صنعتی پھیلاؤ میں کمی، بیروزگاری ،معاشی نمو کی پست شرح
شیئر کریں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے دنیا ایک ایسے بحران کی گرفت میں آ چکی ہے جس کی بازگشت ہر
براعظم میں سنائی دے رہی ہے،
پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی کچھ زیادہ متوازن اور صحت مند نہیں ہے۔ صنعتی پھیلاؤ میں کمی، معاشی نمو کی پست شرح اور بے روزگاری نے عام شہری کی قوت خرید میں سکڑاؤپیدا کر دیا ہے۔
ٹیکسوں کی بھرمار بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اس پر مستزاد ہمارا نظام ہے،کمزور، بے ترتیب نظام جس کی چکی میں عام شہری پستا ہی چلا جا رہا ہے۔ ایک ریڑھی فروش سے لے کر جنرل اسٹورکے مالکان تک من مانی کرنے اور عوام کو لوٹنے میں آزاد نظر آتے ہیں۔
مہنگائی کی تباہ کاریاں اپنی جگہ ہیں، دکانداروں، سپلائرز اور پیدا کنندگان کی من مانیوں نے معاملات کے بگاڑ میں شدت پیدا کی ہے۔ عام شہری کو حصول انصاف کا یقین ہی نہیں رہا ہے۔ عام شہری کو اپنی شنوائی کے بارے میں اب یقین تو کجامید بھی نہیں رہی ہے۔
ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہماری عدالتیں اور نظام انصاف مکمل طور پرظلم و ناانصافی پر کھڑا ہے۔معاشی نمو میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔معیشت پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے اور غیر پیداواری اخراجات بھی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ قرضوں پر طے شدہ سود واصل زر کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
حکومت کی ادارہ جاتی مینجمنٹ ہی نہیں معاشی مینجمنٹ بھی عامتہ الناس کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی ناکامیاں، مایوسی میں
اضافہ کررہی ہیں۔ ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ان بدلتے ہوئے حالات میں اپنے آپ کو کیسے ایڈجسٹ کریں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر اس جنگ کے انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری برداشت کی حد 120 ڈالر فی بیرل کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔ ہم پہلے ہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ معاشی استحکام کیلئے قرض خواہوں کے نسخے اور ٹوٹکے آزما رہے ہیں لیکن بات نہیں بن پا رہی ہے۔ مسائل نمٹ نہیں رہے، ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورے کرنے میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا تھا، جنگ نے انہیں دوچند کر دیا ہے۔نوجوانوں کو جو ہماری آبادی کا 63.67فیصد ہیں اس نظام پر قطعاً یقین نہیں رہا۔ان کی اکثریت کو اب وطن عزیز میں اپنا حال اور مستقبل نہیں نظر آرہاہے جس کی وجہ سے اب وہ یہاں رہنا ہی نہیں چاہتے ۔جس کی وجہ سے ملک چھوڑنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جو بھی کچھ کرنا چاہتا ہے وہ بیرون ملک منتقلی ہی میں اپنا حال اور مستقبل دیکھتا ہے۔ اس صورتحال کے سبب ملک میں دن بدن کارآمد افراد کی دستیابی مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے۔
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان لاکھوں پاکستانی ورکرز کے لیے پسندیدہ مقامات ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی ماہر اور غیر ماہر افراد ان ممالک میں جا کر ملازمت کرتے ہیں جو پاکستانی خلیجی ممالک میں پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کی تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہے،لیکن اس جنگ کی وجہ سے اب ان کی نوکریاں بھی داؤ پر لگ چکی ہیں۔یہ جنگ اگر طوالت پکڑتی ہے تو اس کا اثر پاکستانی لیبر مارکیٹ پر کس حد تک پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے پاس جو قیمتی زرمبادلہ آتا ہے اس کی ترسیل رک گئی تو اس کے اثرات
پاکستانی معیشت پر کتنے تباہ کن ہوں گے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے مطابق 2011-25 کے دوران پاکستان سے تقریباً ایک کروڑ لوگ ملازمتوں کے لیے بیرونی ممالک میں گئے۔ان میں سے خلیجی ممالک میں 90 لاکھ، 74 ہزار، 208 لوگ ملازمت کے لیے گئے، یعنی 90 فیصد لوگوں کی منزل خلیجی ممالک ہی تھی جہاں انہیں باعزت روزگار ملا اور وہ اپنے خاندان کی کفالت کے قابل ہو سکے۔پاکستان سے جو لوگ باہر گئے ان میں خلیجی ممالک میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ یعنی 54.5، متحدہ عرب امارات میں 31.3، اومان میں 7.5، قطر میں 4.1، بحرین میں 2.1، کویت میں 0.2 اور عراق میں 0.3 فیصد افرادی قوت کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔اسی تناسب سے پاکستان میں جو ترسیلات زر آتی ہیں ان میں بھی خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر کا تناسب 54.1 فیصد ہے۔یعنی صرف گذشتہ مالی سال کے دوران خلیجی ممالک سے 20.72 ارب ڈالر کی قیمتی ترسیلات زر وصول ہوئیں۔پاکستان کی گذشتہ سال کی مجموعی ترسیلات زر میں امریکہ، برطانیہ، یورپی اور دیگر ممالک کا حصہ 17.58 ارب ڈالر بنتا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2010 میں پاکستان کی لیبر فورس جو 5کروڑ 70 لاکھ افراد پر مشتمل تھی وہ 2024 میں بڑھ کر8 کروڑ 30 لاکھ ہو گئی، جس میں سے 80 لاکھ لوگوں کو مشرق وسطیٰ میں ملازمتیں ملیں۔یہ تعداد گذشتہ 14 سال میں ملازمتوں کے قابل ہونے والے نئے افراد کی تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔یعنی اس عرصے میں ملازمت کے خواہاں ہر 3 میں سے ایک کو خلیجی ممالک میں نوکری ملی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع اور وہاں سے آنے والی ترسیلات زر پاکستان کا خط حیات ہیں۔
پاکستان نوجوان آبادی کے تناسب کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جس کی 40.3 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ہر سال مزید 20 لاکھ نوجوانوں کو نوکریوں کی ضرورت پڑتی ہے مگر اندرون ملک معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی وجہ سے وہ روزگار حاصل نہیں کر پاتے اس لیے انہیں بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق فی الحال ایسے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکے کہ آگے جا کر کیا ہونے والا ہے؟ تاہم کرونا کی وبا کے دوران یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا تھا اور 2020-21 کے دوران 10 لاکھ لوگ روزگار کے حصول کے لیے بیرونی ممالک کا سفر نہیں کر سکے تھے۔اگر ہم گذشتہ3 سال کے اعداد و شمار دیکھیں تو اس سال محدود تخمینے کے مطابق بھی اس جنگ کی وجہ سے ایک لاکھ، 14 ہزار سے دو لاکھ، 28 ہزار افراد باہر نہیں جا سکیں گے اور اگر حالات کچھ زیادہ خراب ہو گئے تو یہ تعداد 3 لاکھ 80 ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر میں کمی، سعودی عرب سے سب سے زیادہ ڈالر آئے بہت زیادہ خرابی کی وجہ سے یہ تعداد 14 لاکھ کے تشویش ناک ہندسوں کو چھو سکتی ہے۔پاکستان میں پہلے ہی افغان ٹریڈ روٹ بند ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں بیروزگاری سنگین حدوں کو چھو رہی ہے۔اگر خلیجی ممالک سے ہمارے کارکن واپس آتے ہیں تو پھر بیروزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہماری ترسیلات زر بھی بری طرح متاثر ہوں گی جو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف
ڈیولپمنٹ اکنامکس کے مطابق 4.3 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہیں۔جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہماری برآمدات پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں جو پاکستان کی کل برآمدات کا 11 فیصد ہیں۔اس جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔اگر آبنائے ہرمز مزید 3 ماہ بند رہتی ہے تو تیل کی قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔اس منظر نامے میں پاکستان کی تیل کی برآمدات کا ماہانہ بل 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جس سے پاکستان میں مہنگائی کا تناسب جو پہلے ہی 7 فیصد ہے وہ 17 فیصد تک پہنچ جائے گا۔پاکستان کے لیے خطرہ صرف تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہی نہیں بلکہ اس کی معیشت میں ترسیلات زر کا وہ کلیدی کردار بھی ہے جو اس جاری جنگ میں متاثر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے اور اس کے بعد تہران کی جانب سے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملوں نے پورے خطے کو انتشار میں ڈال دیا ہے۔ ابھی تک اس جنگ کے باعث پاکستانی مزدوروں کے بڑے پیمانے پر خطے سے انخلا نہیں ہواہے لیکن اس جنگ کی وجہ سے بیرون ملک ملازمت کیلئے جانے والوں کی تعداد مارچ میں 50,000 تک کم ہو گئی۔ مارچ میں پروازوں میں خلل اور ایران جنگ کے سبب پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث دیگر ممالک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں 10,000 کی کمی آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی بنا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں پروازوں میں خلل اور ایران جنگ کے سبب پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے باعث دیگر ممالک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد میں 10,000 کی کمی آئی ہے۔امیگریشن حکام کے مطابق متعلقہ وزارت ہر ماہ تقریباً 60,000 افراد کی روانگی کے انتظامات کرتی ہے، مارچ میں یہ تعداد 50,000 تک گر گئی۔ حکام نے اس کمی کا سبب نہ صرف علاقائی کشیدگی بلکہ جنگ کے سبب پروازوں کی محدود دستیابی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو بھی قرار دیا۔ جنگ کے اقتصادی اثرات کا واضح اندازہ آنے والی ترسیلات کے اعداد و شمار سے ہوگا اپریل کی ترسیلات کے اعداد و شمار اس صورت حال کے حقیقی اقتصادی دائرہ کار کو ظاہر کریں گے۔اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے متعلقہ حکام اعلیٰ سطح کی مشاورت کے ذریعے فعال طور پر نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ ان شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کی جیسے تعمیرات اور صحت کی دیکھ بھال، جو بحران کے بعد بڑھ گئے ہیں نشاندہی کر رہے ہیں۔
خلیجی ممالک سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو فروری میں 3.3 ارب ڈالر کی بیرون ملک ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے حصہ دار تھے۔وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے اور بتایا کہ موجودہ مالی سال جولائی2025 تا فروری2026 کے دوران خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث غیرملکی سرمایہ کاری میں55 فیصدکمی ہوئی ہے۔وزیراعظم آفس کے عہدیدار نے بتایا کہ پاک افغان کشیدگی، ایران امریکہ، اسرائیل جنگ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد میں 22فیصد کمی ہوئی۔اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد بالترتیب 3166.3اور 4280.3ملین ڈالر رہی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد 3088.7سے کم ہو کر 2409.2ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ادارہ شماریات پاکستان نے ماہانہ بنیادوں پر تجارتی اعداد و شمار سے متعلق جونئی رپورٹ جاری کی ہے، اس کے مطابق ملک کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران تجارتی خسارہ 23 فیصد بڑھ کر 28 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ خسارہ 22.67 ارب ڈالرز تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران برآمدات میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور برآمدات کا مجموعی حجم 22.73 ارب ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 24.72 ارب ڈالرز تھا۔ دوسری جانب درآمدات میں 6.64 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا مجموعی حجم 50.54 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں درآمدات 47.39 ارب ڈالرز تھیں۔مارچ 2026 کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں 14.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور برآمدات 2.26 ارب ڈالرز رہیں، جبکہ مارچ 2025 میں یہ 2.64 ارب ڈالرز تھیں۔اسی ماہ درآمدات 4.99 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئیں، جس کے نتیجے میں مارچ 2026میں تجارتی خسارہ 2.73 ارب ڈالرز رہا، جو گزشتہ سال مارچ میں 2.63 ارب ڈالرز تھا، یعنی سالانہ بنیادوں پر 3.71 فیصد اضافہ ہوا۔ پچھلے سال 763,000 پاکستانی ورکرز خلیجی ممالک گئے، اگرچہ اس سال ابتدائی ہدف 800,000 تھا، لیکن موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورت حال میں ان اہداف کی ا سٹریٹجک انداز میں دوبارہ ترتیب ضروری ہے۔اس صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار پاکستان کی ہنر مند اور بے ہنر افرادی قوت کی برآمد کیلئے نئے ذرائع تلاش کرے تاکہ ترسیل زر کی روانی برقرار رہے اور برآمدات میں ہونے والی کمی سے زرمبادلے کے ذخائر پر پڑنے والے منفی اثرات کا مقابلہ کیاجاسکے۔
٭٭٭


