میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں غیر قانونی بلندیوں کا کھیل

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں غیر قانونی بلندیوں کا کھیل

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

عوام کی جانوں سے کھیلتے تعمیراتی مافیا کو کھلی چھوٹ مل گئی، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی ملوث
پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605 پر غیرقانونی منزلیں،شہریوں کا مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

شہر قائد کے پرانے علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیاں ایک بار پھر غیر قانونی اور بے ہنگم تعمیرات کی زد میں ہیں، جہاں قانون کو پامال کرتے ہوئے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ یہ غیرقانونی سرگرمیاں نہ صرف علاقے کی پہلے سے خراب ٹریفک اور انفراسٹرکچر پر اضافی بوجھ ہیں، بلکہ ہزاروں شہریوں کی جانوں کو بھی براہ راست خطرہ بن رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، لیاقت آباد نمبر 2میں واقع پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605پر تعمیرات کی غیرقانونی بلندیوں اور بے ضابطگیوں کی واضح مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ عمارتیں منظور شدہ بلڈنگ پلانز سے تجاوز کرکے کھڑی کی گئی ہیں، جس سے نہ صرف ہوا اور روشنی جیسے بنیادی حقوق مجروح ہو رہے ہیں، بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فرار ہونا بھی ناممکن ہو جائے گا۔زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے طاقتور تعمیراتی مافیا کا ہاتھ ہے ، جسے متعلقہ اداروں کی جانب سے چھوٹ حاصل ہے ۔ ذمہ دار حلقوں کا الزام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی نگرانی میں یہ مافیا بے خوف ہو کر کام کر رہا ہے ۔ ان پر واضح طور پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کرنے کے بجائے ، تعمیراتی مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ بار بار متعلقہ اداروں سے رجوع کر چکے ہیں، لیکن ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر فوری طور پر پلاٹ نمبر 2/264اور 2/605سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی نہ کی گئی اور عمران رضوی جیسے افسران کی نگرانی میں احتساب کا عمل نہ شروع ہوا، تو کسی بڑے سانحے سے انکار ممکن نہیں رہے گا۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات فوری طور پر لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں ہو رہی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں اور مافیا کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرست افسران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ، تاکہ عوام کا بنیادی حقِ زندگی محفوظ ہو سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں