بھارتی مسلمانوں کا قتل عام
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
مسلمانوں کے قتل، گھروں پر حملوں اور دکانوں کو نذرِ آتش کرنے جیسے واقعات کو بھارتی میڈیا معمول کی کارروائیاں قرار دیتا ہے۔ انتہا پسند ہندو گروہ مسلمانوں پر حملوں کے بعد جشن مناتے ہیں، جبکہ ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے والے صحافی بھی نشانہ بنتے ہیں۔ صرف 2023 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 668 واقعات ریکارڈ ہوئے، جب کہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,165 ہوگئی۔ اپریل سے مئی 2024 کے دوران ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف کم از کم 184 نفرت آمیز جرائم رپورٹ ہوئے۔مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سیاست کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مودی کی جانب سے مسلم دشمنی کو ہوا دینا اس کی سیاسی پستی اور مکاری کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی تنازعات کے تناظر میں مودی حکومت مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے محض مسلمان دشمنی کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر کے بھارتی مسلمانوں کو غدار قرار دینا مودی کے ہندو راشٹرا کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منافرت کی مہم چلانے والے ملک، سماج اور آئین کے دشمن ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,300 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کی جانب سے شائع کردہ 2025 کے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر سالانہ رپورٹ بھارت میں نفرت کی سیاست کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور منظم نفرت انگیز جرائم کے تشویشناک معمول بننے کی تصدیق کرتی ہے۔سی ایس او ایچ کی ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایویان لیڈگ کا کہنا تھا کہ ”پورے سال نفرت انگیز تقاریر کی بلند سطح برقرار رہی۔ پچھلے برسوں کے برعکس، انتخابی ادوار کے باہر بھی یہ سلسلہ کم نہیں ہوا۔”یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت والی اتر پردیش میں نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کا نمبر ہے۔ یہ پانچوں ریاستیں مجموعی طور پر ملک بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 65 فیصد واقعات کی ذمہ دار رہیں۔ اس کے برعکس، اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت ریاستوں میں 2025 میں 154 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی ہے۔ رپورٹ میں منظم ہندوتوا گروہوں کو عوامی نفرت انگیز تقاریر کے بڑے محرکات قرار دیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو 289 واقعات سے جوڑا گیا، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کا نمبر آیا۔ گزشتہ سال کے دوران 160 سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو منتظم یا شریک منتظم کے طور پر شناخت کیا گیا۔
بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے۔ امریکا کی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ایک ہزار 318نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے جو 2024 کے ایک ہزار 165اور 2023 میں رپورٹ ہونے والے واقعات سے زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات مودی کی ہندوتوا جماعت بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئے جبکہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22اپریل سے 7مئی تک سب سے زیادہ 100سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا جنہوں نے مودی کی حکمرانی میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی مودی کی حکمرانی میں اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی کے واقعات میں اضافے پر تشویش ظاہر کررہی ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو اپنی انتخابی مہم کا مؤثر ہتھیار بنا لیا ہے۔ الیکشن کے دوران بی جے پی اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اور پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں انتخابی دور کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر بڑھ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والی پوسٹس تیزی سے وائرل کی جاتی ہیں جبکہ بھارتی میڈیا انہیں ملک دشمن اور مجرم کے طور پر پیش کرتا ہے۔
٭٭٭


