میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل

دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل

جرات ڈیسک
منگل, ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

دہشت گردوں نے گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں رات کی تاریکی میں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایف سی کے 10 جوان شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں مگر ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور ایف سی کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں دن کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کار فرما ہوتے ہیں جبکہ رات کو دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ اگر اس مین ذرہ برابر بھی سچائی ہے تو یہ افسوسناک ہے۔ خیبر پختونخواہ میں گرینڈ جرگہ ہو چکا ہے۔ اس میں مرکزی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز موجود تھے۔ اس میں پی ٹی ایم سمیت ہر پارٹی شامل تھی۔ پی ٹی ایم کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے لیکن اب وہ قومی دھارے میں آرہی ہے۔جرگے میں شریک ہر پارٹی ہر گروپ ہرا سٹیک ہولڈر اور ہر فرد کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کا یقین دلایا گیا تھا۔اس جرگے کے بعد دہشت گردی کے واقعات کا تواتر کے ساتھ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ دودہائیوں سے وطن عزیز کو دہشت گردی کے عفریت کاسامنا ہے۔ پاک فوج، پیراملٹری فورسز سمیت انٹیلی جنس اہلکار اس دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نہ صرف برسرپیکار ہیں بلکہ اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کر رہے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں کارروائیاں کرکے لاتعداد دہشت گردوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا جا چکا ہے۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دونوں صوبوں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا رہا ہے لیکن دہشت گردی کا ناسور تاحال ختم نہیں ہوا ہے، جب بھی موقع ملتا ہے، یہ ناسور سر اٹھالیتا ہے۔ گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں‘‘زام’’ ایف سی چیک پوسٹ پر فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کے حملے میں 10 جوان شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گردوں نے ‘‘درزندہ’’ ایریا میں زام چیک پوسٹ پر رات کے وقت بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، خارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایف سی کے10 جوان شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔ ترجمان کے مطابق شہید جوانوں نے جانیں نچھاور کرکے خوارجی دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا، شہید ہونے والے 6 جوانوں کا تعلق جنوبی وزیرستان جب کہ 4 کا ضلع کرک سے ہے، ادھر بنوں کے علاقے جانی خیل میں پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او اپنے محافظ سمیت شہید ہوگئے،پولیس کے مطابق ایک اہلکار زخمی بھی ہوا، ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیم معمول کے گشت پر تھی کہ دہشت گردوں نے فائرنگ کردی۔ ضلع لکی مروت میں مغرب کی نماز کے دوران خوارج نے ایک مسجد پر حملہ کیا،حملے کے دوران زیر تربیت کیڈٹ عارف اللہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، غور کیا جائے تو دہشت گردی کی یہ وارداتیں خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاک افغان سرحد آج بھی پوری طرح محفوظ نہیں بنائی جاسکی ہے۔ افغانستان سے پاکستان کی طرف آنا جانا اب بھی لگا ہوا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے باشندوں کو واپس بھجوانے کا جو عمل شروع کیا تھا وہ بھی رکا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ارباب اختیار کو شایدیہ بھی معلوم نہیں ہے کہ جو لوگ پاکستان سے واپس افغانستان بھجوائے گئے ہیں، ان میں سے کتنے لوگ دوبارہ واپس آچکے ہیں ، نہ ہی ہماری پارلیمان نے اس حوالے سے کسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔پاکستان کے نظام کی یہ سب سے بڑی کمزوری ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک افغان سرحد جب تک محفوظ نہیں بنائی جاتی، اس وقت تک پاکستان میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران بھی اب افغان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ایران کی حکومت نے بھی افغانستان کے شہریوں کو واپس بھیجنے کے لیے انتہائی سخت پالیسی بنائی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اس حوالے سے جو پالیسی بنائی ہے، اس میں انتہائی لچک موجود ہے۔ پاکستان کے نظام میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں اور قوانین میں ایسی کمزوریاں بھی موجود ہیں جو پاکستان کے شہریوں کے بجائے غیرملکیوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرتی ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے افغان پناہ گزیں ملک کی سافٹ بیلی ہے۔ ان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دہشت گردوں کا آسانی سے سہولت کار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ایسے طاقتور گروہ موجود ہیں جو اپنے مفادات کے لیے غیرملکی ڈرگ ڈیلرز، ہنڈی حوالہ کا کام کرنے والوں اور انڈر ورلڈ مافیا کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کو بھی ان ہی لوگوں سے سہولت کاری ملتی ہے۔ یوں پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے اور دہشت گرد پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو کھلے عام نشانہ بنا رہے ہیں۔کیا یہ سوچنے والی بات نہیں ہے کہ ایف سی پوسٹوں پر کس آسانی سے حملے ہو رہے ہیں۔ دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے جوانوں کو شہید کر کے بآسانی موقع سے فرار ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں کسی اور ملک میں شاید ہی ایسا ہوتا ہو گا۔ افغانستان کی حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں ناکام ہے۔ چین، روس اور بھارت اپنے مفادات کے لیے افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے حکمران افغانستان کے وسائل کو انتہائی سستے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ طالبان حکومت کے فیصلوں کو کہیں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طالبان لیڈر کے خلاف کوئی مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت اپنے مینڈیٹ سے آگے بڑھ کر کام کر رہی ہے ۔ بلکہ جس مینڈیٹ کے تحت وہ برسراقتدار آئی ہے اس پر تو وہ بالکل عمل نہیں کر رہی۔ طاقتور اقوام کی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کھرب پتی تاجر افغانستان کے وسائل کوڑیوں کے بھاؤ لوٹ رہے ہیں۔ افغانستان کے طالبان حکمراں اپنی بقا کے لیے افغانستان کے عوام کے وسائل کو من مرضی سے استعمال کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں افغانستان کی حکومت نے داعش کے ساتھ لڑنے کا دعویٰ بھی کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افغانستان نے پاکستان کو لپیٹنے کی پوری کوشش کی۔ موجودہ صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز اپنی سفارت کاری کتابی اصولوں کے مطابق چلانے کے بجائے وقت کی ضروریات اور حرکیات کو سامنے رکھ کر ڈپلومیسی ہتھیار استعمال کریں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ افغانستان دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ افغانستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ اس ملک کا قانون وہ ہے جو افغانستان کی عبوری حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے جاری کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کس چڑیا کا نام ہے، آرٹ اور کلچر کسے کہتے ہیں، یہ تو افغانستان کی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان سے کوئی اس حوالے سے سوال کرنے والا ہے۔جب کہ
پاکستان کے اندر ایسے نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئنز بھی موجود ہیں جو دہشت گردوں، مذہبی انتہاپسندوں اور جرائم پیشہ مافیا کے لیے بھی انسانی حقوق کی آڑ میں آواز اٹھانے میں آزاد ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اور پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے خوداحتسابی کرنی چاہیے۔ پاکستان میں جس آزادانہ طریقے سے دہشت گرد اپنی وارداتیں کر رہے ہیں، اس کا قصور دہشت گرد عناصر پر عائد اس لیے نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ انھیں تو جب بھی موقع ملے گا وہ اپنی واردات کریں گے کیونکہ وہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں۔ ان کا ایجنڈا پاکستان کے عوام کو غلام بنانا اور پاکستان کے وسائل پر اس طرح قبضہ کرناہے جس طرح افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اصل ذمے داری تو پاکستان کو چلانے والوں اور نظام پر عائد ہوتی ہے جس کا کام پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی مثالیں موجود ہیں جب کسی ملک کے حکمرانوں نے عزم کیا اتو پھر دہشت گردوں کو ان کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی ، ملک دشمنوں کا خاتمہ کر دیا گیا لیکن پاکستان میں نظام کے اندر ایسی خامیاں، لوپ ہولز، ابہام اور اشتباہات موجود ہیں، جن کا سراسر فائدہ پاکستان کے اندر وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو پاکستان کے عوام کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔دہشت گردی کے واقعات کا جاری رہنا ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پلاننگ میں کمزوریاں موجود ہیں۔ ان کو دور کرنے کے لیے حکومت اور ادارے مل کر فول پروف لائحہ عمل طے کریں۔
انسانی خون کو بہانے والے یقیناکسی رحم کے مستحق نہیں ہیں نہ ہی ان کے ساتھ کوئی رعایت ہونی چاہیے، دنیا میں کسی بھی جگہ ایسے واقعات ہوں ان کی نہ صرف مذمت کی جانی چاہیے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سب کو مل کر اقدامات بھی اٹھانے کی ضرورت ہے۔ گوکہ پاکستان ایک عرصے سے دہشت گرد عناصر کے خلاف لڑ رہا ہے۔ پاکستان میں جگہ جگہ امن دشمنوں نے خون بکھیرا ہے۔ پاکستان کے شہریوں نے ان سفاکیوں کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے۔ افواجِ پاکستان نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کئی آپریشن کیے ہیں، دہشت گردوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے۔ پاکستان نے امن کے ان دشمنوں کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور یہ جنگ اب بھی جاری ہے۔ دشمن بھیس بدل بدل کر مختلف علاقوں میں حملہ آور ہو رہا ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر امن دشمنوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ امن کی بحالی کیلئے گذشتہ چند برسوں میں پاکستان نے 70 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ دیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ دشمن ایسے واقعات کو مذہبی انتہا پسندی اور مسلکی اختلافات کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔ ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس مشکل وقت میں ہمیں صرف اور صرف متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے لیے متحد رہنا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ ہم سب کا دشمن ایک ہے، دشمن متحد ہے اس کی نظر میں کوئی مسلک نہیں بلکہ مسلمان اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ہیں وہ اسی بنیاد پر ہمیں نشانہ بناتا ہے۔ گذرے ہوئے چند ماہ کے دوران امن کو خراب کرنے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں گزشتہ روز کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ دشمن کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ہیش نظر ہمیں سیکورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ پہلے سے زیاد ہ متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔ چیزوں کو بھانپنے اور بروقت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس حوالے سے روایتی سستی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے غیر معمولی اقدامات کی طرف بڑھنا چاہیے۔ دشمن کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں