ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ،پاور پلانٹس پر حملے 5 دن کیلئے مؤخرکردیے
شیئر کریں
ایران کی اعلیٰ قیادت کے قابلِ احترام رہنماسے براہِ راست بات چیت
افزودہ یورینیم حوالے کرنے کا مطالبہ، مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ نہ بنانے کی خواہش
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ایران کی اعلیٰ قیادت کے ایک قابلِ احترام رہنماسے براہِ راست بات چیت ہوئی ہے، اور انہیں امید ہے کہ جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس ممکنہ حل کے لیے ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا اور مستقبل میں اسے دوبارہ حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکہ اس مواد کو خود سنبھال سکتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا حامل نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ ان کے بقول اگر ایران کے پاس جوہری صلاحیت آ گئی تو وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح خطے میں امن کا قیام ہے، نہ کہ جنگ کا پھیلاؤ۔ گفتگو کے دوران انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں نشانہ بنایا جائے، تاہم انہوں نے اس بات پر لاعلمی کا اظہار کیا کہ وہ اس وقت کس حالت میں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں کئی نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو حالیہ پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اسرائیل اس صورتحال پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق امریکہ نے ایران کو تیل کی فروخت جاری رکھنے کی اجازت دی، اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر امریکی کارروائیاں نہ ہوتیں تو ایران ممکنہ طور پر ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ چکا ہوتا۔ اپنے بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کا کنٹرول ممکنہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان رہے گا، جو خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایک جانب سفارتی پیش رفت کا عندیہ دیتے ہیں تو دوسری جانب خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کو بھی ظاہر کرتے ہیں، جہاں مذاکرات اور کشیدگی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔


