میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شوکت ترین کے6 ماہ ،ملک میں اشیائے ضروریہ آسمان کو چھونے لگیں

شوکت ترین کے6 ماہ ،ملک میں اشیائے ضروریہ آسمان کو چھونے لگیں

ویب ڈیسک
پیر, ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شوکت ترین کے بطور وزیرخزانہ 6 ماہ کے عرصے میں ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق شوکت ترین کی بطور وفاقی وزیر خزانہ 6 ماہ کی مدت مکمل ہوگئی ہے اور اس عرصے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق 6 ماہ کے عرصے میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا اوسط 210 روپے 5 پیسے مہنگا ہوا، چینی کی فی کلو قیمت میں اوسط 3 روپے 23 پیسے اضافہ ہوا، گھی کی قیمت 6 ماہ میں فی کلو 46 روپے 73 پیسے بڑھی، مٹن 101 روپے7 پیسے، بیف 62 روپے 2 پیسے فی کلو مہنگا ہوا۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے بتایاکہ دہی کی فی کلو قیمت میں 5 روپے 19 پیسے کا اضافہ ہوا، دال مسور25 روپے 74 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی، حالیہ 6 ماہ میں انڈے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔دستاویزمیں بتایا گیا ہے کہ شوکت ترین کے 6 ماہ کے دور میں پیاز 16 روپے 27 پیسے، ٹماٹر 11 روپے 38 پیسے، آلو 7 روپے 59 پیسے فی کلو اور لہسن کی فی کلو قیمت میں 102 روپے 54 پیسیاضافہ ہوا، ایل پی جی کا گھریلو سیلنڈر 6 ماہ میں 802 روپے 5 پیسے مہنگا ہوا، گڑ کی فی کلو قیمت 17 روپے 24 پیسے بڑھی، تازہ دودھ کی فی لیٹر قیمت میں4 روپے 55 پیسے کا اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق وزیرخزانہ شوکت ترین کے 6 ماہ کے عرصے میں دال مونگ 65 روپے 23 پیسے, دال ماش 16 روپے 86 پیسے کلو سستی ہوئی، دال چنا کی فی کلو قیمت 2 روپے 8 پیسے کم ہوئی، حالیہ 6 ما میں زندہ مرغی فی کلو 7 روپے 32 پیسے سستی ہوئی۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے شوکت ترین کو بطور وزیر خزانہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا ٹاسک دیا تھا، حکومتی ارکان نے حفیظ شیخ کی وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹانے کی وجہ مہنگائی قرار دی تھی۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں