سندھ بلڈنگ، فیڈرل بی ایریا میں غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں عروج پر
شیئر کریں
رہائشیوں کا ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی پر الزام،شہری انتظامیہ کی کارروائیوں پر سوالات
انتظامی سرپرستی میںبلاک 6پلاٹ، C10بلاک 7پلاٹ نمبر 381 Aپر بے ضابطہ تعمیرات
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ’نئی غیرقانونی تعمیرات کو بننے ہی نہیں دینے ‘کے تازہ ترین دعوؤں اور ہدایات کے باوجود،ضلع وسطی کے مطلوبہ رہائشی علاقے فیڈرل بی ایریا میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے ۔ مقامی رہائشیوں اور مشاہدین کا کہنا ہے کہ نگران اداروں کی عدم موجودگی یا خاموش معاونت کے باعث راتوں رات کالونیاں کھڑی ہو رہی ہیں اور موجودہ عمارتیں من مانی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جس سے علاقے کا پورا نقشہ اور بنیادی ڈھانچہ بگڑ رہا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی احمد رضا کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ ہفتہ سڑک کے کنارے خالی پلاٹ پر فاؤنڈیشن پڑی تھی، آج اس پر دو منزلہ عمارت کی دیواریں کھڑی ہیں۔ کسی نے پوچھا تک نہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والے صرف پریس ریلیز جاری کرتے ہیں، میدان میں کوئی نہیں دکھائی دیتا‘‘۔ایک اور رہائشی، صدیقہ پروین نے بتایا کہ غیر قانونی اضافہ جات کی وجہ سے گلیاں تنگ ہوتی جا رہی ہیں اور نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے ۔دوسری طرف، غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افراد کا اپنا جواز ہے ۔ ایک ٹھیکیدار جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ڈیمانڈ ہے ، لوگ چھت چاہتے ہیں۔ جب تک کوئی آ کر روکتا نہیں، ہم بناتے رہتے ہیں۔ یہاں تو اکثر افسران ’ٹھیک‘ ہو جاتے ہیں‘‘۔ان کا اشارہ زیر زمین معاونت یا رشوت کے اس بڑھتے ہوئے کلچر کی طرف تھا، جسے اکثر غیرقانونی تعمیرات کا بنیادی ایندھن قرار دیا جاتا ہے ۔شہری حلقوں کا ماننا ہے کہ محض نئے احکامات جاری کر دینے سے صورتحال کنٹرول نہیں ہو گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایس بی سی اے کو عملاً میدان میں اپنی نگرانی مؤثر بنانی ہوگی، بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہوں گے ، اور پہلے سے موجود غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف بھی واضح پالیسی اور کارروائی کا اعلان کرنا ہوگا۔ جب تک غیرقانونی تعمیر ایک کم خطرہ اور زیادہ منافع والا کام سمجھا جاتا رہے گا، یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے گا۔بلاک 6کے پلاٹ C10اور بلاک 7پلاٹ 381 Aپر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات کو انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے ۔اس صورت حال نے انتظامیہ کے دعوؤں اور میدان میں موجود زمینی حقائق کے درمیان ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی زیرقیادت اتھارٹی کاغذی حکم ناموں سے آگے بڑھ کر عملی کارروائی دکھا پاتی ہے یا پھر غیر قانونی تعمیرات کا یہ دھندا اسی طرح بے روک ٹوک چلتا رہے گا۔


