میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، وسطی کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتیں تعمیر،قوانین زمیں بوس

سندھ بلڈنگ، وسطی کی تنگ گلیوں میں بلند عمارتیں تعمیر،قوانین زمیں بوس

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۷ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسسٹنٹ ڈائریکٹر افتخار اور بلڈنگ انسپکٹر عامر علی کی ملی بھگت، تعمیراتی لاقانونیت کی طے قیمت
لیاقت آباد نمبر ایک کے پلاٹ 662اور 667پر کنکریٹ کی دیواریں، گلیوں کی اکھڑتی سانسیں

ضلع وسطی کے معروف رہائشی علاقے لیاقت کی تنگ گلیاں، جہاں کبھی دو منزلہ مکان کی چٹختی سیڑھیاں بھی پڑوسیوں کے لیے ایک پہچان ہوا کرتی تھیں، آج انہی گلیوں میں منزل در منزل آسمان چھونے کی دھن میں قانون کو لتاڑتے جا رہے ہیں۔ شہر کی یہ آبادیاں، جو کبھی اپنی کشادہ وینٹیلیشن اور باہمی قربت کے لیے مشہور تھیں، اب غیر قانونی بلند عمارتوں کے سائے تلے دم توڑ رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر افتخار اور بلڈنگ انسپکٹر عامر علی کی مبینہ ملی بھگت اس پورے کھیل کی بنیاد ہے ۔ گلی کے اندر داخل ہوتے ہی تعمیراتی مواد سے بھرے ٹرک اور مزدوروں کی آوازیں بتاتی ہیں کہ یہاں کوئی روک نہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ہر اضافی منزل کے بدلے ان دونوں افسران اور تعمیر کنندگان کے درمیان طے شدہ نرخوں پر "منظوری کی قیمت”ادا کی جا رہی ہے ۔ دفتری ریکارڈ میں یہ تعمیرات یا تو "زیر التوائ”ہیں یا پھر انہیں کبھی قانونی حیثیت ہی نہیں دی گئی، لیکن سائٹ پر عمارتیں بے باکانہ اپنی بلندیوں کو چھوتی جا رہی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر افتخار کے دفتر سے ان پلاٹس کے خلاف کارروائی کے کئی پرانے نوٹس بھی "کھو”چکے ہیں۔خاص طور پر لیاقت آباد نمبر ایک کے پلاٹ نمبر 662 اور 667 پر صورتحال نے سنگین شکل اختیار کر لی ہے ۔ یہاں پرانی رہائشی عمارتوں پر ایک ہی پلاٹ پر متعدد منزلوں پر مشتمل تجارتی و رہائشی کمپلیکس کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ قانون کے مطابق جہاں زیادہ سے زیادہ تین منزل کی گنجائش تھی، وہاں تعمیرات چھ منزل کو پار کر چکی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی وجہ سے گلیوں کی اصل چوڑائی ختم ہو چکی ہے ، سیوریج کا پانی اب گھروں میں اترنے لگا ہے ، اور بجلی کا نظام بار بار فیل ہو رہا ہے ۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ "ان پلاٹس پر رات کے وقت بھی تعمیر جاری رہتی ہے ، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔”اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس حوالے سے باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، ان پلاٹس کا ریکارڈ کھنگالا گیا تو پتہ چلا کہ نہ تو نقشوں کی حتمی منظوری دی گئی ہے اور نہ ہی سائٹ انسپکشن کی کوئی تاریخ درج ہے ۔ یوں یہ معاملہ محض تعمیراتی خلاف ورزی نہیں بلکہ ریگولیٹری نظام کے مکمل طور پر ناکام ہونے کی داستان بن چکا ہے ۔جہاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسپکٹر کی جوڑی منزل در منزل قانون لتاڑ رہی ہے ، اور ان گلیوں کے رہائشی بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں