میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

ویب ڈیسک
هفته, ۱۴ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ب نقاب /ایم آر ملک

۔۔۔۔۔۔۔
ایران کی طرح ویت نام میں امریکی انسانی خون سے ہولی کھیل رہے تھے!
معروف ناول نگار جون سٹائن بیک جسے 1962 میں ادب کا نوبل انعام ملا، ان دنوں جنوبی ویت نام میں تھے
جبکہ بلغاریہ کی شاعرہ ”بلا گامتر و وا ”شمالی ویت نام میں تھیں دونوں کے درمیان ایک عرصہ خط و کتابت کا سلسلہ رہا ،جون سٹائن کے ایک خط کا جواب ”بلا گا متر و وا”نے ایسے الفاظ میں لکھا جو حساس ذہن میں جھر جھری کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔
یہ خط ویت نام کے مظلوم اور امن پسند باسیوں کے احساسات کا آئینہ دار ہے۔بلا گا نے لکھا – GRAPES OF WRATH) THE ( آپ کی کتاب میری نسل کے لوگوں خصوصاً میرے لئے بڑے مقام کی حامل تھی،میں نے آپ کی تصویر دیکھی
گولی چلانے کی تربیت لیتے ہوئے
معصوم بچوں اور عورتوں کا نشانہ لیتے ہوئے
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا پہلا نشانہ کون بنا ہے ؟
آپ نے سٹائن بیک کو قتل کر دیا ہے!
اپنے ہاتھوں خود اپنی تباہی کی کالی طاقت جو آج ساری دنیا میں زندگی کو ڈرا دھمکار ہی ہے!
آپ کے خط میں خود اپنے منہ سے بول رہی ہے
افسوس کہ اس خط میں آپ نے قاتلوں کے گن گائے!
وہ لکھتی ہیں
یہ یکم اکتوبر کی صبح تھی اور قصبہ پھو لی جو کبھی زندگی سے بھر پور ہوتا ہے
اس پر امن زندگی پر بم گر رہے تھے ،تیسرے روز جب میں اس راستے سے گزری تو میری ترجمان نے ایک تباہ حال ویرانے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہاں قصبہ پھو لی ہوتا تھا ،معصوم لوگوں ،بچوں کے بکھرے ہوئے اعضا ء تباہی کو بیان نہیں کیا جاسکتا ،آپ نے لکھا ہے ان لوگوں سے وابستہ ہونے پر آپ کو فخر ہے
کیسے لوگوں سے ؟
بیسویں صدی کے وحشیوں سے ؟
مجھے آپ نے نہیں بتایا کہ شاہی محلوں کے شہزادوں نے آپ سے کیا کہا تھا لیکن میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ”ہوان پن”کی سیدھی سادھی عورتوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ”امریکی مائوں کیلئے یہ کتنا مشکل ہوتا ہوگا کہ انہیں اس طرح کے قاتلوں کو جنم دینا پڑتا ہے ”۔
میں کہتی ہوں کہ دنیا میں کوئی ایساد ھلائی گھر نہیں جہاں آپ کے ملک کے فوجیوں کے چہروں پر سے کیچڑ دھویا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی شکل میں کالی طاقت آج پھر دنیا میں زندگی کو ڈرا دھمکا رہی ہے بد قسمتی سے مشقِ ستم مسلم زندگی ہے۔ رٹر اسکاٹ(Scott Ritter )سابق امریکی میرین کور انٹیلی جنس افسر اور عراق میں اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار کا کہنا ہے کہ
ایران میں اسکول پر پہلے حملے کے بعد، جو بچے بچ گئے تھے، ان کے ماں باپ کو بلایا گیا، جب وہ اکٹھے ہو گئے پھر…”
امریکہ نے جنگ کے پہلے دن ایک ایسے مرکز پر چار کروز میزائل داغے جسے انقلابی گارڈ کمانڈ نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے خالی کر دیا تھا۔ ان میزائلوں میں سے تین میزائل خالی گوداموں پر لگے، اور ایک اسکول پر۔
چوتھا میزائل اس مقام کے اوپر منڈلا رہا تھا، معلومات جمع کر رہا تھا اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے وہ معلومات واپس بھیج رہا تھا۔ دو گودام خالی تھے، اس لیے کوئی ثانوی دھماکے نہیں ہوئے۔ لیکن تیسرے مقام پر جسے نشانہ بنایا گیا تھا، انہوں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں۔تو انہوں نے چوتھے میزائل سے حملہ کرنے کا حکم دیا۔ چوتھا میزائل اوپر گیا، پھر نیچے آیا اور جا لگا۔ یہ میزائل زمین میں گھس کر تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن اس میزائل میں ایک اور پہلو بھی ہے۔ آپ جانتے ہیں، ہمارے شاندار ہتھیار بنانے والے انجینئروں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ٹوماہاک میزائل میں ٹکر کے وقت جو اضافی ایندھن بچ جاتا ہے اسے دراصل ایک ہتھیار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے — ایک تھرمو بیریک ہتھیار، یعنی فیول ایئر ایکسپلوسیو۔چنانچہ انہوں نے بٹن دبایا اور اس اضافی ایندھن کو تھرمو بیریک ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ اور جن لوگوں کو وہ بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے، وہ دراصل وہ بچے تھے جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے۔
وہ اپنے اساتذہ کے ساتھ دعا کے ہال میں گئے تھے اور والدین سے کہا گیا تھا کہ آ کر اپنے بچوں کو لے جائیں۔ والدین راستے میں تھے۔ تو جو نقل و حرکت آپ دیکھ رہے تھے وہ دراصل زندہ بچ جانے والے بچے تھے جو عمارت کی طرف جا رہے تھے، ان کے ساتھ اساتذہ تھے اور والدین ان تک پہنچنے آ رہے تھے۔اور ہم نے وہاں چوتھا کروز میزائل مارا، اسے تھرمو بیریک بم میں بدل دیا، اور ان بچوں کو زندہ جلا دیا۔
یہی اس جنگ کا خلاصہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کن اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ صرف لوگوں کو قتل کرنا ہے۔اور آپ جانتے ہیں یہ کیوں ہوا؟ کیونکہ پیٹ ہیگ سیتھ نے محکمہ دفاع کی ایک ہدایت منسوخ کر دی تھی جس کے تحت ایک سویلین نقصان کم کرنے والی ٹیم ہر ہدف کا جائزہ لیتی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم غلط اہداف پر حملہ نہ کریں۔
اس نے اسے ”ووک” کہا۔ اس نے اسے غیر مؤثر کہا۔ وہ دنیا کی سب سے مہلک فوج بنانا چاہتا تھا۔ مارو، مارو، مارو۔
اچھا پیٹ، تم نے انہیں مار دیا۔ 170 معصوم بچے۔ تم قاتل ہو۔ تم جنگی مجرم ہو۔
اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی۔ اور ہر وہ امریکی بھی جو اس جنگ کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ جنگ جارحیت کی ایک غیر قانونی جنگ ہے۔
ہم جنگ کے قوانین کی پابندی نہیں کر رہے۔ ہم صرف بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں تاکہ چند نیوکنزرویٹو لوگوں کو خوش کیا جا سکے جن کے پاس دنیا کے بارے میں ایک پرانا تصور ہے، اور جنہوں نے امریکہ کے مفادات کو مکمل طور پر اسرائیل کی ریاست کے تابع کر دیا ہے۔
اور میں اپنا غصہ کھونے پر معذرت چاہتا ہوں۔ میں دو بیٹیوں کا باپ ہوں۔ اور اگر کوئی میرے بچوں کو نقصان پہنچاتا تو میں اسے ڈھونڈ کر مار دیتا۔”
مجھے آج یہ سوال امریکی دانشوروں سے پوچھنا ہے کہ
کیا امریکی ویلیوز کی حقیقی عکاسی نیو یارک کے ایس آئی لینڈ میں نصب مجسمہ آزادی کرتا ہے
ایران کے کئی قصبات ویتنام کے ملیا میٹ گاؤں پھو ۔ لی“ کا منظر ہیں
جہاں انسانیت تہہ بارود ہے ہزاروں شیر خوار جو امریکی جارحیت کا نشانہ بنے
ایران کی مائیں ؟؟
ہو ان پین کی ماؤں کی طرح ایران کی مائیں بھی مجسمہ سوال ہیں کہ امریکی ماؤں کے لئے یہ کتنا مشکل ہوتا ہو گا کہ انہیں اس طرح کے سفاک قاتلوں کو جنم دینا پڑتا ہے۔ کیا امریکی دانشوروں کے پاس محترمہ بلا گامتر و وا کے اس سوال کا جواب ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا دھلائی گھر نہیں جہاں آپ کے ملک کے فوجیوں کے چہروں پر سے کیچڑ دھویا جاسکے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں