پاکستان ، افغانستان کشیدگی
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کیا، اِس کا ردِعمل سرحدی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے تھا اور پاکستان اپنی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے گا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دو روز قبل افغان طالبان نے پاکستان کے بہادر عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند سادہ ڈرون داغے جنہیں مار گرایا گیا جس کے نتیجے میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔’افغان وزارت دفاع نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں ‘فضائی حملے’ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ‘جاری جوابی کارروائی ‘ریجیکٹ اوپریشن’ کے تسلسل میں آج شام تقریباً 5 بجے افغان فضائیہ نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں پاکستانی فوج کے سٹریٹجک مرکز ‘حمزہ’ پر فضائی حملہ کیا۔’پاک حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا تھا اور ‘یہ ہمیں اس دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتے ہیں جس کے تحت افغان طالبان کام کر رہے ہیں۔ایک طرف تو افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب وہ اپنے دہشت گرد آلہ کاروں اور ڈرونز کے ذریعے عام شہریوں کو باقاعدہ نشانہ بناتے ہیں۔پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج افغانستان پر حکمرانی کرنے والی اس کرائے کی دہشت گرد ملیشیا کی اصل حقیقت اور عزائم کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔پاکستان فوج نے واضح کیا کہ ‘آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی بنیادی تشویش دور نہیں کر دیتے۔’ طالبان حکومت کے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں، افغان طالبان رجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی اور افغان طالبان کے ڈرون حملوں جیسی اس کی دیگر شکلوں کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہیں۔ ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کے عوام کا دفاع کرتے رہیں گے اور افغان طالبان کی ایسی اشتعال انگیزیوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے بدنام ہیں، حال ہی میں ان اکاؤنٹس نے پاکستان کا طیارے مار گرانے کا بے بنیاد دعویٰ کیا، افغان رجیم اکاؤنٹس نے پائلٹوں کو گرفتار کرنے کے بھی بے بنیاد دعوے کیے تھے۔ آپریشن ”غضب للحق ”، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔ پاک افواج نے 14/15 مارچ کی درمیانی شب کچھ دیر پہلے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دیگر ٹیکنیکل تنصیبات کو مزید کامیابی سے نشانہ بنایا ، حملوں کے دوران پاک افواج نے قندھار میں انتہائی اہم ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج ٹنل کو تباہ کر دیا ۔ یہ زیر زمین ٹنل افغان طالبان اور دہشت گرد بطور ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج استعمال کرتے تھے۔
آپریشن غضب لِلحق میں 300 سے زائدطالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ کم و بیش500 زخمی کر دیئے گئے تھے،پاکستان 100سے زائد افغان پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ اور 22 پر قبضہ کر چکا تھا جبکہ افغان طالبان کے 150 سے زائد ٹینک، درجنوں بکتربند گاڑیاں اور اے پی سیز تباہ کی جا چکی تھیں۔ آپریشن میں پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے، قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے،دہشت گردوں اور اْن کے سہولت کاروں کو ویسا ہی جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔دو روز قبل کی گئی کارروائیوں میں پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے لغمان میں فضائی حملہ کر کے اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ کو مکمل تباہ کردیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائی میں مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا ہے،افواجِ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب کا سلسلہ جاری ہے۔افغانستان کے خلاف تنبیہی کارروائی گزشتہ سال اکتوبر میں کی گئی تھی،21 اور 22 فروری کی درمیانی شب بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی تاہم اب بھی نتیجہ وہی نکلا جو گزشتہ سال کی کارروائی کے بعد نکلا تھا کہ اْس وقت بھی افغان طالبان نے اپنا قبلہ درست کرنے کے بجائے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ افغانستان نے اِس بار مجموعی طور پر پاک افغان سرحد کے 15سیکٹروں کے 53 مقامات سے حملہ شروع کیا جس کا ہر مقام پر فوری اور مؤثر جواب دیا گیا، بعض پاکستانی سرحدی مقامات پر کواڈ کاپٹرز اور چھوٹے ڈرونوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی تاہم اْن سب کو ناکام بنا دیا گیا۔
پاکستان کی جوابی کارروائی میں کابل، پکتیا، قندھار،ننگر ہار، خوست اور پکتیکا میں ٹارگٹڈ حملے کئے گئے، فضائی حملوں میں متعدد عسکری تنصیبات، کمانڈ مراکز، کور اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹروں کے علاوہ لاجسٹک بیسوں کو نشانہ بنایا گیا۔یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کی طرف سے کئی گئی کارروائیوں کے تمام اہداف فوجی نوعیت کے تھے اور اِس بات کو یقینی بنایا گیا کہ افغان شہری آبادی محفوظ رہے۔


