ملک ریاض کو ایک اور دھچکا،6 ارب روپے مالیت کی زمین حیدرآباد میں ضبط
شیئر کریں
نیب کراچی نے 6 ارب روپے مالیت کی 80ایکڑ قیمتی سرکاری زمین بحریہ ٹاؤن سے ریکور کرالی ،مذکورہ زمین غیر قانونی طور پر8 جنوری 2015 کومحض 38 کروڑ 30 لاکھ میں الاٹ کی گئی تھی
زمین یونیورسٹی کے قیام کے لیے الاٹ کی گئی تھی،3 سال میں یونیورسٹی کی تعمیر مکمل کی جائیگی، بصورت دیگر الاٹمنٹ منسوخ تصور ہوگی تمام ادائیگیاں ضبط کرلی جائیں گی، میسرز بحریہ ٹاون ناکام رہا
نیب کراچی نے حیدرآباد میں چھ ارب روپے مالیت کی 80 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کروادی۔ مذکورہ زمین غیر قانونی طور پر 8 جنوری 2015 کو قواعد کیخلاف ورزی کرتے ہوئے محض 38 کروڑ 30 لاکھ روپے میں بحریہ ٹاون کو الاٹ کی گئی تھی۔ زمین حیدر آباد کے پراِئم لوکیشن گلستان سرمست ہاوسنگ،دیھ گنجو ٹکر میں واقع ہے، زمین یونیورسٹی کے قیام کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔ زمین اس شرط پر الاٹ کی گئی کہ زمین پر 3 سال کی عرصہ میں یونیورسٹی کی تعمیر مکمل کی جائیگی، بصورت دیگر الاٹمنٹ منسوخ تصور ہوگی اور تمام ادائیگیاں ضبط کرلی جائیں گی۔جس میں میسرز بحریہ ٹاون ناکام رہا۔ انکوائری کے دوران، نیب کراچی کے سامنے یہ بات عیاں ہوئی کہ زمین غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاون کو 80 ایکڑ قمتی سرکاری زمین الاٹ کی گئی۔ جس کی مالیت اربوں میں ہے۔ نیب کراچی کی کوششوں اور مداخلت کے نتیجے میں حیدر آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بحریہ ٹاون کیطرف سے جزوی طور پر اد ا کی گئی رقم ضبط کرتے ہوئے مزکورہ زمین کی الاٹمنٹ کو منسوخ کردی۔ نیب کراچی کے اس اقدام سے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچا یا گیا۔


