میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

ویب ڈیسک
پیر, ۲۳ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں
غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں

جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذمہ داران و کارکنان نے شرکت کی۔تقریب 11بجے تا نماز ظہر تک جاری رہی ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے،امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ایران کی قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے کہ انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے عزائم کو ناکام بنایا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود تضادات کا شکار ہیں اور مختلف مواقع پر مختلف بیانات دے رہے ہیں، جو اس کی پالیسیوں کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ ایران میں رجیم چینج لانا چاہتا تھا لیکن اب خود مغربی دنیا میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ عوامی سطح پر امت مسلمہ کا اتحاد موجود ہے مگر حکمران طبقہ نے امت کو تقسیم کر رکھا ہے۔ امن، استحکام اور یکجہتی کے لیے عدل و انصاف کا قیام ناگزیر ہے۔ شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے والے دراصل دشمن کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو واضح موقف اپنانا ہوگا اور بتانا ہوگا کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا باطل کے ساتھ۔ ملک میں ایسی قیادت آنی چاہیے جو عوام کی خدمت کرے اور بیرونی طاقتوں کے بجائے عوامی مفادات کو ترجیح دے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ ایک طرف حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اربوں روپے مالیت کا طیارہ خریدا جاتا ہے اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کروڑوں روپے کی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جبکہ قوم کے بچوں پر پیٹرول بم گرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور کالج جانے والا طالب علم ہو یا مزدور، کسان یا غریب شہری ہر شخص پیٹرول کی قیمت کے علاوہ فی لیٹر بھاری ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی مد میں غریب عوام سے سیکڑوں ارب روپے وصول کر رہی ہے، مگر بڑے بڑے جاگیرداروں اور بااثر طبقے پر ٹیکس لگانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئی پی پیز مافیا کا راج ہے، جہاں ہزاروں ارب روپے ایسی بجلی کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوتی۔ ان تمام معاہدوں کا فوری جائزہ لیا جائے اور قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے۔جب تک اس استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور اشرافیہ کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، اس وقت تک عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں