عزیزآباد میں مبینہ پولیس سرپرستی میں جرائم اور غیرقانونی وصولیاں
شیئر کریں
ایس ایچ او شاہد تاج نے بیٹر پی سی کامل، ہیڈ کانسٹیبل فرحان چشتی، پی سی نبیل اور ہیڈ محرر ارشد پر مبنی وصولی ٹیم بنالی
طاہر عرف بوبی، عمیر عرف ببلو، ریاض ماوا والا، جاوید شوکیا، ابوبکر اور مرشد المعروف بیٹل کنگ سمیت دیگر عناصر سے ہفتہ وار وصولیاں
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ سینٹرل عزیزآباد میں مبینہ پولیس سرپرستی میں جرائم اور غیرقانونی وصولیوں کا انکشاف، ایس ایچ او شاہد تاج نے پی سی کامل، ہیڈ کانسٹیبل فرحان چشتی، پی سی نبیل اور ہیڈ محرر ارشد پر مبنی وصولی ٹیم بنالی، طاہر عرف بوبی، عمیر عرف ببلو، ریاض ماوا والا، جاوید شوکیا چھالیہ ڈیلر، ابوبکر چھالیہ ڈیلر اور مرشد المعروف “بیٹل کنگ” سمیت دیگر عناصر سے ہفتہ وار وصولیاں جاری۔ باوثوق ذرائع کے مطابق عزیزآباد میں مبینہ پولیس سرپرستی میں جرائم اور غیر قانونی وصولیوں کا انکشاف، علاقہ مکین عزیزآباد نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا، عزیزآباد کے علاقے میں مبینہ طور پر جرائم پیشہ سرگرمیوں اور غیر قانونی مالی وصولیوں کے ایک منظم نیٹ ورک کے فعال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ذرائع نے مزید بتایا کہ ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کی ٹیم میں شامل بیٹر پی سی کامل، ہیڈ کانسٹیبل فرحان چشتی، پی سی نبیل اور ہیڈ محرر ارشد پر الزام ہے کہ انہوں نے علاقے میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے جہاں منشیات و گٹکا ماوا، اسمگلنگ کی گئی اشیاء اور جواء سٹہ جیسی سرگرمیاں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض جاری ہیں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف جرائم پیشہ عناصر سے لاکھوں روپے ہفتہ وار وصول کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں علاقے میں کھلی چھوٹ حاصل ہیں اطلاعات کے مطابق گٹکا ماوا اول نمبر ڈیلر طاہر عرف بوبی اور گٹکا ماوا دوئم نمبر ڈیلر عمیر عرف ببلو سے مبینہ طور پر تین، تین لاکھ روپے ہفتہ وصول کیے جاتے ہیں جبکہ ریاض ماوا والا، جاوید شوکیا چھالیہ ڈیلر، ابوبکر چھالیہ ڈیلر اور مرشد المعروف بیٹل کنگ سمیت دیگر عناصر جن میں آصف نیاپو، نعمان بندانی، نعیم فرکی اور جنید سے بھی مبینہ طور پر ہفتہ وار وصولیوں کا انکشاف ہے، مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعد ازاں مبینہ طور پر رشوت وصول کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے، شہری و سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ قانون کی عملداری بحال ہو اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔


