میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

ویب ڈیسک
منگل, ۳۰ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا
اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا

اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بربریت کا مظاہرہ کئے جا رہے ہِیں، تو دوسری طرف موسم کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خیموں میں مقیم شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں شدید خطرے میں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں، تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید چار فلسطینی شہید ہو گئے۔غزہ میں ہونیوالی بارشیں، یخ بستہ ہوائیں اور سیلابی صورتحال کے باعث خیموں میں مقیم فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔غزہ میں جاری انسانی بحران شدید بارشوں کے باعث مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد غزہ میں موسم مزید سرد ہو گیا، جبکہ دوسری طرف حالیہ بارشوں نے بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں بارش کا پانی پناہ گزین کیمپوں اور خیموں میں داخل ہو گیا ہے ہزاروں خاندان پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ اب بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مختلف پناہ گزین کیمپوں میں قائم خیمے پانی میں ڈوب گئے جس کے باعث خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان ضائع ہو گیا ہے، خیموں میں مقیم شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔سردی اور نمی کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور سکیورٹی صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ادھر اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں، تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید چار فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جس کے بعد جنگ بندی معاہدے کے بعد سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 414 تک پہنچ گئی ہے، فلسطینی حکام کے مطابق حملے مختلف علاقوں میں کیے گئے جن میں رہائشی علاقے بھی شامل ہیں۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر امدادی راستے مکمل طور پر بحال نہ کئے گئے تو حالات ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں