میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

ویب ڈیسک
بدھ, ۶ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا
راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا

ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ ان پر اتما نزئی میں فائرنگ ہوئی ۔ اس واقعہ میں دو گنرز بھی زخمی ہوگئے۔مولانا محمد ادریس دورہ حدیث درس دینے کے لیے دارلعلوم اتمانزئی جارے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہوا۔ ان کے جسد خاکی کوڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیاگیا جہاں اطلاع ملتے ہی ان کے ہزراروں کی تعداد میں عقیدت مند پہنچ گئے۔شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شمار پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی ۔ واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔شیح الحدیث مولانا محمد ادریس جو عام طور پر زینت المحدثین کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے مختلف دینی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں اور خصوصاً دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئی سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے درسِ حدیث دیا اور طلبہ کی تربیت کی۔ مولانا سمیع الحق شہید کے پرزور اسرار پر وہ اکوڑہ خٹک میں دورہ حدیث کی درس دے رہے تھے۔پشتو زبان میں ان کے خطبات عوام میں خاصے مقبول تھے جبکہ انہیں علاقے میں ایک بااثر مذہبی رہنما ء کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے مولانا ادریس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے مدرسے اتمانزئی میں صبح درس دینے کے بعد اپنے گھر جارہے تھے کہ راستے میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار جن کی تعداد چار بتائی جاتی ہے نے چاروں طرف سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں شیخ ادریس اور ان کے دونوں گارڈز ایلیٹ فورس کے جوان شدید زخمی ہو گئے جنہیں مقامی ہسپتال منتقل کر دیاگیا تاہم شیخ ادریس راستے میں دم توڑ گئے جبکہ ان کے دونوں گارڈز شدید زخمی ہیں جس میں نوید کی حالت خطرناک بتائی جارہی ہے ۔حملے کے فوری بعد پورے چارسدہ کی ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے اور مہمند جانے والے راستوں کو مکمل طور پر سیکورٹی اداروں نے اپنی نگرانی میں لیا ہے۔مولانا ادریس جمعیت علماء اسلام سے وابستہ رہے اور 2002ء سے 2007ء تک صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران وہ حسبہ ایکٹ کمیٹی کے چیٔرمین بھی رہے اور قانون سازی کے عمل میں حصہ لیتے ہوئے معاشرتی و اخلاقی نظام کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا۔ وہ جے یو آئی چارسدہ کے سرپرستِ اعلیٰ اور ضلعی امیر بھی رہے جبکہ مولانا فصل الرحمن کے اہم مشاورتی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ وہ جرگہ سسٹم کے ذریعے سماجی تنازعات کے حل میں بھی سرگرم رہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں