میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تعلیم کے لیے خوراک کی کٹوتی

تعلیم کے لیے خوراک کی کٹوتی

جرات ڈیسک
پیر, ۲۶ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نئے سروے کے مطابق، گھریلو اخراجات کے انداز میں 20 سالہ موازنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب عام آدمی کا خرچ خوراک سے ہٹ کر مستقل رہائشی اخراجات کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2005 سے 2025 کے درمیان خوراک پر گھریلو اخراجات کا حصہ 43 فیصد سے کم ہو کر 37 فیصد رہ گیا۔ اسی عرصے میں رہائش اور یوٹیلیٹیز پر اخراجات 15 فیصد سے بڑھ کر گھریلو بجٹ کا ایک چوتھائی ہو گئے ہیں۔

گیلپ کے تجزیے کے مطابق، حقیقی آمدنی میں کمی اور خوراک کی مقدار میں کمی کے شواہد کے ساتھ دیکھنے پر یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گھرانے خوراک سستی ہونے کے باعث نہیں بلکہ رہائش اور یوٹیلیٹیز جیسے مستقل اخراجات میں اضافے سے نمٹنے کے لیے اپنی خوراک کم کر رہے ہیں۔ یہ واحد تجزیہ نہیں جو یہ بتاتا ہو کہ پاکستانی خوراک میں کمی کر رہے ہیں۔ HIES 2024-25 کے سروے سے معلوم ہوا کہ 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان درمیانے سے شدید درجے کی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی شرح ہر6 میں سے ایک سے بڑھ کر ہر 4 میں سے ایک ہو گئی ہے۔ اس طرح پاکستانیوں کے لیے حال میں زندہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور مستقبل کے امکانات بھی زیادہ روشن نظر نہیں آتے۔عام آدمی کی جانب سے خوراک پر اخراجات میں کمی سے متعلق یہ رپورٹ پاکستان کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کیلئے کوئی انکشاف نہیں ہے بلکہ طویل عرصے سے حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذوکرائی جاتی رہی ہے کہ ارباب اختیار کی جانب سے تمام ضروری اشیا پربے محابہ ٹیکسوں کے نظام اور اشیائے صرف کی قیمتوں پر کنٹرول سے گریز کی وجہ سے عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کا انتظام مشکل تر ہوتاجارہاہے، زندہ رہنے کے لیے خوراک اور مستقبل کے لیے تعلیم دونوں ناگزیر ہیں،لیکن حکمرانوں کی جانب سے عام آدمی کی حالت زار سے عدم توجہی کی وجہ سے اس وقت پاکستانیوں کے لیے دونوں کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنس (I-SAP) کی ‘‘تعلیم کی عوامی مالی معاونت’’ پر 15ویں سالانہ رپورٹ کے مطابق، ملک کی تاریخ میں پہلی بار تعلیم پر زیادہ تر اخراجات خاندان خود برداشت کر رہے ہیں۔ تعلیم پر مجموعی اخراجات 5.03 کھرب روپے ہیں، جس میں سے 2.8 کھرب روپے گھریلو اخراجات اور 2.23 کھرب روپے سرکاری شعبے کی جانب سے دیے جا رہے ہیں۔ گھریلو اخراجات میں 1.31 کھرب روپے نجی اسکولوں کی فیس، 613 ارب روپے شیڈو ایجوکیشن اور ٹیوشن، اور 878 ارب روپے دیگر جیب سے ادا کیے جانے والے اخراجات شامل ہیں۔

نجی تعلیم کی بڑھتی ہوئی ترجیح اور سرکاری تعلیمی نظام کی مؤثریت سے متعلق بڑے حل طلب مسائل کے پس منظر میں یہ عدم توازن اس بات کو درست ثابت کرتا ہے کہ تعلیم پر اخراجات کے موجودہ رجحانات بنیادی مساوات کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ یہی وہ صورت حال جوتقریباً دو کروڑ بچوں کے اب بھی اسکول سے باہر رہ جانے کی بڑی وجوہات میں ایک بڑی وجہ ہے، تعلیمی اخراجات میں دن بدن ہونے والے بے محابہ اضافے کی صورت حال کو دیکھ کر اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب صرف وہی لوگ تعلیم حاصل کر پائیں گے جو نجی اسکولوں اور ٹیوٹرز کا خرچ اٹھا سکتے ہیں۔

21یں صدی میں بقا اور مسابقت کو سنجیدگی سے لینے والے ممالک کے لیے تعلیم کو عیش و عشرت نہیں سمجھا جا سکتا۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافے کے بغیر پاکستان ڈیجیٹل دور کے لیے درکار انسانی سرمایہ تیار کرنے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہے گا۔ اگراس وقت حال بہت مشکل ہے تومستقبل بھی زیادہ بہتر نظر نہیں آتا تو۔ایسے میں سوال یہی پیداہوتاہے کہ آخر عوام کہاں جا کر سکون تلاش کریں؟

ارباب اختیار کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ حالات اسی طرح نہیں چل سکتے۔ عام لوگوں سے اب یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ خوراک میں کمی کریں تاکہ ایک غیر مؤثر گیس اور بجلی کے نظام کے اخراجات پورے کر سکیں جس پر وہ شدید سردی یا گرمی میں بھی بھروسہ نہیں کر سکتے۔ نہ ہی انہیں ایسے ملک میں رہنے پر مجبور کیا جانا چاہیے جہاں وہ سب سے قیمتی عوامی وسائل پر ان لوگوں سے زیادہ خرچ کریں جو ان وسائل کے انتظام اور بہتری کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ یہ صرف حکومت کے لیے غور کا نکتہ نہیں بلکہ آئی ایم ایف جیسے اداروں کو بھی اس پر توجہ دینی چاہیے۔ بین الاقوامی قرضوں اور بیل آؤٹس کا موجودہ ڈھانچہ بھی بڑی حد تک اس بات کا سبب ہے کہ لوگوں کے لیے کھانا کھانا اور تعلیم حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسا ملک جہاں عملی طور پر یہ بنیادی حقوق یقینی نہ ہوں، اس کے لیے اپنے مالی معاملات کو متوازن کرنا کبھی آسان نہیں ہو سکتا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں