تھانہ قائدآباد کی مبینہ سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت عروج پر
شیئر کریں
گٹکا ماوا فروش فہیم مغل کا کارخانہ گل احمد چورنگی لانڈھی نواب میڈیکل والی گلی ہزارہ چوک پر قائم
تھانہ بیٹر شعبان کو لاکھوں روپیہفتے کے عوض علاقے میں گٹکا ماوا کی فروخت کھلے عام جاری
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ ملیر تھانہ قائدآباد کی مبینہ سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت عروج پر، گٹکا ماوا فروش فہیم مغل کا کارخانہ گل احمد چورنگی لانڈھی نواب میڈیکل والی گلی ہزارہ چوک پر قائم، تھانہ بیٹر شعبان کو ہفتے کے عوض علاقے میں گٹکا ماوا کی فروخت کھلے عام جاری۔ علاقہ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ملیر تھانہ قائدآباد کی حدود گل احمد چورنگی لانڈھی نواب میڈیکل والی گلی ہزارہ چوک پر فہیم مغل ولد عبدالرشید کا گٹکا ماوا کا کارخانہ قائم ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گٹکا ماوا کے پیکٹ تیاری کے بعد علاقہ قائدآباد میں مختلف کیبنوں پر سپلائی اور فروخت کی جا رہی ہیں، علاقہ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر فہیم مغل کا گٹکا ماوا کھلے عام تھانہ قائدآباد کی سرپرستی میں فروخت ہو رہا جس سے نئی نسل برباد ہورہی ہے اور فہیم مغل ہفتہ لاکھوں روپے تھانہ بیٹر شعبان کو اپنا گٹکا ماوا سپلائی اور فروخت کی مد میں دیتا ہے، کچھ دن قبل 52 ونگ رینجرز نے فہیم مغل کو منشیات اور گٹکا ماوا سپلائی اور فروخت کرنے کے جرم میں پکڑا اور بعدازاں تھانہ قائدآباد کے حوالے کردیا بتایا جاتا ہے کہ رینجرز نے فہیم مغل کو ایک کلو چرس کی برآمدگی پر پکڑا تھا، پر ذرائع بتاتے ہیں کہ تھانہ قائدآباد پولیس نے فہیم مغل سے معاملات طے کر کے اس پر چرس کی برآمدگی ہٹا کر صرف گٹکا ماوا فروشی میں پانچ کلو ماوا ڈال کر مقدمہ نمبر 194؍2026 درج کردیا، قائدآباد علاقہ مکین نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی ملیر سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات و گٹکا ماوا فروش فہیم مغل کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ علاقہ قائدآباد سے زہر نما گٹکا ماوا کی فروخت سے بچ سکے، ساتھ ہی قائدآباد تھانہ بیٹر شعبان اور دیگر پولیس اہلکار جو ان جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہیں انکے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


