میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کے ایم سی لیپروسی اسپتال خستہ حالی اور حکومتی غفلت کا شکار

کے ایم سی لیپروسی اسپتال خستہ حالی اور حکومتی غفلت کا شکار

ویب ڈیسک
منگل, ۱۲ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسپتال کی بوسیدہ چھتیں اور دیواریں عملے اور مریضوں کے لیے مستقل خطرہ بن گئیں
کوڑھ کے مریضوں کی آخری امید بننے والے اسپتال کو جنرل اسپتال بنانے پر غور

(رپورٹ:دعا عباس)منگھوپیر میں قائم کے ایم سی لیپروسی اسپتال خستہ حالی اور حکومتی غفلت کی تصویر بن چکا ہے ۔ اسپتال کی بوسیدہ چھتیں اور دیواریں عملے اور مریضوں کے لیے خطرہ بن گئی ہیں، جبکہ فنڈز کی کمی کے باعث انتظامیہ شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ 34 ایکڑ پر قائم یہ تاریخی اسپتال آج بھی ایسے بے سہارا مریضوں کی آخری پناہ گاہ ہے جنہیں اپنے ہی گھر والے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت سب سے قدیم اسپتال کی عمارت اب حادثات کا سبب بننے لگی۔ منگھوپیر کی پہاڑیوں کے دامن میں موجود لیپروسی اسپتال کی خستہ چھتیں اور دیواریں گرنے لگی ہیں، جس سے اسپتال کے اندر موجود عملہ اور مریض بھی محفوظ نہیں۔ منگھوپیر میں قائم کے ایم سی لیپروسی اسپتال حکومتی عدم توجہی کے باعث تباہ حالی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ جھڑتی چھتیں اور دیواریں اپنی روداد سنا رہی ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اسپتال کے پیچھے سڑک پر اگر کوئی ہیوی گاڑی گزر جائے تو کھڑکیاں کاغذ کی مانند دھاڑ کی آواز کے ساتھ نیچے آ گرتی ہیں۔ مسلسل شکایات کے باوجود سالوں سے مسئلہ جوں کا توں ہے ۔سلینڈر سے مریضوں کا کھانا بنتا ہے ، جس کے لیے 22 ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں، جو اسپتال انتظامیہ کے لیے فنڈز کی کمی کے باوجود مہیا کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اسپتال انتظامیہ اب مخیر حضرات کے رحم و کرم پر ہے اور ان سے مدد کی اپیل کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اسپتال مریضوں کو دو وقت کا کھانا دیتا ہے ، جبکہ ایک وقت کا کھانا ایک فلاحی ادارے کی جانب سے مریضوں کے لیے فراہم کیا جاتا ہے ۔یہ اسپتال دیگر اسپتالوں سے منفرد ہے ۔ 34 ایکڑ پر محیط یہ اسپتال 1896 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اسپتال دیگر اسپتالوں سے اس لیے منفرد ہے کیونکہ یہاں جذام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ ماضی میں یہ عمارت آبادی سے دور بنائی گئی تھی، جہاں کوڑھ کے مریضوں کو ان کے اپنے گھر والے بیماری کے خوف سے چھوڑ جاتے تھے ۔اس اسپتال میں مریضوں کے لیے مندر، مسجد، گرجا گھر اور امام بارگاہ بھی موجود ہے ، جہاں وہ اپنی عبادات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور اب اس اسپتال میں تمام مریضوں کا علاج کرکے انہیں لیپروسی فری کیا جا چکا ہے ۔ بہت سے مریض یہاں اپنی عمر گزار چکے ہیں مگر بیماری کے خوف اور آگاہی کی کمی کے باعث گھر والے انہیں اپنانے کو تیار نہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے یہ اسپتال امید کی آخری کرن ہے ۔اسپتال ذرائع کے مطابق آخری بار 2006-2007کے دوران سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے مرمت کروائی گئی تھی۔ حکام نے اس اسپتال کو جنرل اسپتال بنانے پر بھی غور کیا تھا، لیکن یہ معاملہ اب تک صرف یقین دہانیوں تک محدود ہے ۔اس اسپتال کی عمارت کراچی کے قدیم ترین ورثوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ مختلف شعبہ جات میں چھتیں ملازمین کے اوپر گر کر انہیں زخمی بھی کر چکی ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں