کراچی یونیورسٹی کی قیمتی اراضی لینڈ مافیا کے نشانے پر
شیئر کریں
وائس چانسلر خالد عراقی عملی اقدامات سے گریزاں، لینڈ مافیا کے حوصلے بڑھنے لگے
قیمتی اراضی پر پیٹرول پمپ کی تعمیر تکمیل کے آخر مراحل میں، مٹھائی کی تقسیم کے دعوے
کراچی یونیورسٹی کی قیمتی اراضی ،لینڈ مافیا کے نشانہ پر آگئی ہے۔بدقسمتی سے وائس چانسلر خالد عراقی کی نااہلی اور عملی اقدامات سے گریزاں ہونے کے باعث لینڈ مافیا کے حوصلے مسلسل بڑ ھ رہے ہیں۔ اگرچہ وائس چانسلر نے زمین بچانے کے لیے ا عدالت سے رجوع کرنے کے دعوے تو کئے ہیں ، مگر دوسری جانب اپنی مبینہ فرنٹ مین اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کے ذریعے ، پیٹرول پمپ تعمیر کرنے والی پارٹی کو کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات بھی کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ خالد عراقی نے لینڈ مافیا کو مبینہ طور پر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انہوں نے دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کوپروفیسر قدیر محمد علی اور ڈاکٹر اکمل وحید کے ذریعے قابو کر لیا ہے ، عدالت کے کور میں کام جلد از جلد مکمل کر لیں تو بہتر ہے ، اب کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہیںاور لینڈ مافیا کا یہ اقدام کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ چند مہینے قبل کراچی یونیورسٹی کی جس قیمتی اراضی پر ایک پیٹرول پمپ کی تعمیر کا آغاز ہوا،وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ،پمپ تعمیر کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس زمین پر تعمیرات کا آغاز ، وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی اور اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کو اعتماد میں لیکر شروع کیا ہے ، تعمیرات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان کاموں کے لیے مٹھائی بھی تقسیم کی تھی جس کے بعد یہ جگہ لیز پر حاصل کی جا سکی ہے ۔واضح رہے کہ ان مجرمانہ کاموں کی سر پرستی ہمیشہ یونیورسٹی کے اندر سے ہی ہوئی ہے اور ہر دور کے لیگل ایڈوائزر اور اسٹیٹ آفیسر نے ہمیشہ لینڈ مافیا کی مبینہ” مٹھائی” کے عوض ان عناصر کی مدد کی ، اس بہتی گنگا میں سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد ، مفتی نعیم مرحوم ، اویس مظفر ٹپی ، ہاتھ دھو چکے ہیں ، گزشتہ چند سالوں میں سنڈیکیٹ کا رکن بننے والے ، سیاسی ، مذہبی ،سماجی پس منظر رکھے والی شخصیات صرف اور صرف یونیورسٹی کی قیمتی اراضی پر قبضہ کے لئے سنڈیکیٹ کا رکن بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں ، یہی عمل آج 2025میں بھی ہورہا ہے ، پیٹرول پمپ کی تیزی سے تعمیر اس بات تصدیق ہے کہ وائس چانسلر زمین بچانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ٫ اور پیٹرول پمپ کے مالک نے جنوری 2026 میں اس کے افتتاح کا اعلان کیا ہے ، وائس چانسلر خالد عراقی کا ، یونیورسٹی کے وکیل آصف مختار ، اور اسٹیٹ آفیسر نورین شارق کو ان کے عہدوں سے علیحدہ نہ کرنا اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ ، اس دھندے میں سب ملوث ہیں ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، اس معاملہ کی تحقیقات ، ایف آئی اے یا نیب سے کروانے کے اقدامات کریں ، تو شاید جامعہ کی زمین بچائی جا سکے۔


