کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
آخر یہ دنیا اتنی بے رحم کیوں ہوگئی؟ یہ کیسا المیہ ہے کہ دعائیں مانگنے والے ہاتھ، بارود اٹھاتے ہیں ؟ یہ کیسی عبادت ہے جس میں سجدے کم اورلاشیں زیادہ نظر آتی ہیں؟ یوں لگتا ہے جیسے ہرخطے میں ایک ہی اسکرپٹ دہرایا جا رہا ہو،ملک بدلتا ہے ،کردار بدلتے ہیں، زبان بدلتی ہے ، مذہب بدلتا ہے مگرانجام ایک ہی رہتا ہے!!
”انسان کا خون ” ۔۔
ٹی ٹی پی سے لیکر القاعدہ تک، آرمی آف گارڈ سے لارڈزریزسٹنس آرمی تک، کاچ کاہانے چائی سے لیکرجیوش انڈرگراؤنڈ تک، ابھینو بھارت سے بجرنگ دل تک،969موومنٹ سے لیکر بودو بالا سینا تک۔۔۔۔ آپ دنیا کے کسی بھی کونے جائیں،جہاں بھی آگ اورخون کا کھیل ہوگا،اس کے پیچھے مذہبی انتہا پسند ہونگے ۔۔۔کہیں مسجد کے نام پر خون بہایا جا رہا ، کہیں مندرکے نام پرنفرت بانٹی جا رہی ، کہیں چرچ کے سائے میں انسانیت سسک رہی ، کہیں کنیسہ کے نام پر بارود بچھایا جارہا ، ہرطرف خدا کا نام ہے مگر خدا کی مخلوق محفوظ نہیں۔ اگرذرا رک کر، بغیرکسی تعصب کے دیکھا جائے تو ایک تلخ سچ سامنے آتا ہے ،آج کے دور میں سب سے خطرناک ہتھیار شاید بندوق نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو مذہب کے نام پرانسان کو انسان کا دشمن بنا دیتی ہے ۔یہ کہانی کسی ایک خطے ، کسی ایک قوم یا کسی ایک مذہب تک محدود نہیں۔ اگر آپ اس نقشے کو پھیلائیں تو اس پر لگے سرخ دھبے آپ کو ایک ہی کہانی سناتے نظر آئیں گے ،کہیں ٹی ٹی پی کے نام پر معصوم جانیں لی جا رہی ہیں، جہاں بارود کو ”جہاد”کا نام دے کر نوجوان ذہنوں کو موت کے سوداگروں میں بدلا جا رہاتو کہیں بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیمیں مذہب کے نام پر نفرت کی دیواریں اونچی کررہی ہیں، جہاں اختلاف کو غداری اور تشدد کو حب الوطنی بنا کر پیش کیا جا رہا۔مشرق وسطیٰ میں فرقہ واریت کی آگ دہائیوں سے جل رہی ہے ، جہاں مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسا بنا دیا گیا۔افریقی ممالک میں دیکھ لیں،وہی کہانی اورمغرب میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں،وہاں سفید فام بالادستی کے نظریات کو اکثر عیسائیت کے ساتھ جوڑ کر ایک خطرناک بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے ہر خطے میں ایک ہی اسکرپٹ دہرایا جا رہا ہو۔ ملک بدلتا ہے ،کردار بدلتے ہیں، زبان بدلتی ہے ، مذہب بدلتا ہے مگر انجام ایک ہی رہتاہے ۔
” انسان کا خون”۔۔
اور پھرجب ہم عالمی سیاست کے بڑے پردے کو ہٹاتے ہیں تو ایک اور پیچیدہ تصویر سامنے آتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ کی مسلسل جنگی فضا ہویا ایران جنگ، اس کے پیچھے امریکی ایوینجیلیکل عیسائیوں کے اثر و رسوخ کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ سفید فام ایوینجیلیکل عیسائیوں کو یقین ہے کہ خدا نے اسرائیل کی سرزمین یہودیوں کو دی ہے ، اسرائیل کا قیام بائبل کی پیش گوئی کی تکمیل ہے ،ان کا عقیدہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ واپس آئینگے اوروہ یروشلم کے قریب (زیتون کے پہاڑ) پر اتریں گے ،دشمنوں کو شکست دینگے ، وہ زمین پر ایک ہزار سال تک امن و انصاف کی حکومت قائم کریں گے ،تمام یہودی بھی ان پرایمان لائیں گے ۔ان کا عقیدہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آمد قریب ہے ، ان کی آمد سے قبل اسرائیل کا مضبوط ہونا ضروری ہے ۔اس لیے وہ اسرائیل کی فوجی، سیاسی اور معاشی مدد کو مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سے ”خدا کا منصوبہ” پورا ہوتا ہے ۔امریکا میں ایوینجیلیکل عیسائیوں کی تعداد سات کروڑ اسی لاکھ ہے ،ان کی ایک تنظیم ہے
” کرسچنز یونائیٹڈ فار اسرائیل ”۔یہ تنظیم کانگریس اوروائٹ ہاؤس پر دباؤ ڈالتی ہے کہ امریکا اسرائیل کو فوجی امداد دے ، سفارت خانہ یروشلم منتقل کرے اور ایران جیسے دشمنوں کے خلاف کھڑا ہو۔ ایوینجیلیکلز کا یہ اثر ری پبلکن پارٹی میں خاص طور پرمضبوط ہے ، جو امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کرتا رہا ہے ۔خلاصہ یہ کہ امریکی ایوینجیلیکل عیسائی اسرائیل کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ بائبل کی پیش گوئیوں کی تکمیل، خدا کے عہد کی پاسداری اور عیسیٰ مسیح کی دوسری آمد کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے ۔ یہ ان کے عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ سادہ الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں ایران جنگ کے پیچھے بھی ”مذہبی دہشت گرد” ہی ہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کون سا عقیدہ درست ہے اور کون سا غلط ۔۔۔؟بلکہ یہ ہے کہ جب عقیدہ طاقت کے ایوانوں میں داخل ہو جائے تو وہ پالیسی بن جاتا ہے اور جب پالیسی پر مذہب کا سایہ گہرا ہو جائے تو اس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس ہوتے ہیں۔ شاید مسئلہ مذہب نہیں،شاید مسئلہ وہ ہاتھ ہیں، جو مذہب کو تھام کرانسانیت کو چھوڑ دیتے ہیں۔
حل کیا ہے ۔۔۔۔؟
کیا دنیا سے مذاہب ختم کر دیے جائیں؟ یا انسان کے دل سے عقیدہ نکال دیا جائے ؟ مسئلہ مذہب کا وجود نہیں، مسئلہ اس کا استعمال ہے ۔ جب مذہب انسان کے اندر اترتا ہے تو وہ اسے نرم، برداشت کرنے والا اور محبت بانٹنے والا بناتا ہے مگر جب یہی مذہب انسان کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ اکثر ہتھیار بن جاتا ہے ۔آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے عقائد پرانگلی اٹھائیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اپنے عقیدے کے اندرچھپی انسانیت کو تلاش کریںکیونکہ اگر مسجد سے نکلنے والا انسان محفوظ نہیں، مندر سے لوٹنے والا خوفزدہ ہے ، چرچ میں دعا مانگنے والا غیر یقینی کا شکار ہے اور کنیسہ میں بیٹھا فرد خود کو تنہا محسوس کرتا ہے تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ کہیں نہ کہیں ہم سب نے اصل راستہ کھو دیا ہے ۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خدا کو اپنے اپنے خانوں سے نکال کر انسانیت کے بیچ لے آئیں ،کیونکہ خدا کو خون کی نہیں، انسان کو انسان کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ایک دن تاریخ پھر وہی سوال پوچھے گی، تمہارے پاس مذہب تو تھا مگرکیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟
٭٭٭


