صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی
شیئر کریں
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں
فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہوں ۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے قبائلی لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا، مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیا، قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور جیسے کالے قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ صوبائی حکومت نے ان 970 افراد کی لسٹ مانگی، خطوط لکھے مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، زیر حراست افراد کی فہرست موجود ہو تو ہر شخص کا مکمل حساب رکھا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیاکہ 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہو چکی ہیں، تمام وسائل کے باوجود امن قائم کرنے میں ناکامی تشویشناک ہے، امن کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے، یہی وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو سو دن میں امن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہوں۔ہم پرامن لوگ ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد پرامن طریقے سے جاری رکھیں گے، قبائلی نوجوانوں کو اشتعال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے، ہم ہر حال میں اپنی جدوجہد پرامن رکھیں گے، جو قانون اور آئین کی پاسداری نہیں کرتے ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جب فاٹا انضمام ہوا تو ہمارے ساتھ 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس مد میں ضم اضلاع کے 800 ارب روپے بنتے ہیں جن میں سے صرف 168 ارب روپے دیٔے گئے، اگر ضم اضلاع کی آبادی کا حصہ شامل کیا جائے تو این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا حصہ 14۔6 سے بڑھ کر 19 فیصد ہو جائے گا، تشکیل دیا جانے والا جرگہ ان مالی اور آئینی حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرے گا۔


