سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ
شیئر کریں
قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ
مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقرر کرنے، اور گروسری و ریستوران کیلئے ڈلیوری سروس اختیار کرنے کے اقدامات کی تجویز،ذرائع
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق فوری طور پر بڑھائی جائیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دے اور قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے تاکہ بجٹ اور مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ہدایت دی ہے کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے حوالے سے 30 جون تک 1468 ارب روپے کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے چھ ماہ میں اس لیوی کے تحت 822 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ جولائی تا دسمبر 60 فیصد سے زائد آمدنی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، یونیورسٹیز اور سرکاری دفاتر کو اسمارٹ ورکنگ پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقرر کرنے، اور گروسری و ریستوران کے لیے ڈلیوری سروس اختیار کرنے کے اقدامات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پہلے چھ ماہ میں اس لیوی کے تحت 822 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ جولائی تا دسمبر 60 فیصد سے زائد آمدنی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، یونیورسٹیز اور سرکاری دفاتر کو اسمارٹ ورکنگ پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقرر کرنے، اور گروسری و ریستوران کے لیے ڈلیوری سروس اختیار کرنے کے اقدامات کی تجویز بھی دی گئی ہے۔


