قومی ہاکی ٹیم مینجمنٹ کی سنگین غلطی سے پاکستان کو بھارت سے شکست
شیئر کریں
بھارت کے خلاف آخری لیگ میچ میں مقررہ 5 کے بجائے 6 پاکستانی کھلاڑی میدان میں موجود پائے گئے
قواعد کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کو میچ کا باقی حصہ مقررہ 5 کے بجائے صرف 4 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا
………………………..
عمان کے دارالحکومت مسقط میں جاری ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کوالیفائنگ ایونٹ میں پاکستان ٹیم مینجمنٹ کی بڑی غلطی سامنے آگئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے خلاف آخری لیگ میچ میں مقررہ 5 کے بجائے 6 پاکستانی کھلاڑی میدان میں موجود پائے گئے۔
اس حوالے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں 3 سابق اولمپئنز کی موجودگی کے باوجود فائیو اے سائیڈ ہاکی کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
ٹیم مینجمنٹ میں ہیڈ کوچ قمر ابراہیم کے علاوہ عمر بھٹہ اور ریحان بٹ بھی شامل ہیں۔ بھارت کے خلاف اہم لیگ میچ کے دوران پاکستان کی جانب سے 5 کے بجائے 6 کھلاڑی میدان میں اتارے جانے پر میچ آفیشلز نے فوری نوٹس لیا۔
قواعد کی خلاف ورزی پر ایک پاکستانی کھلاڑی کو یلو کارڈ دکھایا گیا، جس کے نتیجے میں قومی ٹیم کو میچ کا باقی حصہ مقررہ 5 کے بجائے صرف 4 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔
ایک کھلاڑی کم ہونے کے باعث پاکستان کے لیے بھارتی ٹیم کا مقابلہ مزید مشکل ہوگیا اور گرین شرٹس کو میچ میں 3 کے مقابلے میں 7 گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق قواعد کی اس خلاف ورزی کے بعد پاکستان ٹیم کو مزید تادیبی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں جرمانہ یا پابندی شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ایونٹ کا فائنل بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جانا ہے، جس کے باعث معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان ہاکی میں میدان پر اضافی کھلاڑی اتارنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔
اس سے قبل ایشیا کپ کے دوران اولمپئن خواجہ جنید کے ہیڈ کوچ ہوتے ہوئے جاپان کے خلاف میچ میں پاکستان کے 12 کھلاڑی میدان میں ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔اس وقت ہونے والی سنگین غلطی کے پاکستان کی اولمپکس کوالیفکیشن مہم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے تھے اور قومی ٹیم اولمپک گیمز کے لیے جگہ بنانے میں ناکام رہی تھی۔
اب مسقط میں سامنے آنے والی تازہ غلطی نے ایک مرتبہ پھر قومی ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ اور قواعد پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔


