میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاری میں غیر قانونی عمارتوں کا جاں لیوا جال

سندھ بلڈنگ، لیاری میں غیر قانونی عمارتوں کا جاں لیوا جال

ویب ڈیسک
پیر, ۱۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند کی ملی بھگت، عوام کی جانیں خطرے میں ،حفاظتی انتظامات نظر انداز
پلاٹ نمبر 995اور 2056 کی عمارتیں غیر قانونی اور من مانی تعمیرات کی زندہ مثال

شہر قائد کے قدیم اور گنجان آباد رہائشی علاقے لیاری میں غیر قانونی اور ناقص تعمیرات کا سلسلہ جان لیوا ثابت ہو رہا ہے ۔ شہری قتل کا باعث بننے والی عمارتیں روز بروز آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مگر محکمہ بلڈنگ کنٹرول کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے ان پر کوئی روک نہیں لگائی جا رہی۔ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی تعمیرات کے جال میں ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند کا کلیدی کردار بتایا جا رہا ہے ۔ ان کی مبینہ سرپرستی میں لیاری میں حفاظتی معیارات کو پامال کرتے ہوئے من مانی تعمیرات کی جا رہی ہیں، جس سے علاقے کے مکینوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں میں کوئی بھی قدرتی آفت، یا معمولی ساختی کمزوری بھی بڑا المیہ کھڑا کر سکتی ہے۔ پلاٹ نمبر 995، بلوچ پارہ لیاری، پر آٹھویں منزل اور پلاٹ نمبر 2056، سٹریٹ-20، آتما رام، بہار کالونی، ای روڈ پر دکانیں، میز نائن اور چھ منزلہ عمارت اس غیر قانونی تعمیراتی دھارے کی واضح مثال ہیں۔ ان عمارتوں کی تعمیر کے طریقہ کار اور حفاظتی انتظامات پر شدید سوالیہ نشان لگا ہوا ہے ۔ماضی قریب میں لیاری میں عمارت گرنے کے واقعات میں درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں ۔ان واقعات کے باوجود سرکاری مشینری خاص کر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ بے حسی اور کرپشن کی وجہ سے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ حکومت ِسندھ نے ماضی میں خطرناک عمارتوں کے انہدام کے احکامات تو جاری کیے تھے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے ۔واضح رہے کہ لیاری میں اب بھی درجنوں خطرناک عمارتیں موجود ہیں جو کسی بھی وقت قیامت ثابت ہو سکتی ہیں ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں