میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا

عمران خان رہائی فورس کی تشکیل، آئینی عدالت نے سہیل آفریدی، حکومتسے جواب طلب کرلیا

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو،سماعت کے دوران عدالت کا استفسار
سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے، سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں،رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی حدود سے متصادم ہو سکتی ہے، چیف جسٹس امین الدین خان

وفاقی آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل پر 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ حکومت اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ رہائی فورس کی تشکیل قانون اور آئینی حدود سے متصادم ہو سکتی ہے، انہوں نے مختلف دستاویزات اور شواہد عدالت میں پیش کئے جبکہ تھریٹ سے متعلق اخباری آرٹیکلز کا حوالہ بھی دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کی تشکیل کی اجازت دی گئی ہے، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ کابینہ کی جانب سے ایسی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دیٔے کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو، چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سزا یافتہ انسان کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے،سزا یافتہ افراد کیلئے ایسی فورس کی تشکیل پر سنجیدہ قانونی سوالات اٹھتے ہیں۔ سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کا مقابلہ ’ڈاکوؤں‘ سے ہے، تاہم عدالت نے اس حوالے سے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں