ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار
شیئر کریں
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے
شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا
ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، سرف، دالیں اور چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 595 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے درجہ دوم کا گھی اور آئل 540 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح درجہ سوم کا گھی اور آئل بھی بڑھ کر 470 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے مزید برآں مختلف اقسام کے چاول بھی مہنگے ہو گئے ہیں، جو اس وقت 320 سے 640 روپے فی کلو کے درمیان فروخت کیے جا رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے اور سفید پوش طبقہ بھی شدید مالی دبائو کا شکار ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مور اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے دریں اثنا لاہور میں مرغی اورانڈوں کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث سستی پروٹین شہریوں کی پہنچ سے دورہوگئی سرکاری سطح پر برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت 519 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں 540 سے 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس سے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ہے۔فارمی انڈوں کی سرکاری قیمت 245 روپے فی درجن مقرر ہے، مگر بازار میں255 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ برائلر مرغی اور انڈے جیسے بنیادی اور نسبتا سستے پروٹین ذرائع اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہورہے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے، حکومت سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف موثر کارروائی کرے تاکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔


