ایران اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کیلئے تیار ،امریکی میڈیا کا دعویٰ
شیئر کریں
سفارتکاری کا راستہ کھلا رکھنے کیلئے تیار ہیں لیکن امریکا کو دھمکی آمیز لہجہ بدلنا ہوگا، امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ ثالث کی حیثیت حاصل ہے،ایران
نئی تجویز میں امریکا سے ایران پر حملوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ختم کرنے کی ضمانت کا مطالبہ ،جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے مسائل پر گفتگو کی گئی ، ماہرین
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا ہماری تجویز پر بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہم پاکستان میں اگلے ہفتے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا کو جنگ بندی سے متعلق اپنی تجویز سے آگاہ کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے اہم مسائل پر گفتگو کی گئی ہے جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ پیغام اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔واقعے کی تفصیلات سے واقف افراد کا کہنا ہے کہ نئی ایرانی تجویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرائط پر بات کرنے کی پیشکش کی گئی ہے جبکہ شرائط میں امریکا سے ایران پر حملوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ختم کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس سے قبل ایران کا مطالبہ تھا کہ امریکا مذاکرات کی پیشگی شرط کے طور پر اس کی ناکہ بندی ختم کرے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت سے قبل جنگ کے خاتمے کی شرائط پر اتفاق کرے۔ تاہم ایران نے نئی تجویز میں نرمی کردی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی تجویز میں امریکی ناکہ بندی کو اور دیگر امریکی پابندیوں میں ریلیف کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے۔معاملے سے واقف اہلکاروں کا کہنا ہے ایران نے ثالثوں کو اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا نئی تجویز کے لیے تیار ہے تو وہ اگلے ہفتے کے اوائل تک پاکستان میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔


