میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حکومت اور عدلیہ میں کوئی محاذ آرائی نہیں‘ چودھری نثار احمد

حکومت اور عدلیہ میں کوئی محاذ آرائی نہیں‘ چودھری نثار احمد

ویب ڈیسک
اتوار, ۴ جون ۲۰۱۷

شیئر کریں

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی ایک معزز جج کے مقالمے یاکلمات پرحکومت کی جانب سے دکھ اور افسوس کے اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ حکومت اور عدلیہ میں کسی قسم کی محاذ آرائی ہونے چلی ہے یا تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ، وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نقطہ نظر کے اختلاف کو تصادم سے تشبیہہ دینا اورہرمعاملے کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرنا دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں استحکام کی بجائے ٹکراو¿ اور انتشار چاہتی ہے وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض عناصر نے اس بات کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے کہ وہ اداروں اور حکومت کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دیں اورکسی بھی نوعیت کے معاملے پر سیاسی بیان بازی اورپوائنٹ سکورنگ کی روش کو اس انتہا پر لے جا کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کریں وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ججوں کو فیصلوں سے روکنے کے لیے ان پر سیاہی پھینکی اعلیٰ ترین عدالتی فیصلوں کو چمک سے تعبیر کیاگیا سپریم کورٹ میں پنجابی اور غیر پنجابی کی تفریق ڈالی گئی، پی سی او ججز کی آبیاری کی گئی اور انہیں اعلیٰ عدالتی منصبوں پر فائز کیا گیا دوسری طرف اس گروہ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف ان عدالتی فیصلوں کو مانتے ہیں جو ان کے حق میں کیے جائیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں