کراچی پولیس کے 132 ایس ایچ اوز اور ہیڈ محرر مافیا کے محافظ نکلے
شیئر کریں
کراچی پولیس کے کرپٹ افسران سے متعلق اسپیشل برانچ کی خفیہ رپورٹ نے پورے محکمے میں ہلچل مچا دی
بھتہ وصولی کے مکروہ دھندے میں کئی تھانے براہ راست ملوث قرار، فہرست آئی جی سندھ کو ارسال،ذرائع
کراچی سے آنے والی ایک خبر نے سندھ پولیس کے پورے محکمے میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسپیشل برانچ کی ایک خفیہ رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی پولیس کے 132 پولیس افسران اور اہلکار جرائم پیشہ گروہوں کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ فہرست آئی جی سندھ کو ارسال کردی گئی ہے۔فہرست میں شامل افراد میں 58 تھانیدار (ایس ایچ اوز) اور 74 ہیڈ محرر شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ افسران نہ صرف منشیات فروشوں اور گٹکا ماوا مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں بلکہ پارکنگ مافیا، لینڈ گریبرز، غیرقانونی ریتی بجری مافیا اور چائے کے ہوٹل چلانے والوں سے بھی بھتہ وصول کرتے ہیں۔اس مکروہ دھندے میں کئی تھانے براہ راست ملوث قرار دیے گئے ہیں جن کے انچارجز کا نام فہرست میں واضح طور پر شامل ہے۔ذرائع کے مطابق ان افسروں میں سے بعض اپنے تھانوں میں تعینات ہیں جبکہ کئی سابقہ ایس ایچ اوز بھی اور کچھ رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے ہیں۔


