درخت زمین کا زیور اورآکسیجن کا خزانہ
شیئر کریں
قدرت نے اس کرۂ ارض کو بے شمار نعمتوں سے مزین کیا ہے ، مگر ان نعمتوں میں درخت ایک ایسی نعمت ہیں جنہیں زمین کا حسن، ماحول
کی زندگی اور انسان کی بقا کا ضامن قرار دیا جا سکتا ہے ۔ درخت صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ یہ فطرت کے خاموش
محافظ، انسانی صحت کے نگہبان اور ماحول کے حقیقی معمار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بجا طور پر‘‘زمین کا زیور اور آکسیجن کا خزانہ’’کہا جاتا
ہے ۔ اگر زمین پر درخت نہ ہوں تو نہ صرف ماحول کا توازن بگڑ جائے بلکہ انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے ۔
آج پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، درجہ حرارت میں اضافے ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل
سے دوچار ہے ۔ ان تمام مسائل کے مؤثر اور پائیدار حل میں درخت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ماحولیات درختوں کو
زمین کے پھیپھڑے (Lungs of theEarth) قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے انسانوں اور
دیگر جانداروں کے لیے زندگی بخش آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔
درخت فطرت کا وہ خاموش سرمایہ ہیں جو بغیر کسی معاوضے کے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ ایک درخت اپنی پوری زندگی میں
ہزاروں کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے ، آکسیجن پیدا کرتا ہے ، فضا کو صاف رکھتا ہے ، گردوغبار کو کم کرتا ہے اور ماحول کو ٹھنڈا
رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق ایک صحت مند درخت روزانہ اتنی آکسیجن پیدا کر سکتا ہے جو کئی انسانوں
کی روزمرہ ضرورت پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں جہاں درختوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہاں فضائی
آلودگی نسبتاً کم، درجہ حرارت معتدل اور زندگی زیادہ صحت مند ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس جہاں درخت کم ہوں وہاں گرمی کی شدت، آلودگی
اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ درخت صرف آکسیجن ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ وہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں
بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بارشوں کے نظام کو متوازن رکھنا، زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنا، مٹی کے کٹاؤ کو روکنا، سیلاب کی شدت
کو کم کرنا اور صحراؤں کو پھیلنے سے روکنا بھی درختوں کے اہم فوائد میں شامل ہے ۔
درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جس سے بارشوں کے دوران زمین بہہ جانے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح
جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرکے زیر زمین پانی کے ذخائر میں اضافہ کرتے ہیں، جو زرعی پیداوار اور انسانی زندگی کے لیے انتہائی
ضروری ہیں۔ درخت حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بے شمار پرندے ، جانور،
حشرات اور دیگر مخلوقات اپنی زندگی کے لیے درختوں پر انحصار کرتی ہیں۔ درخت ان کے لیے رہائش، خوراک اور افزائش کا بہترین ذریعہ
ہیں۔ اگر جنگلات ختم ہو جائیں تو نہ صرف جنگلی حیات خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ قدرتی ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ درختوں کا تحفظ دراصل پوری قدرتی زندگی کے تحفظ کے مترادف ہے ۔
درخت انسان کو بے شمار معاشی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ لکڑی، پھل، خشک میوہ جات، جڑی بوٹیاں، کاغذ سازی کا خام مال، شہد، ربڑ، گوند، تیل اور ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے متعدد اجزاء درختوں ہی سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ زرعی معیشت رکھنے والے ممالک کے لیے باغات اور جنگلات قومی آمدنی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ درختوں کی موجودگی زرعی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ وہ زمین کی زرخیزی کو برقرار رکھتے ہیں اور موسمی شدت کو کم کرتے ہیں۔
شہری زندگی میں درختوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، صنعتی سرگرمیوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں نے فضائی آلودگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے ۔ ایسے ماحول میں سڑکوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں میں درخت لگانا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے ۔ درخت نہ صرف شور کی شدت کم کرتے ہیں بلکہ گرمی کے اثرات میں بھی نمایاں کمی لاتے ہیں۔ سایہ دار درخت شہروں کے درجہ حرارت کو کم کرکے توانائی کے استعمال میں بھی کمی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ ان کی موجودگی سے ٹھنڈک برقرار رہتی ہے اور ایئر کنڈیشنرز پر انحصار کم ہوتا ہے ۔
پاکستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے گزر رہا ہے ۔ غیر معمولی گرمی، خشک سالی، پانی کی قلت، برفانی گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، فضائی آلودگی اور تباہ کن سیلاب اس حقیقت کی واضح مثالیں ہیں۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی مسلسل کٹائی اور درختوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد بھی ہے ۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم ایک چوتھائی رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں، مگر پاکستان میں جنگلات کا رقبہ اس معیار سے کہیں کم ہے ۔ اس صورتحال میں بڑے پیمانے پر شجرکاری نہ صرف ماحولیاتی ضرورت بلکہ قومی ترجیح بن چکی ہے ۔
درختوں کی اہمیت صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے ۔ سرسبز ماحول ذہنی سکون، جسمانی صحت اور نفسیاتی توازن فراہم کرتا ہے ۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سبز علاقوں میں رہنے والے افراد ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کا نسبتاً کم شکار ہوتے ہیں۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف درختوں کی موجودگی صحت مند اور خوشگوار ماحول پیدا کرتی ہے ، جبکہ بچوں کی ذہنی نشوونما
اور تعلیمی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے ترقی کے نام پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع اور قدرتی وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کو صاف ہوا، میٹھا پانی اور معتدل موسم میسر آنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مؤثر جنگلاتی پالیسیاں بنائے ، غیر قانونی کٹائی کو روکے ، شجرکاری مہمات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے اور ہر ترقیاتی منصوبے میں درختوں کے تحفظ کو لازمی جزو بنایا جائے ۔ اسی طرح تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو عوام میں درختوں کی اہمیت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا چاہیے ۔
انفرادی سطح پر بھی ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم چند درخت ضرور لگائے اور ان کی حفاظت کرے ۔ ایک درخت لگانا صرف ایک پودا زمین میں نصب کرنا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے صاف ہوا، معتدل موسم، بہتر صحت اور محفوظ ماحول کا تحفہ دینا ہے ۔ اگر
ہر فرد سال میں ایک یا دو درخت بھی لگائے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرے تو چند برسوں میں پاکستان کا ماحول نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے ۔
مختصراً یہ کہ درخت واقعی زمین کا زیور اور آکسیجن کا خزانہ ہیں۔ وہ زمین کی خوبصورتی، فضا کی پاکیزگی، انسانی صحت، معاشی ترقی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی استحکام کی بنیاد ہیں۔ موجودہ دور میں جب دنیا ماحولیاتی بحرانوں سے دوچار ہے ، درخت لگانا ایک شعوری، اخلاقی اور قومی ذمہ داری بن چکا ہے ۔ آئیں ہم سب اس عزم کا اظہار کریں کہ نہ صرف زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں گے بلکہ ان کی حفاظت بھی کریں گے ، کیونکہ سرسبز درخت ہی سرسبز زمین، صحت مند معاشرے اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
٭٭٭


