میں کون ہوں؟ انسان کا سب سے قدیم سوال
شیئر کریں
انسان کا سب سے قدیم سوال شاید یہ نہیں کہ دنیا کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ میں کون ہوں؟ تہذیبوں نے آسمان کو ناپا، سمندروں کو عبور کیا، دیوتاؤں کے بت تراشے، سلطنتیں قائم کیں، فلسفے ایجاد کیے، سائنس کو جنم دیا، مگر انسان کے اندر موجود یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے: میری شناخت کیا ہے، میرا تعلق کہاں سے ہے، اور میں اس دنیا میں آخر کس مقام پر کھڑا ہوں؟
ایرک ایرکسن نے انسانی نفسیات میں اسی سوال کو ‘‘تشخص’’ کے تصور کے ذریعے ایک غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک شناخت کوئی تیار شدہ لباس نہیں جو انسان پیدائش کے وقت پہن کر دنیا میں آتا ہے۔ یہ ایک مسلسل بننے اور ٹوٹنے والا عمل ہے۔ انسان اپنے آپ کو صرف اپنے اندر نہیں پاتا، وہ اپنے خاندان، زبان، ثقافت، تاریخ، معاشرے، تعلقات اور اپنے زمانے کے ساتھ تعلق میں دریافت کرتا ہے۔ اسی لیے شناخت محض نفسیاتی مسئلہ نہیں، ایک تاریخی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔قدیم انسان جب غار کی دیوار پر پہلی تصویر بناتا ہے تو وہ صرف شکار کا منظر محفوظ نہیں کر رہا ہوتا، وہ شاید پہلی مرتبہ دنیا کو بتا رہا ہوتا ہے، میں یہاں تھا۔ جب مصری اپنے مردوں کے نام پتھروں پر کندہ کرتے ہیں، جب یونانی اپنے فلسفیانہ سوالات کے ذریعے ‘‘انسان’’ کی تعریف تلاش کرتے ہیں، جب رومی اپنی شہریت کو ایک سیاسی شناخت بناتے ہیں، جب مذہب انسان کو کسی مقدس اجتماع کا حصہ قرار دیتا ہے، اور جب قومیں اپنے پرچم، زبان، سرحد اور تاریخ کے ذریعے اپنے وجود کا اعلان کرتی ہیں، تو ہر جگہ انسانی شناخت کی یہی تلاش کارفرما دکھائی دیتی ہے۔
تاریخ دراصل صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی داستان نہیں۔ تاریخ انسان کے اپنے آپ کو پہچاننے کی داستان بھی ہے۔ارسطو نے انسان کو ‘‘سیاسی حیوان’’ کہا، کیونکہ انسان تنہائی میں مکمل نہیں ہوتا۔ اس کی ذات دوسروں کے درمیان معنی حاصل کرتی ہے۔ افلاطون کے ہاں انسان اپنے باطن کی حقیقت تلاش کرتا ہے، سقراط کا ‘‘خود کو پہچانو’’ صدیوں سے انسانی شعور کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ بعد میں ڈیکارٹ نے کہا، ‘‘میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں’’۔۔گویا وجود کی بنیاد بھی انسان نے اپنے شعور میں تلاش کی۔لیکن جدید دنیا نے اس سوال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔صنعتی انقلاب نے انسان کو اس کے روایتی معاشرے سے نکالا، جدید ریاست نے اسے شہری بنایا، سرمایہ داری نے اسے صارف بنایا، قوم پرستی نے اسے ایک قومی شناخت دی، نظریات نے اسے سیاسی شناختیں دیں، اور جدید ذرائع ابلاغ نے اسے ہزاروں مصنوعی شناختوں کے درمیان کھڑا کر دیا۔ اب انسان صرف یہ نہیں پوچھتا کہ ‘‘میں کون ہوں؟’’ بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ مجھے کون ہونا چاہیے؟یہاں ایرکسن کی بصیرت اور زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔انسان بچپن سے ہی دوسروں کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ والدین اسے بتاتے ہیں کہ وہ کیا ہے، معاشرہ اسے بتاتا ہے کہ اسے کیا ہونا چاہیے، اسکول اسے کردار دیتا ہے، مذہب اسے اخلاقی حدود دیتا ہے، ریاست اسے شہری شناخت دیتی ہے، قوم اسے تاریخ دیتی ہے، اور طاقتور ادارے اسے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ‘‘اچھا انسان’’ کون ہے اور ‘‘برا انسان’’ کون۔یوں انسان آہستہ آہستہ اپنے بارے میں ایک کہانی تعمیر کرتا ہے۔مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کی اپنی داخلی حقیقت اور معاشرے کی عائد کردہ شناخت میں تصادم شروع ہوجائے۔یہی بحرانِ تشخص ہے۔تاریخ میں بڑے بڑے انقلابات کو بھی اگر نفسیاتی سطح پر دیکھا جائے تو وہ صرف سیاسی یا معاشی بغاوتیں نہیں تھے؛ وہ شناخت کی بغاوتیں بھی تھے۔ غلام جب آزادی مانگتا ہے تو وہ صرف زنجیر توڑنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ اس شناخت کو مسترد کرتا ہے جو آقا نے اس پر مسلط کی تھی۔ نوآبادیاتی انسان جب آزادی کی جنگ لڑتا ہے تو وہ صرف زمین واپس نہیں مانگتا، وہ اپنی تاریخ، زبان، ثقافت اور انسانی وقار واپس مانگتا ہے۔اسی لیے فرانز فینن نے نوآبادیاتی انسان کے نفسیاتی زخموں کو سیاسی غلامی سے الگ نہیں دیکھا۔ کیونکہ جس انسان کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ تم کم تر ہو، تمہاری تاریخ کمتر ہے، تمہاری زبان کمتر ہے، تمہاری تہذیب کمتر ہے، آخرکار اس کے اندر صرف سیاسی غلامی نہیں رہتی؛ غلامی اس کی نفسیات کا حصہ بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں فاتح صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کرتے، وہ یادداشت پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ جس قوم کو اس کی تاریخ سے کاٹ دیا جائے، اسے اپنی شناخت دوبارہ تعمیر کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔اسی مقام پر کارل یونگ کا اجتماعی لاشعور، فوکو کی طاقت اور علم کی بحث، اور ایرکسن کا تشخص ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
انسان اپنی ذات کا مالک ضرور ہے، مگر اس کی ذات کے اندر معاشرے کی آوازیں بھی بول رہی ہوتی ہیں۔انسان اکثر وہ نہیں ہوتا جو
وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہے؛ وہ کبھی کبھی وہ بھی ہوتا ہے جو معاشرے نے اسے بننے پر مجبور کیا ہوتا ہے۔پاکستانی سماج میں تشخص کا مسئلہ اسی لیے خاص طور پر پیچیدہ ہے۔ یہاں پاکستانی انسان صرف اپنی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ کئی تہوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے: مذہبی شناخت، علاقائی شناخت، لسانی شناخت، طبقاتی شناخت، سیاسی شناخت اور تاریخی شناخت۔ مسئلہ شناخت کے وجود میں نہیں ، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شناخت کو محبت کے بجائے اقتدار کا ہتھیار بنا دیا جائے۔پاکستان کی تاریخ میں بارہا لوگوں کو بتایا گیا کہ ان کی اصل شناخت کیا ہے، انہیں کس سے محبت کرنی چاہیے، کس سے خوف کھانا چاہیے، کس زبان کو فوقیت دینی چاہیے، کس سیاسی گروہ کو اپنا سمجھنا چاہیے اور کس کو دشمن۔ یوں شناخت کبھی کبھی انسان کی آزادی کا وسیلہ بننے کے بجائے اس کی ذہنی قید بن جاتی ہے۔
پاکستانی انسان کا المیہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنی ذات سے زیادہ اپنے ‘‘لیبل’’ کا دفاع کرنا سکھایا گیا ہے۔ وہ پہلے پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ تم سے محبت کرنی ہے یا نفرت۔حالانکہ تہذیب کی اصل بلندی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان دوسرے انسان سے اس کے لیبل کے بغیر ملتا ہے۔سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، کراچی، دیہات، شہر، مختلف زبانیں اور مختلف ثقافتیں۔۔یہ سب شناخت کی نفی نہیں بلکہ انسانی وجود کی مختلف صورتیں ہیں۔ مسئلہ تنوع نہیں، مسئلہ وہ سیاست ہے جو تنوع کو دشمنی میں تبدیل کرکے اقتدار حاصل کرتی ہے۔ایک صحت مند معاشرہ انسان کو شناخت دیتا ہے، مگر اسے شناخت کا قیدی نہیں بناتا۔ایرکسن کے خیال کی سب سے بڑی معنویت شاید یہی ہے کہ انسان کی شخصیت ایک مسلسل سفر ہے۔ ہم مکمل ہوکر پیدا نہیں ہوتے۔ ہم اپنے تجربات، تعلقات، شکستوں، محبتوں، تاریخ اور انتخاب کے ذریعے بنتے ہیں۔ جو معاشرہ انسان کو اپنی شناخت پر سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ دراصل اس کی ذہنی نشوونما روک دیتا ہے۔اور شاید اسی لیے سقراط آج بھی زندہ ہے۔کیونکہ اس کا سوال اب بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے، خود کو پہچانو۔مگر خود کو پہچاننے کا مطلب صرف یہ جان لینا نہیں کہ ہمارا نام کیا ہے، ہماری قوم کیا ہے یا ہمارا سیاسی جھنڈا کون سا ہے۔ خود کو پہچاننے کا مطلب یہ جاننا ہے کہ ہماری سوچ میں ہمارا اپنا کتنا حصہ ہے اور دوسروں کی آواز کتنی؟
شاید انسان کی حقیقی آزادی اسی دن شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے اندر موجود مسلط شدہ شناختوں سے سوال کرنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ تاریخ کا سب سے خطرناک انسان وہ نہیں جو اپنی شناخت رکھتا ہے۔ خطرناک وہ ہے جسے اپنی شناخت پر سوال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اور سب سے آزاد انسان وہ ہے جو یہ کہنے کی جرأت رکھتا ہے، میں صرف وہ نہیں ہوں جو تم نے مجھے بتایا ہے، میں وہ بھی ہوں جسے میں خود دریافت کر رہا ہوں۔
٭٭٭


