سندھ بلڈنگ ،ماڈل کالونی میں غیرقانونی کمرشل تعمیرات، فائر سیفٹی کو خطرہ
شیئر کریں
ْ رہائشی پلاٹوں پر ہنگامی اخراج کے بغیر کمرشل یونٹس تعمیر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی ملوث
ڈائریکٹر سمیع جلبانی پر بلیدی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے معاملات کو دبانے کی کوشش
ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی میں رہائشی پلاٹوں پر بنائے گئے کمرشل پورشن یونٹس میں ہنگامی اخراج (ایمرجنسی ایگزٹ) اور فائر فائٹنگ سسٹم کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر جانی و مالی خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ان غیرقانونی تعمیرات کی نگرانی کرنے والے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی خود ان خلاف ورزیوں میں ملوث قرار دیے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، کالونی کے متعدد پلاٹ مالکان نے رہائشی مقاصد کے لیے منظور شدہ پلاٹوں پر بغیر کسی ضابطے کے کمرشل شاپس، دفاتر یا ورکشاپس قائم کر رکھی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عمارات میں آگ لگنے کی صورت میں بھاگنے کے لیے ضروری ہنگامی راستے (ایمرجنسی ایگزٹ) سرے سے موجود نہیں ہیں، جبکہ فائر فائٹنگ کے جدید آلات کی تنصیب کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ بلڈنگ کوڈ 2002 کی یہ واضح خلاف ورزیاں سینکڑوں شہریوں کی زندگیوں کو روزانہ خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی پر الزام ہے کہ وہ ان غیرقانونی تعمیرات سے واقف ہونے کے باوجود، مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ بلیدی کے حلقہ اثر میں آنے والے علاقوں میں ایسی کئی عمارات موجود ہیں، جن کے مالکان سے معاوضہ لے کر ان خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر لی گئی ہیں۔سویٹ ہوم سوسائٹی کے پلاٹ نمبر 65 اور شیٹ نمبر 5 کے پلاٹ نمبر 40 پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ۔زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ جب اس سنگین مسئلے اور اپنے ماتحت افسر کے مبینہ غیرقانونی کاموں کی اطلاعات ڈائریکٹر سمیع جلبانی تک پہنچیں، تو انہوں نے اس معاملے میں فوری اور شفاف کارروائی کرنے کے بجائے ، اسے دبانے کی کوشش کی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹر جلبانی نے نہ صرف ذوالفقار بلیدی کے خلاف تفتیش کا راستہ روکا، بلکہ اس معاملے کو باہر آنے سے بچانے کے لیے بھی کوششیں کیں، جو ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے سنگین بددیانتی اور قصور وار افسر کی پردہ داری کے مترادف ہے ۔شہریوں اور سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ اس سارے معاملے کی عدالتی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جس ادارے کو عمارات کی حفاظت یقینی بنانا ہے ، اگر وہیں کے افسران قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہوں اور اعلیٰ افسران ان کی پشت پناہی کریں، تو عوام کی جان و مال کا تحفظ کسی طور ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیر بلدیات سندھ اور چیف سیکرٹری سے فوری مداخلت کرتے ہوئے ذوالفقار بلیدی اور سمیع جلبانی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔


