سندھ بلڈنگ ،غیر قانونی تعمیرات کی انہدامی کارروائیوں میں جانبداریاں
شیئر کریں
گلستان جوہر اسکیم 36عمارت کی تعمیر میں ہنگامی اخراج، فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیاں
نجم قریشی پر تعمیراتی مافیا کو پلاٹ نمبر 3/1کی کلیئرنس دینے کا الزام، ریحان الائچی ملوث
ضلع شرقی میں قائم گلستان جوہر اسکیم کے بلاک 36 میں واقع سیکٹر 3A کے پلاٹ نمبر 3/1 پر ایک عمارت کی تعمیر کے دوران ہنگامی اخراج (ایمرجنسی ایگزٹ) اور فائر سیفٹی سسٹم کے قوانین میں سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مجوزہ عمارت میں فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضے جیسے کہ فائر ایگزٹ کی مناسب تعداد نہ ہونا، فرار کی راہداریوں کی چوڑائی معیاری حد سے کم رکھنا، اور آگ بجھانے کے آلات کی تنصیب میں واضع کوتاہی کی گئی ہے ۔مقامی شہریوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نجم قریشی نے تعمیراتی مافیا کو خاطر خواہ کلیئرنس فراہم کرکے ان خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ محکمانہ ٹیموں نے سائٹ وزٹ تو کیا لیکن اُنہوں نے اپنی رپورٹ میں حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کی غلط تصدیق کر دی، جس سے عمارت کے مستقبل میں رہنے والوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ماہرینِ تعمیرات کا کہنا ہے کہ فائر سیفٹی کے قوانین میں چھوٹ دینا کسی حادثے کی صورت میں تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ ان خلاف ورزیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد علاقے کے رہائشیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر نجم قریشی اور ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی دونوں کے خلاف فوری طور پر محکمانہ انکوائری کی جائے ، عمارت کا تعمیراتی کام روکا جائے ، اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مزید تعمیر کی اجازت نہ دی جائے ۔واضح رہے کہ ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان الائچی کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے ، کیونکہ ان کی زیر قیادت ٹیموں نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ طور پر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی مافیا کو کلیئرنس دینے کے معاملے میں ان کا کردار بھی مشکوک ہے اور انہدام مہم کو انکاؤنٹر کی بجائے شفاف طریقے سے چلایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔


