رمضان المبارک میں آنحضرتﷺ کے معمولات
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کے جملہ احکامات و ارشادات اور اوامر و نواہی کو صحیح صحیح بجالا نا اور اُنہیں ٹھیک ٹھیک ادا کرنا حضور ِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طور طریقوں ، نیک اور حسین اداؤں اور نورانی سنتوں پر عمل کئے بغیر کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ اِس لئے کہ احکاماتِ الٰہیہ کے سب سے بڑے مفسر اور شارح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور آپصلی اللہ علیہ وسلم ہی اُنہیں عملی زندگی کا جامہ پہناکر اقوام عالم کی آنکھوں کے سامنے پیش کرنے کے سب سے زیادہ حق دار بھی ہیں۔
من جملہ اُن احکامات کے ایک بڑا اور اہم ترین حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر رمضان المبارک کے روزوں کا ہے، جس کی عملی اور مشاہداتی تفسیر و تشریح رمضان المبارک میں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اور نورانی معمولات ہیں۔
چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوجاتا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعاء مانگا کرتے : ‘‘ترجمہ: اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطاء فرمادیجئے اور رمضان تک ہمیں پہنچادیجئے!۔’’ (مسند احمد)اور شعبان کا مہینہ شروع ہوتا تو لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: ‘‘ رمضان کے صحیح حساب کی غرض سے شعبان کے چاند (اور اُس کی تاریخوں کے حساب کو) خوب اچھی طرح محفوظ کرلیا کرو!’’ (مستدرک حاکم)
اور جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی آمد کی خوشی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھتے کہ تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور کون تمہارا استقبال کر رہا ہے؟۔’’ (الترغیب والترہیب)
اور ماہِ رمضان کے چاند کے دیکھنے کا بڑی خصوصیت اور شوق کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہتمام فرماتے ۔ اورجب رمضان کا چاند نظر آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعاء پڑھا کرتے: ‘‘ترجمہ: اے اللہ! اِس چاند کو ہم پر امن و امان اور سلامتی و اسلام اور اُس چیز کی توفیق کے ساتھ جسے آپ پسند فرماتے ہیں اور جس سے آپ راضی ہوتے ہیں ظاہر فرمادیجئے! (اور پھر چاند سے مخاطب ہوکر فرماتے اے چاند!) ہمارا اور تیرا پالنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔’’ (صحیح ابن حبان)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: (اِس کے بعد) جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوجاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ازار بند کس لیتے ، پھر جب تک رمضان گزر نہ جاتا اپنے بستر پر تشریف نہ لاتے۔’’ (شعب الایمان للبیہقی)
ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا، نماز میں اضافہ ہوجاتا ، دُعاء میں آہ و زاری بڑھ جاتی اور آپؐ کا رنگ سرخ ہوجاتا۔’’(شعب الایمان للبیہقی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں صدقہ و خیرات کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور آپ کی زیادہ سخاوت رمضان کے مہینہ میں اُس وقت ہوتی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبریل علیہ السلام ملاقات کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتے تھے، یہاں تک کہ رمضان ختم ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان المبارک میں) حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ السلام ملاقات کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کے کاموں میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔’’ (صحیح بخاری)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے حجرے کے قریب (باجماعت نمازِ تراویح کے لئے) ایک چٹائی بچھانے کا حکم دیا، تو میں نے ایک چٹائی بچھادی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد اُس چٹائی پر تشریف لائے اور مسجد میں موجود حضرات کو رات کے ایک لمبے حصہ تک تراویح کی نماز پڑھائی۔ دوسرے دن بھی یہی عمل کیا۔ پھر جب تیسرا دن آیا تو مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئی لیکن اِس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھانے کے بعد گھر تشریف لے آئے اور ترایح کی نماز لوگوں کو نہیں پڑھائیں ، پھر اگلے دن آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ فرمایا کہ میں نے اِس لئے ایسا کیا تھا تاکہ ترایح کی نماز تمہارے اوپر فرض ہی نہ کردی جائے۔’’ (مسند احمد مختصراً)
بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی آپصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہی سوال جواب ہواتھا جس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے نورِ بصیرت اور فراست ایمانی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء و مقصد کو سمجھ گئے تھے اور پھر جب نمازِ تراویح کی فرضیت کا امکان بعد میں ختم ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کے اسی منشاء و مقصد اور لوگوں کے شوق کی تکمیل کرتے ہوئے دوبارہ ایک مسجد میں ایک امام کی اقتداء میں بیس رکعت تراویح کا باقاعدہ اجراء فرمایا جو اُس وقت سے لے کر آج تک اور ان شاء اللہ قیامت کی صبح تک شرقاً ،غرباً، شمالاً، جنوباً بدستور باقی رہے گا۔
حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ سحری کھاتے ہوئے اگر آپؐ کسی صحابی کو دیکھ لیتے تو اُسے بھی اپنے ساتھ سحری کھانے کے لئے بلالیتے اور ارشاد فرماتے کہ : ‘‘آؤ! اور برکت کا کھانا کھا لوا!۔’’ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم سحری نوش فرمارہے تھے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک برکت کی چیز ہے جو اللہ نے تم کو عطاء فرمائی ہے اِس کو مت چھوڑنا۔
حضرت معاذ بن زہرہ رحمۃ اللہ علیہ سے مرسلاً روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت یہ دُعاء پڑھتے: ‘‘ أَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَليٰ رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ ’’ترجمہ: اے اللہ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر افطار کیا۔(ابوداؤد)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزہ افطار کرنے کی ابتداء کھجور سے فرماتے تھے۔’’ (سنن نسائی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (مغرب کی )نماز پڑھنے سے پہلے چند کھجوروں سے (روزہ) افطار فرماتے تھے۔ اور اگر کھجوریں نہ ملتیں تو چند چھواروں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اور اگر وہ بھی میسر نہ آتے تو چند گھونٹ پانی سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ (ابوداؤد، ترمذی)
ایک اور روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (مغرب) کی نماز سے پہلے روزہ افطار فرماتے تھے۔ (ترمذی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی روزہ افطار کرنے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا(بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے روزہ افطار فرماتے) اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ سے ہی کیوں نہ ہو۔( اور اُس کے بعد مغرب کی نماز پڑھتے)(صحیح ابن حبان)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہہ بند مضبوط باندھ لیتے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی (عبادت کے لئے) جگاتے۔’’ (صحیح بخاری) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اپنے اہل خانہ کو (عبادت کے لئے) جگاتے تھے۔’’ (ترمذی)
ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اپنا تہہ بند مضبوط باندھ لیتے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار فرماتے تھے۔ ’’ (سنن بیہقی)
ایک اور روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا آخری عشرہ داخل ہونے پر اپنے گھر والوں کو (عبادت کے لئے) جگاتے اور اپنا تہہ بند مضبوط باندھ لیتے تھے۔’’ (مسند احمد)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں جس قدر محنت اور مشقت کے ساتھ عبادت فرمایا کرتے اِس کے علاوہ دوسرے دنوں میں اتنی محنت اور مشقت نہ فرماتے تھے۔’’ (صحیح مسلم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے کہ ‘‘شبِ قدر’’ کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیاکرو!۔’’(صحیح بخاری)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بروایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرہ کا اعتکاف فرمایا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ جس چیز (شبِ قدر) کو آپصلی اللہ علیہ وسلم تلاش فرما رہے ہیں وہ آپصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ کا اعتکاف فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو بتایا گیا کہ جس چیز (شبِ قدر) کو آپصلی اللہ علیہ وسلم تلاش فرمارہے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہے۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا(جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو ‘‘شبِ قدر’’ بتلادی گئی) ’’ (مصنف عبد الرزاق)
٭٭٭


