میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کا آخری کارڈ

ایران کا آخری کارڈ

ویب ڈیسک
اتوار, ۲۹ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

امریکا اس دن سے ڈرے جس دن سپریم لیڈر فتویٰ جاری کرینگے ۔۔۔ پھر ہوگیا کیا۔۔۔؟ لڑائی رہائشگاہوں اورہوٹلوں میں منتقل
ہوجائے گی،مشرق وسطیٰ امریکا کیلئے ویتنام ثابت ہوگا۔۔۔حالات کوئی اچھے نظر نہیں آرہے ،خوفناک صورتحال ہے ۔۔۔مشرق وسطیٰ
آگ کے دہانے پر کھڑا ہے ، بارود کی بو فضا میں گھلی ہوئی ۔۔۔ اور طاقت کے ایوانوں میں فیصلے ایسے ہو رہے ہیں جن کی بازگشت صدیوں
تک سنی جائے گی۔۔۔۔
یہ کوئی معمولی جنگ نہیں، یہ صرف میزائلوں، ڈرونز اور بحری بیڑوں کی لڑائی بھی نہیں،یہ اعصاب کی جنگ ہے ، صبر کی جنگ ہے ۔۔۔
اور حکمت عملی کی آخری حدوں کو چھونے کی جنگ ہے ۔عالمی مبصرین کہہ رہے ہیں تنازع طویل ہوسکتا ہے ۔ ایران کے پاس روایتی اور غیر
روایتی دونوں طرح کے آپشنز موجود ہیں،جدید میزائل سسٹمز، آبنائے ہرمز کی بندش ۔۔۔۔اور زیرسمندر بچھے ڈیٹا کیبلز جن پر آج کی دنیا
کی معیشت اور مواصلات کا دارومدار ہے ۔ اگر یہ تاریں کٹ جائیں، تو صرف انٹرنیٹ نہیں رکے گا، دنیا کی سانس رک جائے گی۔۔۔۔مگر
ان سب کے بیچ ایک سوال ہے ، ایک خدشہ ہے ،کیا جنگ صرف ہتھیاروں تک محدود رہے گی۔۔۔۔؟تاریخ ہمیں بتاتی ہے جنگوں کے رخ
بدل جاتے ہیں،جنگ میدانوں سے نکل کر گلیوں میں آ جاتی ہے ، فوجوں سے نکل کر افراد تک پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔ اوریہی وہ مقام ہوتا ہے
جہاں جنگ سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے ۔۔۔۔اگر اس خطے میں کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی، تو ایک ایسا مرحلہ بھی آ سکتا ہے
جہاں بیانیے ، فتوے ، اور جذبات ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور بن جائیں،جہاں جنگ صرف فوجی اڈوں تک محدود نہ رہے ، بلکہ ایک غیر
متعین، بے قابو صورت اختیار کر لے ۔ ایسی جنگ جس میں نہ محاذ واضح ہو، نہ انجام،یہ وہ راستہ ہے جس پر ایک بار قدم پڑ جائے ، تو واپسی
ممکن نہیں رہتی۔۔۔۔امریکا کے لیے یہ خطہ پہلے ہی ایک کڑا امتحان ثابت ہو چکا ہے ۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں صرف عسکری نہیں
تھیں، بلکہ سیاسی اور سماجی زخم بھی چھوڑ گئیں۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں، تو مشرق وسطیٰ امریکا کیلئے دلدل بن جائے گا۔۔۔جب جنگ
اپنی آخری حدوں کو چھوتی ہے ، تو فتح کا مفہوم بدل جاتا ہے ۔ وہاں کوئی جیتتا نہیں۔۔۔۔صرف نقصان کے پیمانے بدلتے ہیں۔ شہر کھنڈر
بنتے ہیں، معیشتیں ٹوٹتی ہیں۔۔۔ اور انسانیت ایک بار پھر ہار جاتی ہے ،یہ کھیل آگ کا ہے ۔۔۔ اور آگ جب پھیلتی ہے تو اپنے اور
پرائے میں فرق نہیں کرتی۔۔۔۔شاید وقت آ گیا ہے کہ دنیا صرف طاقت کے توازن کو نہ دیکھے ، بلکہ اس توازن کے نیچے دبے انسان کو بھی
دیکھے ۔ کیونکہ تاریخ جب لکھی جائے گی، تو وہ یہ نہیں پوچھے گی کہ کس کے پاس کتنے میزائل تھے ،وہ یہ پوچھے گی کہ کس نے آگ کو بجھانے کی
کوشش کی۔۔۔ اور کس نے اسے ہوا دی۔
امریکی فوجی اپنی نہیں،غیروں کی جنگ لڑرہے ،ایرانی اپنی سرزمین،اپنی غیرت،اپنی تاریخ،اپنی نسل کی جنگ لڑرہے ،ہرن سے پوچھا
گیا،کتا آپ سے زیادہ تیز دوڑتا ہے لیکن تم اس سے بھاگ کر کیسے بچ جاتے ہو۔۔۔۔ ؟ ہرن بولا !! کتا اپنے مالک کی جنگ لڑرہا ہوتا ہے
اور میں اپنی ذاتی جنگ ۔۔۔پہلے دن ہی کہا تھا ایران جنگ نہیں ہارے گا،امریکا کو بھاگنا پڑے گا،مبصرین یہی سوچ رہے ،ایران کے
پاس ابھی بہت سارے آخری آپشن باقی ہیں،مبینہ طور پر شمالی کوریا کے میزائل،آبنائے ہرمز کی مکمل بندش اور ڈیٹا کیبلزکاٹ دینا۔۔۔میری
ناقص رائے کے مطابق یہ آخری کارڈ نہیں ہیں، امریکا اس دن سے ڈرے جس دن ممکنہ طور ایرانی سپریم لیڈر ”جہاں دیکھو،وہاں قتل کرو”
امریکی فوجیوں کے بارے فتویٰ جاری کرینگے ،اس کے بعد کیا ہوگا،خطرناک کھیل شروع ہوگا۔۔۔ ”مجاہدین ” پورے عرب میں امریکی
فوجیوں کو گھروں،رہائشگاہوں،ہوٹلوں میں تلاش کرکرکے ماریں گے ،اس میں مقامی افراد ” مجاہدین ” کی مدد کرینگے ،کیا عرب عوام امریکی
فوجیوں کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔ ؟ لاشیں بچھیں گی،گلیوں میں خون بہے گا ۔۔۔پھر امریکی عوام سڑکوں پرآئینگے ،امریکا کو مشرق وسطیٰ سے
بھاگنا پڑے گا،گریٹراسرائیل کا خواب بھی دفن ہوجائے گا،ایران عربوں میں بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔۔۔
جنگوں کی ایک نفسیات ہوتی ہے ۔ جب روایتی ہتھیار اپنا اثر کھونے لگتے ہیں، جب میزائل اپنی حدوں کو چھو لیتے ہیں، جب معاشی
پابندیاں کسی قوم کو جھکا نہیں پاتیں تو پھر جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے ۔ وہ مرحلہ جہاں بندوقیں خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ بکھر
جاتی ہیں ہزاروں ہاتھوں میں ۔۔۔ امریکا کی تاریخ میں ویتنام ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی مکمل طور پر نہیں بھرا، وہاں بھی جنگ صرف
میدان میں نہیں لڑی گئی تھی، بلکہ فضا میں، ذہنوں میں۔۔۔ اور عوامی رائے میں لڑی گئی تھی۔ اگر مشرق وسطیٰ میں حالات ایک بے قابو رخ
اختیار کرتے ہیں، تو ایک بار پھر وہی منظرنامہ جنم لے سکتا ہے ،جہاں طاقت کے باوجود کنٹرول ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔تاریخ گواہ ہے کہ جب
کسی تنازع کو مقدس رنگ دے دیا جائے ، جب اسے عقیدے اور فرض کے دائرے میں داخل کر دیا جائے ، تو پھر وہ جنگ نہیں رہتی ،ایک لہر
بن جاتی ہے ۔ ایسی لہر جس میں شامل ہونے والوں کو اپنی جان کی پروا نہیں رہتی، اور روکنے والوں کے پاس کوئی مؤثر دلیل نہیں بچتی ۔۔۔
اگرجنگ اس موڑ پر پہنچ گئی، تو پھر اسے روکنا کسی ایک طاقت، کسی ایک ملک، یا کسی ایک فیصلے کے بس میں نہیں رہے گا۔ یہ ایک ایسی آگ
ہوگی جو اپنی راہ خود بنائے گی۔ جب جنگ ”وجہ” سے نکل کر”عقیدہ ” بن جائے تو پھر لاشیں گنی نہیں جاتیں۔۔۔ بس دفن کی جاتی ہیں۔۔۔
سب سے تلخ سچ یہ ہے ، جنگیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف اگلی نسل کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔ امریکا اس دن سے ڈرے جس دن سپریم
لیڈر فتویٰ جاری کرینگے ،یہ آخری کارڈ ہوگا،پھرلاشیں بچھیں گی اور مشرق وسطیٰ امریکیوں سے ” پاک ” ہوجائے گا۔۔۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں