میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بسم اللہ سٹی میں کرپشن اور غیرقانونی تعمیرات عروج پر

بسم اللہ سٹی میں کرپشن اور غیرقانونی تعمیرات عروج پر

ویب ڈیسک
پیر, ۶ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

نواز سمیجو، جنید آرائیں اور اورنگزیب رضی کے نیٹ ورک کا انکشاف، کاشان بطور جعلی انسپکٹر سرگرم
رشوت کے عوض رہائشی پلاٹس کمرشل میں تبدیل،تعمیراتی لاقانویت پر شہریوں کا شدید احتجاج

حیدرآباد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نظام میں سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں ریجنل ڈائریکٹر نواز سمیجو کے نامزد کردہ افسران پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنید آرائیں، جو لطیف آباد یونٹ نمبر 9، 10 اور واٹ جی کے علاقوں کی نگرانی پر مامور ہیں، مبینہ طور پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ان علاقوں میں بغیر منظوری عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔مزید برآں ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے زیرِ اثر کام کرنے والے کاشان نامی شخص، جو سرکاری طور پر نائب قاصد کے عہدے پر تعینات ہے ، مبینہ طور پر خود کو انسپکٹر ظاہر کر کے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص نے بسم اللہ سٹی میں رشوت کا منظم نظام قائم کر رکھا ہے ، جہاں تعمیراتی اجازت ناموں اور خلاف ضابطہ تعمیرات کے عوض بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کاشان نے بسم اللہ سٹی میں اپنی ذاتی پراپرٹی بھی تعمیر کی ہے ، جبکہ رہائشی پلاٹس کو کمرشل استعمال میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی عمارتوں کی اجازت دے کر علاقے کے ماسٹر پلان کو شدید متاثر کیا جا رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف شہر کا نقشہ بگڑ رہا ہے بلکہ بنیادی سہولیات کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے ۔ علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف شفاف تحقیقات کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ، تاکہ شہر میں بلڈنگ قوانین کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں