ پالیسی میں ایک ایسی جیت کی ضرورت ہے جو دنیا کو دکھا سکے کہ وہ عالمی سیاست کو صرف بگاڑ نہیں رہے بلکہ استحکام بھی چاہتے ہیں۔اس دورے کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ ایپل کے سی ای او ٹم کک اور ٹیسلا کے ایلون مسک سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہان بھی ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں بوئنگ طیاروں کی خریداری، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں بڑے معاہدوں کا اعلان کیا جائے گا تاکہ ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے سکیں۔

تجارتی معاملات کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون جیمی لائی کی رہائی پر بھی بات کریں گے۔ جیمی لائی کو حال ہی میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ رہا ہو جائیں اور میں بھی انہیں باہر دیکھنا چاہتا ہوں۔تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی اصل توجہ ایران جنگ کے خاتمے پر ہوگی۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو سکے۔دوسری جانب یہ ایک واضح امر ہے کہ چین بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔بیجنگ کی ترجیحات میں تائیوان کا معاملہ سرِ فہرست ہے اور وہ امریکہ سے یہ یقین دہانی چاہے گا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ، چین چاہتا ہے کہ امریکہ ٹیکنالوجی کی برآمدات، خاص طور پر کمپیوٹر چپس پر لگی پابندیاں ختم کرے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کا ممکنہ نتیجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک سطحی فائر بندی ہو سکتا ہے جو عارضی طور پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کر دے گی، لیکن اس کا زیادہ فائدہ چین کو پہنچنے کا امکان ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی امیدوں کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صدر شی کی بہت عزت کرتا ہوں اور امید ہے کہ وہ بھی میری عزت کرتے ہوں گے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، اُس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمدات پرعاید کئے گئے سخت ٹیرف میں نرمی کر دی تھی۔ اس کے بعد بیجنگ میں تجارتی مسائل پر بات چیت کے لیے مذاکرات طے کیے گئے۔ لیکن اب امکان ہے کہ توجہ ایران میں جاری جنگ پر ہوگی، جس کا آغاز ٹرمپ نے 28 فروری کو بہت کم منصوبہ بندی کے ساتھ کیا۔ اب یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ایران پر حملے کے پیچھے بنجامن نیتن یاہوکا دباؤ تھا، جو ایران کے جوہری طاقت بننے سے خوفزدہ ہیں۔اس میں بہت کم شک ہے کہ ایران کی جنگ، جو اب خطے کے کئی ممالک کے درمیان جھڑپوں کی صورت اختیار کر چکی ہے، بیجنگ مذاکرات میں نمایاں حیثیت رکھے گی۔ چین
کوپاکستان کی طرح، اس بات پر تشویش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے اس کے اپنے مفادات کس طرح متاثر ہوں گے ۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور وہ ایران کو واشنگٹن کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچانے کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔ چین نے روس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی اُس قرارداد کو ویٹو کیا جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے کثیر القومی فوجی کارروائی کی اجازت دی جا سکتی تھی۔ تاہم، بعض باخبر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی کردار کو وسعت دینے کے حوالے سے چین کی دلچسپی محدود ہے۔ واشنگٹن میں بروکنگ یونیورسٹی سے وابستہ سابق سفارتکار ریان ہاس کے مطابق بیجنگ کی ترجیحات زیادہ ترعملی نوعیت کی ہیں۔ وہ توانائی تک قابلِ اعتماد رسائی، ضروری وسائل، اور اپنی برآمدات کے لیے محفوظ منڈیاں چاہتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے خطے کی سیکورٹی کے مسائل کو اپنا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے۔خلیج فارس کے پار، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات چین کو مشرق وسطیٰ میں بڑا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 20 اپریل کو ولی عہد محمد بن سلمان نے شی جن پنگ سے جنگ کے بارے میں بات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ چین اس خطے کے معاملات میں پہلے بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

2023میں چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں مدد دی تھی۔سعودی حکام کے مطابق، ریاض میں چین کو اپنے اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم فریق سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، چین کو تہران میں قیادت کی صورتحال کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کے اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد، سیاسی طاقت بظاہر پاسداران انقلاب کے پاس چلی گئی ہے، جو بیجنگ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔چین کے ساتھ یہ تعلقات پاکستان کے ساتھ بیجنگ کے تعلقات کے نمونے پر استوار کیے جا سکتے ہیں۔ان عوامل کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورے کے عالمی سیاست، تجارتی تعلقات اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ اور چین کے صدرشی جن پنگ کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں۔ اپنی صدارت کے دوران ٹرمپ نے ایک طرف شی جن پنگ کی ذاتی طور پر تعریف کی، جبکہ دوسری طرف چین کے خلاف تجارت، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ اسی لیے ان کے چین کے اس دورے میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آیا وہ محاذ آرائی چاہتے ہیں، مفاہمت کے خواہاں ہیں یا صرف سیاسی ڈرامہ بازی کر رہے ہیں۔ اس دورے کا ایک ممکنہ نتیجہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں کمی ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات تجارتی عدم توازن، محصولات (ٹیرف)، ٹیکنالوجی پر پابندیوں، تائیوان اور بحرالکاہل کے خطے میں فوجی مسابقت جیسے معاملات کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں چین سے درآمد ہونے والی سیکڑوں ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف عائد کر کے تجارتی جنگ کا آغاز کیا تھا۔ چین نے بھی جوابی اقدامات کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر محصولات لگائے، جس سے کسانوں، صنعت کاروں اور عالمی سپلائی چین کو نقصان پہنچا۔ اب اگر ٹرمپ چین کے رہنماؤں کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کی کوشش کرتے ہیں تو دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہو سکتا ہے۔ امریکی کمپنیاں جو چینی مینوفیکچرنگ پر انحصار کرتی ہیں، کم ٹیرف سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ چینی برآمد کنندگان کو بھی امریکی منڈی تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھ سکتی ہیں کیونکہ سرمایہ کار عموماً استحکام کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم ٹرمپ کے پارہ صفت مزاج کے سبب اس کے برعکس نتیجہ بھی ممکن ہے۔ ٹرمپ نے اکثر چین پر سخت تنقید کی ہے اور اس پر غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں، کرنسی میں ہیرا پھیری، دانشورانہ املاک کی چوری اور امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے ہیں۔ اگر یہ دورہ تصادم کی شکل اختیار کرتا ہے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ٹرمپ بیجنگ پر زیادہ رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، جبکہ چین ٹرمپ کا یہ دباؤ کو قبول کرنے سے گریز کر سکتا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو تے ہیں تو ٹرمپ کی جانب سے چین پرنئے ٹیرف، مزید پابندیاں اور دشمنی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔تائیوان کا معاملہ بھی اس دورے کا ایک اہم پہلو ہوگا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ تاریخی طور پر تائیوان کی دفاعی صلاحیتوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اگر ٹرمپ معاشی فوائد کے بدلے تائیوان کی حمایت کم کرنے کا اشارہ دیتے ہیں تو جاپان اور جنوبی کوریا جیسے امریکی اتحادی پریشان ہو سکتے ہیں ۔ دوسری جانب اگر وہ تائیوان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں تو چین فوجی مشقوں میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے مشرقی
ایشیا میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ٹیکنالوجی کی مسابقت بھی اہم موضوع ہوگی۔ ٹرمپ اور صدر جوبیڈن دونوں کے ادوار میں امریکہ نے ہوائی ٹیکنا لوجیزاور ٹک ٹاک جیسی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں۔ چین کے دورے کے دوران سیمی کنڈکٹر کی برآمدات، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکورٹی کے معاملات پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں ممالک کسی سمجھوتے پر پہنچ جاتے ہیں تو ٹیکنالوجی کی علیحدگی کی رفتار کم ہو سکتی ہے، ورنہ یہ مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی اس دورے کو متاثر کر سکتی ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں خود کو ایک سفارتی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحال کرانے میں کردار ادا کر کے۔ اگر خطے میں تنازعات بڑھتے ہیں تو ٹرمپ چین سے توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے یا ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے تعاون طلب کر سکتے ہیں۔چین کے لیے بھی یہ دورہ ایک موقع اور خطرہ دونوں ہو سکتا ہے۔ بیجنگ اسے اپنی عالمی حیثیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور امریکہ کی اندرونی سیاسی تقسیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تاہم چین کو یہ خدشہ بھی ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اس دورے کو صرف اپنی داخلی سیاست کے لیے استعمال کریں۔امریکہ کے اتحادی ممالک بھی اس دورے کو تشویش سے دیکھیں گے۔ جرمنی، فرانس ،بھارت ، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات اور سیکورٹی
خدشات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔امریکہ کے اندر بھی اس دورے کے سیاسی اثرات ہوں گے۔ ٹرمپ اس دورے کی کامیابی کی صورت میں اپنے حامیوں کو یہ باور کرا سکتے ہیں کہ وہ عالمی طاقتوں سے براہِ راست مذاکرات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین انہیں غیر مستقل مزاج یا چین کے لیے نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام دے سکتے ہیں۔طویل مدت میں اس دورے کا سب سے بڑا اثر علامتی ہو سکتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ شدید رقابت کے باوجود امریکہ اور چین ایک دوسرے کے ساتھ براہِ راست رابطے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تودونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، اور اگر ناکام ہوتے ہیں تو عالمی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ٹرمپ کایہ دورہ چین امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے یا پھر صرف ایک اور ڈرامائی باب۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس کے اثرات صرف واشنگٹن اور بیجنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سفارت کاری اور عالمی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں