حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم
شیئر کریں
ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں
شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وزیراعظم نے وزارتِ پیٹرولیم کو پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین مزید بہتر بنانے کے لیے متحرک کردار ادا کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جا رہا ہیتاکہ کسی بھی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ممکن بنائی جائے۔علاوہ ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت و ان کے اثرات پر گفتگو ہوئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا، تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سرکاری ملازمین کی طرح ریاستی ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا، کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائے گا جب کہ وزیرِ اعظم نے دنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے، اس کے علاوہ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا، اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی۔متعلقہ حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا، وزرائ، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی۔


