میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ہم خود ہی کافی ہیں!

ہم خود ہی کافی ہیں!

ویب ڈیسک
اتوار, ۳ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

پاکستان میں ایک طاقت ہے ، نہ اس کا چہرہ ہے ، نہ نام، نہ کوئی باقاعدہ تعارف، مگر فیصلے اسی کے چلتے ہیں۔ کون قید میں جائے گا، کون اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے گا، کسے عزت ملے گی اور کسے ذلت، کب احتجاج ہوگا،کب خاموشی ہوگی،کب افراتفری ہوگی،کب سکون
ہوگا، یہ سب طے کہیں اورہوتا ہے ۔ میں نہیں جانتا وہ کون ہے ؟ شاید آپ بھی نہیں جانتے ؟ تو آئیے ، آسانی کیلئے اسے ایک نام دے دیتے ہیں” نامعلوم ”۔۔ عجیب بات ہے ، ہم سب اس ” نامعلوم ” کے فیصلوں کے نیچے زندہ ہیں، مگراس پربات کرتے ہوئے بھی ہچکچاتے ہیں۔اور ماننا پڑے گا، کارکردگی کمال ہے ۔ ماضی کو چھوڑیں، صرف چند سالوں میں ایسے ایسے فیصلے ہوئے ، کہ بڑے بڑے معاشی ماہر بھی حیران رہ جائیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں، اتنی بڑھیں کہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہوگئیں، مگرسڑکیں خاموش رہیں۔ بجلی مہنگی ہوئی، اتنی کہ بل ہاتھ میں آتے ہی سانس رک جائے ، مگر گلیاں سنسان رہیں۔ گیس کی قیمتیں بڑھیں، چولہے ٹھنڈے ہوئے ، مگرکہیں کوئی شعلہ احتجاج کا نہ بھڑکا۔یہ صرف اعداد نہیں تھے ، یہ ایک قوم کی برداشت کا امتحان تھا۔ اورنتیجہ؟” خاموشی ”۔ کسان خسارے میں گئے ، زمینیں ویران ہورہیں، کارخانے بند ہوئے ، بازار سست پڑ گئے ، مگرکہیں سے کوئی منظم آواز نہ آئی ۔ یہ خاموشی، یہ اتفاق نہیں ہو سکتا، یہ ایک پالیسی لگتی ہے ، ایک حکمت عملی، جہاں آواز سے زیادہ خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔
یہ خاموشی خودبخود پیدا نہیں ہوتی، اسے پیدا کیا جاتا ہے ، اور اس کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار کیا ہے ؟ ”تقسیم ”۔۔ ” نامعلوم ” اس ہنر میں کمال درجہ رکھتا ہے ، لوگوں کو اس طرح بانٹو کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔اور پھر ان پر حکومت کرو، بغیر کسی مزاحمت کے ۔۔ آج اس ملک میں ہر شخص کسی نہ کسی خانے میں بند ہے ۔ کوئی سیاسی جماعت کا قیدی ہے ، کوئی مسلک کا، کوئی زبان کا، کوئی نفرت کا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے ، ہرگروہ خود کو حق پرسمجھتا ہے ۔ اور دوسرے کو دشمن۔ اب ذرا غور کریں، جب بجلی مہنگی ہوتی ہے ، توکیا وہ صرف ایک جماعت کے ووٹرز پر اثرانداز ہوتی ہے ؟ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے ، تو کیا وہ صرف کسی ایک مسلک کو متاثر کرتا ہے ؟ نہیں۔ یہ سب کو متاثر کرتا ہے ، مگر پھربھی کوئی مشترکہ آواز نہیں اٹھتی، کیوں؟ کیونکہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف اتنا مصروف کر دیا ہے کہ ہم اصل مسئلے کو دیکھ ہی نہیں پاتے ۔ ہم مہنگائی پر بحث نہیں کرتے ، ہم اس بات پر لڑتے ہیں کہ مہنگائی کے ذمہ دار”ہمارے والے ” ہیں یا ” تمہارے والے”۔ ہم انصاف کی بات نہیں کرتے ، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جس کے ساتھ ناانصافی ہوئی، وہ ہمارے گروپ کا ہے یا نہیں؟ یہ وہ مقام ہے جہاں قومیں ٹوٹتی نہیں، اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور جب ایک قوم خود ہی اپنے اندر تقسیم ہو جائے ، تو اسے دبانے کیلئے کسی طاقت کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ ” نامعلوم ” صرف دھکا دیتا ہے ۔ اورہم خود ہی ایک دوسرے کو گرا دیتے ہیں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ، کہ ظلم بھی ہورہا ہے ۔اورمتاثرہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔ سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں ہوتا، جب کسی قوم پر ظلم شروع ہوتا ہے ، بلکہ وہ ہوتا ہے ، جب وہ ظلم معمول لگنے لگے ۔ ہم اُس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مہنگائی اب خبر نہیں رہی، روزمرہ کا حصہ بن چکی ہے ۔ بجلی کا بل اب صدمہ نہیں دیتا، ایک معمولی سی اذیت لگتا ہے ۔ ناانصافی اب چونکاتی نہیں، صرف ایک اور واقعہ محسوس ہوتی ہے ۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، یہ آہستہ آہستہ ہمارے اندر اتاری گئی ہے ۔ ہمیں صرف تقسیم نہیں کیا گیا،ہمیں عادی بنایا گیا۔ عادی کس چیز کا؟ ظلم سہنے کا، خاموش رہنے کا۔ اور پھر اسی خاموشی کو درست سمجھنے کا۔ اب حال یہ ہے کہ اگر کوئی آواز اٹھاتا بھی ہے ، تو سب سے پہلے ہم خود ہی اس پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ کس کے ایجنڈے پر ہے ؟ یہ کس کا بندہ ہے ؟ اس کا مقصد کیاہے ؟ یعنی ظلم پر سوال کرنے سے پہلے ، ہم سوال کرنے والے پر شک کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے ، جہاں ”نامعلوم” کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی،ہم خود ہی اس کے محافظ بن جاتے ہیں۔ اور شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ، کہ زنجیریں بھی ہمارے ہاتھوں میں ہیں۔ اور تالیاں بھی ہم خود بجا رہے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو تکلیف میں بھی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اور نقصان میں بھی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ کوئی مہنگائی کو ”قومی مجبوری ” کہتا ہے ، کوئی اسے ”اصلاحات ” کا نام دیتا ہے ۔ اور کوئی اسے ”وقت کا تقاضا”سمجھ کر خاموش ہوجاتا ہے ۔ مگر سچ؟ سچ یہ ہے کہ ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اور جب سوال مرجائیں، تو جواب دینے والے خود بخود بادشاہ بن جاتے ہیں۔
قومیں اچانک تباہ نہیں ہوتیں، وہ آہستہ آہستہ اندر سے ختم ہوتی ہیں۔ پہلے سچ کمزور ہوتا ہے ، پھر سوال مر جاتے ہیں۔ اور آخر میں ضمیر خاموش ہو جاتا ہے ۔ ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں، یہاں اب غلط اور صحیح کا فرق ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ جو طاقتور ہے ، وہی درست ہے ۔ اورجو کمزور ہے ، وہی قصوروار ٹھہرتا ہے ۔ یہ وہ معاشرہ ہوتا ہے ، جہاں قانون کتابوں میں رہ جاتا ہے ۔ اور انصاف صرف تقریروں میں۔ ادارے کھڑے نظر آتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں۔ فیصلے ہوتے ہیں، مگر انصاف نہیں ہوتا۔اورعوام، وہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایسے جیتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کیونکہ انہیں جینا ہے ، روزی کمانی ہے ۔ اور زندہ رہنے کیلئے سچ کو نظر انداز کرنا آسان لگتا ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے ،جہاں ” فیصلہ سازوں ” کو سب سے زیادہ سکون ملتا ہے ۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی مزاحمت، نہ کوئی خطرہ ۔ صرف ایک خاموش، تھکی ہوئی قوم، جو ہربوجھ اٹھانے کیلئے تیارہے ۔
سوال یہ نہیں کہ ”نامعلوم” کون ہے ، سوال یہ ہے کہ اسے طاقت کون دے رہا ہے ؟ کیا وہ واقعی اتنا طاقتور ہے ؟ یا ہم نے اسے اتنا طاقتور بنا دیا ہے ؟ ذرا آئینے میں دیکھیں، کہیں ایسا تو نہیں، کہ جس طاقت کو ہم کوس رہے ہیں، اس کی جڑیں خود ہمارے اندر ہیں؟ ہم ہی وہ لوگ ہیں، جو حق دیکھ کر بھی چپ رہتے ہیں، جو ظلم سہہ کر بھی دلیلیں تراشتے ہیں،جوسچ سن کربھی اسے اپنے مفاد کے ترازو میں تولتے ہیں، ہمیں مسئلہ مہنگائی سے نہیں ہوتا، ہمیں مسئلہ تب ہوتا ہے ، جب مہنگائی ہمارے مخالف کے دور میں ہو، ہمیں ناانصافی تکلیف نہیں دیتی، ہمیں تکلیف تب ہوتی ہے ، جب ناانصافی ہمارے اپنے ساتھ ہو، ہم انصاف نہیں چاہتے ، ہم صرف اپنے حق میں فیصلہ چاہتے ہیں اور یہی وہ سوچ ہے ، جو ہر ”نامعلوم ” کو جنم دیتی ہے ، وہ باہر کہیں نہیں بیٹھا، وہ ہمارے رویّوں میں ہے ، ہماری ترجیحات میں ہے ، ہماری خاموشیوں میں ہے ۔ ہم نے اسے بنایا ہے ، ہم ہی اسے طاقت دیتے ہیں اور پھر ہم ہی اس کا رونا روتے ہیں۔ یہ ایسا کھیل ہے ، جس میں ہم مظلوم بھی ہیں۔اور شریکِ جرم بھی۔ اب سوال یہ نہیں کہ ملک کس طرف جا رہا ہے ، سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں؟ کیونکہ تاریخ جب فیصلہ سناتی ہے ، تو وہ صرف حکمرانوں کو نہیں دیکھتی، وہ قوموں کے کردار کو بھی تولتی ہے اوراگر ہم نے خود کو نہ بدلا، تو کل جب کوئی پوچھے گا، کہ اس سب کا ذمہ دار کون تھا؟ تو شاید ہمیں جواب دینے کیلئے ، کسی ” نامعلوم ” کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہم خود ہی کافی ہوں گے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں