سندھ بلڈنگ ،نارتھ کراچی میں خلاف ضابطہ تعمیرات کا عفریت بے قابو
شیئر کریں
سرکاری تحفظ میں غیر قانونی تعمیرات،عاطف شیروانی الزامات کے نرغے میں
پلاٹ نمبر A625اور L597پر ماڈل کی نقالی اور شہریوں کے تحفظ کا مسئلہ
نارتھ کراچی کے مختلف سیکٹرز میں تعمیراتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عاطف شیروانی کی سرپرستی میں غیر قانونی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ مقامیوں کے مطابق ان علاقوں میں بغیر این او سی کے عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں اور منظور شدہ نقشوں میں غیر قانونی توسیع کی گئی ہے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عاطف شیروانی مبینہ طور پر رشوت لے کر ان خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ شہریوں نے متعدد بار ایس بی سی اے کو شکایات بھیجیں لیکن ان کی درخواستوں کو نہ صرف مسترد کیا گیا بلکہ اثر و رسوخ کی وجہ سے ان شکایات کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نارتھ کراچی میں جاری یہ خلاف ضابطہ تعمیرات گل پلازہ سانحہ کی بازگشت ہے ، جہاں 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے ۔ اس سانحے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ عمارت کی تعمیر کا اصل منصوبہ موجود نہیں تھا اور تکمیل کا سرٹیفکیٹ غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا تھا۔ نارتھ کراچی کے سیکٹر 5A 4 میں پلاٹ نمبر ایل 597 اور سیکٹر 11B کے پلاٹ نمبر اے 625 پر جاری خلاف ضابطہ کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر میں بھی اسی نوعیت کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جہاں اتھارٹی کی مبینہ سرپرستی میں ایسی عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں جو کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔یہ معاملہ صرف نارتھ کراچی تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے متعدد بار کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور زمینوں پر قبضوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ آدھا کراچی غیر قانونی طور پر تعمیر کر لیا گیا ہے اور لینڈ مافیا نے اس شہر کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے سرکاری افسران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عدالت کو "جھوٹی کہانیاں”سنا رہے ہیں اور اگر انہوں نے عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا تو انہیں توہین عدالت میں سزا دی جا سکتی ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 1979 کے سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کے تحت آج تک قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے ، جس کی وجہ سے اتھارٹی کا کوئی قانونی ڈھانچہ ہی موجود نہیں ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتھارٹی بغیر کسی قانونی اختیار کے منصوبوں کی منظوری دے رہی ہے اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب مقامی شہریوں اور سول سوسائٹی نے اس معاملے کو عدالتوں اور قومی احتساب بیورو (نیب) تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف نارتھ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر گرایا جائے بلکہ اس پورے گٹھ جوڑ کی مکمل تحقیقات کرکے اس میں ملوث افسران بشمول عاطف شیروانی کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔


